وارانسی توسیعی پروجیکٹ :دالمنڈی میں کریم اللہ بیگ مسجد سمیت پانچ مساجد کو ہٹانے کا عمل شروع

اتر پردیش کے تاریخی شہر وارانسی میں دالمنڈی توسیعی منصوبے کے تحت بدھ کے روز مذہبی مقامات کے خلاف مسماری کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے اس توسیعی منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھے جانے والے مذہبی ڈھانچوں کو ہٹانے کا عمل شروع کیا گیا ہے، جس کی پہلی زد دالمنڈی کی قدیم کریم اللہ بیگ مسجد پر پڑی ہے۔ مقامی انتظامیہ اور مساجد کے متولیوں و ذمہ داران کے درمیان طویل مذاکرات اور باہمی معاہدے کے بعد اس حساس کارروائی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رہے اور ترقیاتی کام بھی متاثر نہ ہو۔

دالمنڈی توسیعی منصوبے کے تحت مجموعی طور پر چھ مذہبی مقامات سمیت 187 عمارتوں کو کارروائی کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اب تک 140 سے زائد نجی اور تجارتی عمارتوں پر کارروائی مکمل کی جا چکی ہے اور متاثرہ فریقین کے درمیان 60 کروڑ روپے سے زائد کی معاوضہ رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔ بدھ کے روز شروع ہونے والے اس نئے مرحلے میں کریم اللہ بیگ مسجد کے علاوہ مسجد نثاران، سنگ مرمر والی مسجد اور علی رضا مسجد کو بھی شامل کیا گیا ہے، جہاں انتظامیہ اور مسجد کمیٹیوں کے باہمی اتفاق رائے کے بعد کام شروع ہوا ہے۔ تاہم، لنگڑا حافظ مسجد کے خلاف فی الحال کسی قسم کی کارروائی شروع نہیں کی جا سکی ہے۔

یہ پورا معاملہ وارانسی کے دالمنڈی علاقے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔ تقریباً 215 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے اس پروجیکٹ کے تحت 181 سے زائد عمارتوں کو پہلے ہی نشان زد کر کے نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد بابا وشوناتھ مندر کے لیے ایک مخصوص اور کشادہ راستہ فراہم کرنا ہے، جس کے لیے 650 میٹر طویل اور 60 فٹ چوڑی سڑک تعمیر کی جائے گی۔ اس مجوزہ سڑک کے دونوں اطراف 15 فٹ چوڑے فٹ پاتھ بھی بنائے جائیں گے تاکہ زائرین اور سیاحوں کو آمد و رفت میں آسانی ہو اور ایک جدید سیاحتی راہداری وجود میں آ سکے۔

اس منصوبے کے سماجی اور اقتصادی اثرات مقامی مسلم کمیٹیوں اور تاجروں کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ دالمنڈی کا علاقہ روایتی طور پر ہینڈلوم، دستکاری اور مقامی مصنوعات کا ایک بڑا مرکز رہا ہے، جہاں مسلم کاریگروں اور تاجروں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اس توسیعی منصوبے کے بعد یہاں مقامی مصنوعات کے لیے ایک وسیع تر مارکیٹ دستیاب ہوگی، جس سے دستکاری کی صنعت کو فروغ ملے گا۔ دوسری جانب، مذہبی مقامات کی مسماری کے حوالے سے مسلم برادری میں تشویش اور گہری حساسیت پائی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے متولیوں کو اعتماد میں لینا ناگزیر سمجھا گیا۔

آنے والے دنوں میں انتظامیہ کی جانب سے بقیہ نشان زدہ مساجد اور عمارتوں کے خلاف کارروائی کو مزید تیز کیے جانے کا امکان ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی بلدیاتی حکام کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں تاکہ انہدامی عمل کو پرامن طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔ مسلم کمیٹیوں کے ذمہ داران صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور معاوضے کے ساتھ ساتھ مساجد کی متبادل جگہوں یا ان کی منتقلی کے قانونی و شرعی پہلوؤں پر بھی غور و خوض کیا جا رہا ہے تاکہ کمیٹی کے حقوق اور مذہبی آزادی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

شیئر کریں۔