واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک اہم اور تزویراتی اعلان میں واضح کیا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری تعاون (US-Saudi Civil Nuclear Agreement) کو پیش رفت کی اجازت صرف اسی صورت میں ملے گی جب ریاض ‘معاہدۂ ابراہیمی’ (Abraham Accords) میں باضابطہ شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات بحال کرے گا۔ امریکی صدر کے اس بیان نے مشرق وسطیٰ کی سیاست اور امریکہ کی خارجہ پالیسی کے گلیاروں میں ایک بار پھر نئ بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس حالیہ اعلان کے فوراً بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ پرامن جوہری توانائی کے فروغ کے لیے تیار کیا گیا معاہدہ منظوری کے لیے عنقریب امریکی کانگریس میں پیش کیا جائے گا۔ اس مجوزہ پیش رفت کے تحت سعودی عرب میں امریکی تکنیکی تعاون سے جوہری توانائی کے منصوبے قائم کیے جانے ہیں، تاہم صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان نے اس کی حتمی منظوری کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات سے براہ راست جوڑ دیا ہے۔
دوسری جانب، امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے اس جوہری تعاون پر اسرائیل کے سیاسی حلقوں میں شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے واشنگٹن اور ریاض کے درمیان جاری پیش رفت کو وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی "بدترین سفارتی ناکامی” قرار دیا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ نیتن یاہو سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو اپنی حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ بتاتے رہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ واشنگٹن نے تل ابیب کو کوئی واضح سفارتی فائدہ پہنچائے بغیر ہی ریاض کے ساتھ اتنے بڑے ایٹمی تعاون کی راہ ہموار کر دی۔ اپوزیشن کے مطابق بغیر کسی ضمانت کے عرب خطے میں سول ایٹمی صلاحیت کا قیام مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
اس تمام بین الاقوامی دباؤ کے باوجود مملکتِ سعودی عرب کا اصولی اور تاریخی موقف بدستور واضح ہے۔ ریاض انتظامیہ متعدد بین الاقوامی فورمز پر یہ اعادہ کر چکی ہے کہ جب تک ۱۹۶۷ء کی سرحدوں کے مطابق خود مختار اور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہیں آتا اور فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی ضمانت نہیں دی جاتی، تب تک اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے سفارتی تعلقات کا قائم ہونا ناگزیر حد تک ناممکن ہے۔
سنہ ۲۰۲۰ء میں ٹرمپ انتظامیہ کی ثالثی میں طے پانے والے ‘معاہدۂ ابراہیمی’ کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کر لیے تھے، تاہم عالمی سطح پر مسلم امت کے اہم مرکز سعودی عرب نے فلسطینی کاز پر سمجھوتہ کرنے سے مسلسل انکار کیا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پس منظر میں سعودی عرب کا یہ موقف اور بھی مضبوط ہوا ہے، جس کے باعث امریکہ کے لیے جوہری سفارت کاری اور مشرق وسطیٰ کی سیاست میں توازن قائم رکھنا ایک پیچیدہ چیلنج بن چکا ہے۔




