ایرانی اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک بار پھر امریکہ کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’دشمن کے وعدے پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، صرف عملی نتائج اہم ہیں ‘‘ یہ بات’’ آئی آر این اے ‘‘کے مطابق رپورٹ ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی معاہدے کو اس وقت تک قبول نہیں کیا جائے گا جب تک ’قوم کے حقوق محفوظ نہ ہو جائیں۔ ‘
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک انتہائی اسٹائلائزڈ اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شیئر کی، جس میں انہیں ایک شاندار فوجی وردی میں دکھایا گیا ہے اور وہ سامنے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اس پوسٹ کے ساتھ ایک پراسرار کیپشن بھی تھا:’’YOU’RE GETTING DISCOMBOBULATED‘‘اس ڈرامائی گرافک کے پس منظر میں لڑاکا طیارے آسمان میں اڑتے دکھائے گئے ہیں جبکہ امریکی پرچم والے جنگی بحری جہاز طوفانی سمندر میں حرکت کر رہے ہیں۔ یہ پوسٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مغربی ایشیا میں جیوپولیٹیکل حالات انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور ایران اور امریکہ کے درمیان طویل المدتی امن کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
ایرانی مذاکرات میں کوئی جلدی نہیں، فوجی کارروائی کا آپشن موجود ہے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کیلئے کوئی جلدی میں نہیں ہیں بلکہ فوجی کارروائی ابھی بھی بطور آپشن موجود ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے فاکس نیوز کے ساتھ انٹرویو کے دوران کہا کہ ہم جو چاہتے ہیں وہ آہستہ آہستہ حاصل کر رہے ہیں۔ مذکراتی فریق بہت سخت ہے۔ اس میں کافی وقت لگتا ہے۔ مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں ہم جو چاہتے ہیں اور اگر ہمیں وہ نہیں ملتا تو ہم اسے ایک اور طریقے سے حاصل کرنے والے ہیں۔
اس سے قبل نیویارک ٹائمز نے تین امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان بار بار بھیجی جانے والی تازہ ترین تجاویز کا جواب دیا ہے تاہم یہ فوری طور پر واضح نہیں ہے کہ اس تجویز میں کیا تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ امریکی آؤٹ لیٹ کے مطابق دو اہلکاروں نے بتایا کہ ٹرمپ ایرانیوں کے فنڈز کو غیر منجمد کرنے کے بارے میں فکر مند تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک معاہدہ کرنے کو ترجیح دیں گے کیونکہ یہ آبنائے ہرمز کو ’فوری طور پر‘ کھول دے گا، باوجود اس کے کہ ایران کی فوج کو ’بنیادی طور پر شکست ہوئی۔ ‘
امریکہ-ایران امن معاہدہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے ایلچیوں اور ایرانی نمائندوں کے درمیان ہونے والے معاہدے میں کئی ترامیم کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ بات Axios نے ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار اور ایک دوسرے ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے ٹیم کو ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق شقوں میں تبدیلیاں کرنے کا کہا ہے۔
موجودہ مسودے میں ایران کے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا ذکر ہے، لیکن اس کے علاوہ کوئی بڑی شرائط شامل نہیں۔ اس میں ۶۰؍ دن کا وقت دیا گیا ہے جس میں ایران کے جوہری معاملات اور امریکہ کی پابندیوں میں نرمی پر مذاکرات ہونے ہیں، جن میں سب سے پہلے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ٹھکانے لگانے اور مزید افزودگی کو محدود کرنے کے طریقے شامل ہیں۔ ٹرمپ اس حصے میں مزید وضاحت چاہتے ہیں۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے Axios کو بتایا: ’’یہ زیادہ تفصیلات ہیں کہ امریکہ مواد (یورینیم ذخیرہ) کیسے حاصل کرے گا اور اس کی ٹائمنگ کیا ہوگی۔ ‘‘ٹرمپ نے آبنائے ہرمزکے دوبارہ کھولنے سے متعلق زبان میں بھی تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران کو جواب دینے میں تقریباً تین دن لگ سکتے ہیں۔ ایک عہدیدار نے کہا: ’’ہفتے کے آغاز تک ہمیں کچھ نتیجہ ملنے کی امید ہے۔ ‘‘
امریکہ کا ہرمز پر مؤقف
امریکہ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایسے کسی بھی معاہدے کی اجازت نہیں ہوگی جس میں آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ شامل ہو، چاہے اس میں کوئی فیس ہی کیوں نہ دی جائے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے۲۹؍ مئی کی ایک تازہ بیان میں کہا:’’چاہے کوئی ادائیگی کی جائے یا نہ کی جائے، امریکی افراد کو ایران کی حکومت سے خدمات لینے کی اجازت نہیں، بشمول محفوظ گزرگاہ سے متعلق خدمات۔ ‘‘محکمہ خزانہ کے مطابق ہرمز سے جہاز رانی جو خلیج فارس کی توانائی سپلائی کو دنیا سے جوڑتی ہے—ایران جنگ کے آغاز کے بعد تقریباً رک گئی ہے، جس سے تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
امریکہ نے یہ بھی کہا کہ ایران نے’’Persian Gulf Strait Authority‘‘ کے نام سے ایک نیا ادارہ بنایا ہے جو جہازوں سے ٹول وصول کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور اس پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
پیٹ ہیگستھ کی ایران کو وارننگ
سنگاپور میں ایک دفاعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکہ دوبارہ جنگ شروع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے پاس کافی اسلحہ موجود ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بھی ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی اثاثے خطے میں موجود اور الرٹ ہیں۔ یہ سخت بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب امن مذاکرات کے بارے میں متضاد اشارے مل رہے ہیں۔
امن معاہدے پر ملے جلے اشارے
وہائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ایک ابتدائی فریم ورک کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ ایران نے کہا ہے کہ ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔ اپریل میں ہونے والی ایک عارضی جنگ بندی برقرار ہے، لیکن خطے میں کشیدگی اب بھی موجود ہے۔ ایران کی ’ آئی آر این اے ‘‘نیوز ایجنسی کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایک ڈرون مار گرایا ہے، جسے’امریکہ-صیہونی دشمن‘کا ڈرون قرار دیا گیا ہے۔
اسرائیل-لبنان صورتحال
ساتھ ہی لبنان سے متعلق سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کسی بھی بڑے امریکہ-ایران معاہدے کی شرط ہونی چاہئے۔ اس دوران اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی وقت اسرائیل اور لبنان کے نمائندے پینٹاگون میں مذاکرات کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کے مطالبات اور ایران کا ردعمل
ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ معاہدے میں یہ یقینی ہونا چاہئے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولا جائے گا۔ ایران نے ان شرائط کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی ’امریکی حکم‘کو قبول نہیں کرے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا:’’ہم نے۴۷؍ سال پہلے ’لازمی‘ (must) کی زبان کو الوداع کہہ دیا تھا۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکہ کے ساتھ رابطے جاری ہیں، لیکن کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔ مزید یہ کہ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی اب بھی جاری ہے اور جہازوں کو مسلسل وارننگ دی جا رہی ہے۔




