کرناٹک میں ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) مہم کے باضابطہ آغاز کے ساتھ ہی ریاست میں شدید سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ کرناٹک کے وزیر داخلہ پرینکا کھرگے نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای آئی سی) پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی ادارہ مرکز میں برسراقتدار بی جے پی کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن چکا ہے۔ انہوں نے سخت برہمی کا اظہار کیا کہ کانگریس پارٹی کی جانب سے اس مہم کی شفافیت اور طریقہ کار کے حوالے سے اٹھائے گئے 12 اہم اور قانونی سوالات کا الیکشن کمیشن نے کوئی جواب نہیں دیا، جس سے اس پورے عمل کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
بنگلور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرینکا کھرگے نے واضح کیا کہ کانگریس پارٹی ووٹر لسٹ کی صفائی یا اس کی درستگی کے خلاف نہیں ہے، بلکہ وہ صرف یہ چاہتی ہے کہ انتخابی فہرستوں کی تیاری کا یہ حساس کام مکمل طور پر درست، آئینی اور شفاف طریقے سے انجام پائے تاکہ کسی بھی حقیقی شہری کا نام خارج نہ ہو۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ بتائے کہ کانگریس کے اٹھائے گئے 12 سوالات میں سے کون سا سوال غیر منطقی، غیر آئینی یا غیر قانونی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ اگر اپوزیشن کو اس مہم پر کوئی شبہات ہیں تو کیا وہ اپنے خطوط بی جے پی کے دفتر میں جمع کرائیں؟ کیونکہ جب بھی الیکشن کمیشن یا آر ایس ایس سے کوئی سوال پوچھا جاتا ہے، تو جواب بی جے پی کی طرف سے آتا ہے۔
وزیر داخلہ نے دیگر ریاستوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال، بہار، تمل ناڈو اور کیرلا میں اس مہم کے دوران بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں اور خامیاں سامنے آئی ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں جائز ووٹرز شدید پریشانی کا شکار ہوئے۔ مغربی بنگال میں ’لاجیکل ڈسکریپینسی‘ یعنی منطقی تضاد کے نام پر لاکھوں شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیے گئے، جس کے خلاف ایک ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج کی سربراہی میں قائم ٹریبونل میں 27 لاکھ سے زائد اپیلیں دائر کی گئیں۔ کھرگے نے الزام لگایا کہ یہ پورا عمل شہریوں سے ان کا بنیادی جمہوری حق چھیننے کی ایک منظم کوشش ہے۔
پرینکا کھرگے نے مرکزی حکومت پر جمہوریت کے ستونوں کو ہدف بنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پہلے چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کے پینل سے چیف جسٹس آف انڈیا کو ہٹا کر ایک کابینہ وزیر کو شامل کیا گیا تاکہ پینل پر وزیر اعظم کی مرضی چل سکے۔ اس کے بعد پارلیمنٹ کے 80 اراکین کو معطل کر کے چیف الیکشن کمشنر کو ایک نئے قانون کے ذریعے عدالتی استثنیٰ فراہم کر دیا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب ان کے کسی بھی فیصلے کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ کھرگے کے مطابق، اسی عدالتی تحفظ کے بعد اس مہم کو نافذ کیا گیا ہے تاکہ انتخابی حلقوں کے جغرافیائی اور آبادیاتی توازن کو سیاسی فائدے کے لیے تبدیل کیا جا سکے۔
موجودہ صورتحال کے پیش نظر، کرناٹک کی کانگریس حکومت نے اپنے خدشات الیکشن کمیشن اور ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر تک پہنچا دیے ہیں۔ ریاستی کابینہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹروں کو فارم جمع کرنے کے لیے دیا گیا ایک ماہ کا وقت ناکافی ہے اور اسے بڑھا کر کم از کم تین ماہ کیا جائے، ساتھ ہی اس عمل میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر اور الگورتھم کی تفصیلات بھی عوامی کی جائیں۔ پرینکا کھرگے نے خبردار کیا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن کی جانب سے ان جائز خدشات کا فوری اور تسلی بخش جواب موصول نہیں ہوا، تو ریاستی حکومت معصوم شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے دستیاب تمام قانونی اور آئینی راستے اختیار کرنے پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔




