مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے نام پر لاکھوں شہریوں کو حق رائے دہی سے محروم کیے جانے کا ایک انتہائی چونکا دینے والا اور سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ مشہور انگریزی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کے سابق ایڈیٹر اور معروف عوامی شخصیت آر راج گوپال بھی اس سرکاری مہم کی قہر سامانیوں کا شکار ہو گئے ہیں، جن کا نام پہلے ووٹر لسٹ سے حذف کیا گیا اور اب کولکاتا پولیس کی منفی رپورٹ کی بنیاد پر ان کا پاسپورٹ بھی بلاک کر دیا گیا ہے۔ اس واقعے نے ملک کی بیوروکریسی، الیکشن کمیشن کے طریقہ کار اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا سمیت ملک کی تمام بڑی اپوزیشن جماعتوں نے اس کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق، رواں سال مارچ میں کولکاتا کے بالی گنج اسمبلی حلقے کی ووٹر لسٹ سے آر راج گوپال کا نام ’منطقی تضادات‘ (لوجیکل ڈسکریپینسیز) کا حوالہ دے کر خارج کر دیا گیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے بظاہر یہ عجیب و غریب وجہ بتائی گئی کہ ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ میں نہ تو ان کا نام ملا اور نہ ہی ان کے آنجہانی والد کا، جو کہ گاندھیائی نظریات کے حامل ایک ریٹائرڈ پروفیسر اور کیرالہ میں گاندھی اسمارک ندھی کے سیکریٹری رہ چکے تھے۔ راج گوپال نے اپنے میٹرک کے سرٹیفکیٹ سمیت کئی اہم دستاویزات پیش کیں، لیکن بیوروکریسی نے انہیں تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کا براہ راست اثر یہ ہوا کہ وہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال نہیں کر سکے۔
ووٹر لسٹ سے نام کٹنے کا اثر ان کے پاسپورٹ کی تجدید پر بھی پڑا۔ راج گوپال نے ۱۹؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو پاسپورٹ کی تجدید کے لیے بائیومیٹرک کی تمام کارروائیاں مکمل کر لی تھیں، لیکن کولکاتا پولیس نے صرف اس بنیاد پر منفی رپورٹ بھیج دی کہ ان کا نام ووٹر لسٹ میں موجود نہیں ہے۔ متبادل دستاویزات کو نا کافی قرار دیے جانے کے باعث وہ ۱۷؍ اپریل کو امریکہ کے شہر سان فرانسسکو میں اپنی بیٹی کی شادی میں بھی شریک نہیں ہو سکے، جبکہ ان کے پاس پہلے سے ۱۰؍ سال کا امریکی ویزا موجود تھا۔ اب پاسپورٹ اتھارٹی نے انہیں ۱۷؍ جولائی کو پیش ہونے کا وقت دیا ہے، جس کے باعث وہ ایک شدید غیر یقینی اور ذہنی اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس واقعے پر ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آر راج گوپال جیسی معروف شخصیت، جنہیں کولکاتا پولیس اور عوامی حلقے اچھی طرح جانتے ہیں، اس بیوروکریٹک ظلم کا شکار ہو سکتی ہے تو معاشرے کے غریب، پسماندہ اور محروم طبقات کا کیا حال ہوتا ہوگا، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ گلڈ نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ہمدردی اور منطق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی ووٹر حیثیت بحال کرے۔ دوسری جانب، کانگریس، ترنمول کانگریس، سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم) جیسی اپوزیشن جماعتوں نے بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دہائیوں پرانے میٹرک سرٹیفکیٹ اور خاندانی ریکارڈ مانگ کر غریب اور کمزور طبقات کو منظم طریقے سے حق رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے۔
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے قبل شروع کی گئی اس ہنگامی مہم کے دوران ابتدائی طور پر ۶۱؍ لاکھ اور بعد میں تقریباً ۹۱؍ لاکھ ووٹرز کے نام خارج کیے گئے، جو ریاست کے مجموعی ووٹرز کا تقریباً ۱۱.۹ فیصد بنتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اگرچہ مئی میں اس نظرثانی کو آئینی قرار دیا تھا، لیکن عدالت عظمیٰ نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ووٹر لسٹ کی جانچ کا مقصد کسی شخص کی شہریت کا فیصلہ کرنا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ وزارت خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ پاسپورٹ صرف ایک سفری دستاویز ہے نہ کہ شہریت کا ثبوت، اس کے باوجود پولیس اور انتخابی حکام کی جانب سے شہریوں کو اس طرح ہراساں کیے جانے پر قانونی اور سماجی حلقوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔




