نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا میں متھرا کے تاریخی شاہی عیدگاہ مسجد اور کرشن جنم بھومی سے متعلق جاری قانونی تنازعہ کی سماعت بدھ کے روز ملتوی کر دی گئی۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس حساس اور اہم ترین معاملے کی آئندہ سماعت کے لیے 12 اگست 2026 کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اس مقدمے میں نہ صرف زمین کے حقِ ملکیت کا اصل تنازع زیر غور ہے، بلکہ ہندو فریق کی جانب سے دائر مختلف عرضیوں میں سے ‘نمائندہ دعوے’ (Representative Suit) کے تعین کا پیچیدہ قانونی معاملہ بھی سپریم کورٹ کے سامنے ہے۔
دستیابوں رپورٹوں کے مطابق، اس وقت سب سے بڑا قانونی سوال یہ اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ مختلف عرضی گزاروں کے دعووں میں سے کسے بنیادی نمائندہ دعویٰ تسلیم کیا جائے۔ اس سے قبل الٰہ آباد ہائی کورٹ نے دعویٰ نمبر 17 کو نمائندہ دعویٰ قرار دیا تھا، لیکن دیگر عرضی گزاروں نے اس پر اعتراض اٹھایا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ تمام فریقین کے قانونی نکات اور حقائق مختلف ہیں، اس لیے محض ایک دعوے کو بنیاد بنا کر دیگر تمام مقدمات کی نمائندگی کا درجہ دینا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔ سپریم کورٹ اب اگست میں ان تمام تکنیکی اور قانونی پہلوؤں پر تفصیلی غور کرے گی۔
واضح رہے کہ شاہی عیدگاہ مسجد اور اس سے متصل زمین کا یہ تنازعہ کئی برسوں سے عدالتوں میں زیر سماعت ہے اور ملک کی اقلیتی برادری کے مذہبی مقامات کے تحفظ کے حوالے سے اسے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد مغل دور میں ایک قدیم مندر کو منہدم کر کے اس جگہ بنائی گئی تھی جسے وہ بھگوان شری کرشن کی جائے پیدائش مانتے ہیں۔ اس بنیاد پر وہ زمین کی ملکیت اور وہاں پوجا کے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، مسلم فریق یعنی شاہی عیدگاہ انتظامیہ اور سنی مرکزی وقف بورڈ نے اس دعوے کی سخت مخالفت کی ہے اور مسجد کی تاریخی و قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔ مسلم فریق کا مؤقف ہے کہ یہ پورا معاملہ سن 1968 میں دونوں فریقین کے درمیان ہونے والے ایک باقاعدہ اور قانونی معاہدے کے تحت ہمیشہ کے لیے طے پا چکا تھا۔ لہٰذا، دہائیوں بعد اس تنازعہ کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوئی قانونی اور آئینی بنیاد موجود نہیں ہے۔ مسلم فریق نے پلیسز آف ورشپ ایکٹ (Places of Worship Act 1991) کا حوالہ بھی دیا ہے جو تمام مذہبی مقامات کی 15 اگست 1947 والی حیثیت کو برقرار رکھنے کی ضمانت دیتا ہے۔
اس حساس معاملے کے پیش نظر، شاہی عیدگاہ انتظامیہ کے سکریٹری اور قانونی وکیل تنویر احمد نے عوام اور تمام فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ زیر سماعت مقدمے کے دوران کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز یا جذباتی بیانات سے مکمل گریز کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسجد اور مندر کے داخلی راستے بالکل الگ ہیں، جہاں مسجد میں پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا ہوتی ہے اور مندر میں پوجا پاٹھ کا سلسلہ چلتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ مقام برسوں سے مذہبی ہم آہنگی کی ایک بہترین مثال رہا ہے، اس لیے سب کو عدالتی عمل کا احترام کرنا چاہیے اور ملک میں امن و امان برقرار رکھنا چاہیے۔




