کرن بیر سنگھ سدھو
وزارتِ خارجہ کے ایک بیان نے ملک بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ہندوستانی پاسپورٹ صرف سفر کی دستاویز ہے، شہریت کا ثبوت نہیں۔
یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی جاری ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر پاسپورٹ بھی شہریت کا ثبوت نہیں تو پھر آخر کون سی دستاویز کسی شخص کے ہندوستانی شہری ہونے کو ثابت کرتی ہے۔
قانون جاننے والوں کے لیے وزارتِ خارجہ کی یہ بات نئی نہیں تھی۔ یہ قانونی حقیقت کئی دہائیوں سے موجود ہے، مگر پہلی مرتبہ اسے اس وضاحت کے ساتھ عوام کے سامنے رکھا گیا ہے۔ اس نے ایک ایسے مسئلے کو بھی نمایاں کر دیا ہے جس پر اب تک زیادہ توجہ نہیں دی گئی تھی، یعنی شناخت اور شہریت ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
ملک میں روزمرہ استعمال ہونے والی کوئی بھی ایسی سرکاری دستاویز نہیں جسے ہر صورت میں ہندوستانی شہریت کا حتمی ثبوت قرار دیا جا سکے۔
وزارتِ خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ صرف 2025 کے دوران ایک کروڑ انتالیس لاکھ پاسپورٹ جاری کیے گئے، جبکہ پاسپورٹ سے متعلق مختلف خدمات سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ افراد مستفید ہوئے۔ جب اتنی بڑی تعداد میں پاسپورٹ جاری کیے جا رہے ہوں تو یہ تصور کرنا درست نہیں کہ ہر پاسپورٹ حکومت کی طرف سے شہریت کی مکمل قانونی جانچ کے بعد جاری کیا گیا حتمی سرٹیفکیٹ ہے۔
قانون بھی یہی کہتا ہے۔
پاسپورٹ ایکٹ 1967 کی دفعہ 20 کے تحت بعض مخصوص حالات میں مرکزی حکومت کسی ایسے شخص کو بھی ہندوستانی پاسپورٹ جاری کر سکتی ہے جو ہندوستانی شہری نہ ہو۔ یہی ایک قانونی حقیقت اس بات کے لیے کافی ہے کہ صرف پاسپورٹ کی بنیاد پر کسی شخص کو ہندوستانی شہری قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس لیے وزارتِ خارجہ نے کوئی نئی بات نہیں کہی، بلکہ برسوں سے موجود قانونی حقیقت کی دوبارہ یاد دہانی کرائی ہے۔
کیا ہندوستان میں پیدا ہونے والا ہر شخص شہری ہوتا ہے؟
میری پیدائش 31 جولائی 1961 کو پنجاب کے شہر بھٹنڈہ میں ہوئی۔ اس وقت نافذ قانون کے مطابق صرف ہندوستان میں پیدا ہونا ہی ہندوستانی شہریت حاصل کرنے کے لیے کافی تھا۔ میرے والدین کون تھے یا ان کی قانونی حیثیت کیا تھی، اس کی کوئی جانچ نہیں ہوتی تھی۔
اس زمانے میں شہریت کا اصول صرف جائے پیدائش پر قائم تھا۔ یعنی جو شخص ہندوستان میں پیدا ہوا، وہ بلا کسی شرط کے ہندوستانی شہری سمجھا جاتا تھا۔
آج قانون بدل چکا ہے۔
پارلیمنٹ نے مختلف اوقات میں شہریت کے قانون میں ترامیم کیں اور رفتہ رفتہ اس اصول کو محدود کر دیا۔ اب ہندوستان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ خود بخود ہندوستانی شہری نہیں بنتا۔ آج اس کا فیصلہ اس بات پر ہوتا ہے کہ پیدائش کے وقت اس کے والدین کی قانونی حیثیت کیا تھی۔
یہ تبدیلی ایک دن میں نہیں آئی، بلکہ کئی قانونی مراحل سے گزر کر موجودہ صورت اختیار کی۔
1950 میں آئین نے شہریت کا مسئلہ کیسے حل کیا؟
26 جنوری 1950 کو جب ہندوستان کا آئین نافذ ہوا تو سب سے پہلا سوال یہی تھا کہ کن لوگوں کو ہندوستان کا شہری مانا جائے۔
اس کا جواب آئین کے آرٹیکل 5، 6 اور 7 میں دیا گیا۔
یہ دفعات محض قانونی اصولوں کی بنیاد پر نہیں بنائی گئیں بلکہ تقسیمِ ہند کے بعد پیدا ہونے والے غیر معمولی حالات کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی تھیں۔
آرٹیکل 5 کے مطابق وہ لوگ ہندوستانی شہری قرار پائے جو آئین کے نفاذ کے وقت ہندوستان میں مستقل طور پر رہتے تھے اور یا تو خود ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے، یا ان کے والدین میں سے کوئی ایک یہاں پیدا ہوا تھا، یا وہ گزشتہ پانچ برس سے مسلسل ہندوستان میں مقیم تھے۔
آرٹیکل 6 اور 7 میں ان لوگوں کی شہریت کا تعین کیا گیا جو تقسیم کے دوران پاکستان سے ہندوستان آئے یا ہندوستان سے پاکستان جا کر دوبارہ واپس لوٹے۔
یہ انتظام صرف ابتدائی مرحلے کے لیے تھا۔
اس کے بعد شہریت سے متعلق تمام معاملات شہریت ایکٹ، 1955 کے تحت طے ہونے لگے، جس میں بعد کے برسوں میں کئی اہم ترامیم کی گئیں۔ انہی ترامیم نے موجودہ شہریت کے نظام کی بنیاد رکھی۔
پیدائشی شہریت کے قانون میں تین بڑی تبدیلیاں
26 جنوری 1950 سے 30 جون 1987 تک قانون بالکل واضح تھا۔ اس عرصے میں ہندوستان میں پیدا ہونے والا ہر شخص، خواہ اس کے والدین کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہوں، پیدائشی طور پر ہندوستانی شہری سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت شہریت کا انحصار صرف جائے پیدائش پر تھا۔
تاہم 1980 کی دہائی میں حالات بدلنے لگے۔ خاص طور پر آسام اور مشرقی ہندوستان میں غیر قانونی دراندازی کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا۔ اس کے نتیجے میں پارلیمنٹ نے پہلی مرتبہ پیدائشی شہریت کے قانون میں ترمیم کی۔
1986 کی ترمیم، جو یکم جولائی 1987 سے نافذ ہوئی، کے بعد صرف ہندوستان میں پیدا ہونا کافی نہیں رہا۔ اب یہ شرط عائد کر دی گئی کہ بچے کی پیدائش کے وقت اس کے والدین میں سے کم از کم ایک کا ہندوستانی شہری ہونا ضروری ہے۔
اس ترمیم کے ساتھ ہندوستان نے پیدائش کی بنیاد پر ملنے والی غیر مشروط شہریت کے اصول سے پہلا قدم پیچھے ہٹا لیا۔
اس کے بعد 2003 میں ایک اور اہم ترمیم کی گئی، جو 3 دسمبر 2004 سے نافذ ہوئی۔ اس ترمیم نے قانون کو مزید سخت بنا دیا۔
اب ہندوستان میں پیدا ہونے والا بچہ صرف دو صورتوں میں پیدائشی طور پر ہندوستانی شہری مانا جاتا ہے۔ پہلی یہ کہ اس کے دونوں والدین ہندوستانی شہری ہوں، اور دوسری یہ کہ والدین میں سے ایک ہندوستانی شہری ہو جبکہ دوسرا غیر قانونی تارکِ وطن نہ ہو۔
اس ایک شرط نے شہریت کے قانون کی سمت ہی بدل دی۔
آج اگر کسی بچے کے والدین میں سے ایک غیر قانونی تارکِ وطن ہو تو، خواہ اس بچے کی پیدائش ہندوستان میں ہی کیوں نہ ہوئی ہو، وہ خود بخود ہندوستانی شہریت کا حق دار نہیں بنتا۔
یوں ہندوستان نے رفتہ رفتہ جائے پیدائش کی بنیاد پر شہریت دینے کے نظام سے ہٹ کر والدین کی قانونی حیثیت کو بنیادی معیار بنا دیا۔
جب ایک بچہ کسی بھی ملک کا شہری نہ رہے
اس قانون کے کچھ ایسے نتائج بھی سامنے آتے ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
فرض کریں ایک بچے کا والد ہندوستانی شہری ہے، لیکن اس کی والدہ غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش سے ہندوستان آئی تھی۔ موجودہ قانون کے مطابق وہ بچہ، اگرچہ ہندوستان میں پیدا ہوا ہے، پھر بھی پیدائشی طور پر ہندوستانی شہری نہیں مانا جائے گا۔
ایسی صورت میں اس کے لیے بعد میں رجسٹریشن کے ذریعے شہریت حاصل کرنا بھی آسان نہیں رہتا، کیونکہ قانون غیر قانونی تارکِ وطن کے معاملے میں سخت شرائط عائد کرتا ہے۔
دوسری طرف اگر والدہ کا آبائی ملک بھی اسے اپنا شہری تسلیم نہ کرے تو وہ بچہ عملی طور پر بے وطن ہو سکتا ہے، یعنی ایسا شخص جسے کوئی بھی ملک اپنا شہری نہ مانے۔
یہ صرف ایک فرضی صورتِ حال نہیں ہے۔
سرحدی ریاستوں، خصوصاً آسام، مغربی بنگال، پنجاب اور راجستھان میں انتظامیہ کو اس نوعیت کے معاملات کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔
مجھے بھی اپنے سرکاری دورِ ملازمت میں ایسے کئی معاملات دیکھنے کا موقع ملا، جہاں کسی شخص کی شناخت سے زیادہ پیچیدہ سوال اس کی شہریت کا ہوتا تھا۔ اس زمانے میں قانون نسبتاً نرم تھا، لیکن موجودہ قانونی ڈھانچے میں ایسے معاملات پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں۔
اسی تناظر میں سپریم کورٹ نے سربانند سونوال بنام یونین آف انڈیا (2005) کے مقدمے میں قرار دیا تھا کہ غیر قانونی دراندازی کی روک تھام ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر اس قانون میں انسانی بنیادوں پر کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس کی جائے تو اس کا فیصلہ پارلیمنٹ ہی کر سکتی ہے، عدالت نہیں۔
تبتی مہاجرین کے مقدمات نے قانون کی کیا تشریح کی؟
پیدائشی شہریت کے قانون کی سب سے اہم عدالتی تشریح تبتی مہاجرین سے متعلق مقدمات میں سامنے آئی۔ ان فیصلوں نے واضح کر دیا کہ کسی شخص کی شہریت کا فیصلہ اس تاریخ سے ہوگا جس دن وہ پیدا ہوا، نہ کہ موجودہ قانون کی بنیاد پر۔
2010 میں دہلی ہائی کورٹ نے نمگیال ڈولکر کے مقدمے میں فیصلہ دیا کہ چونکہ ان کی پیدائش 1986 میں ہوئی تھی، اس لیے وہ پیدائشی طور پر ہندوستانی شہری ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اس وقت نافذ قانون کے مطابق ہندوستان میں پیدا ہونا ہی شہریت کے لیے کافی تھا، اس لیے ان کے والدین کی شہریت اس معاملے میں اہم نہیں تھی۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ انہیں ہندوستانی پاسپورٹ جاری کیا جائے۔
اسی اصول کو 2016 میں فنٹسوک وانگیال کے مقدمے میں بھی دہرایا گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی شخص کو قانون کے مطابق پیدائشی شہریت حاصل ہے تو محض سرکاری ریکارڈ میں اسے "غیر ملکی” قرار دینے سے اس کا حق ختم نہیں ہو جاتا۔
ان عدالتی فیصلوں کے بعد سرکاری پالیسی میں بھی تبدیلی آئی۔
2014 میں الیکشن کمیشن نے ہدایت جاری کی کہ یکم جولائی 1987 سے پہلے ہندوستان میں پیدا ہونے والے اہل تبتی باشندے ووٹر کے طور پر اپنا نام درج کرا سکتے ہیں۔
اس کے بعد 2018 میں وزارتِ خارجہ نے پاسپورٹ حکام کو ہدایت دی کہ 26 جنوری 1950 سے 30 جون 1987 کے درمیان ہندوستان میں پیدا ہونے والے اہل تبتی شہریوں کو ہندوستانی پاسپورٹ جاری کیا جائے۔
یہ فیصلے اس حقیقت کو بھی نمایاں کرتے ہیں کہ صرف تاریخِ پیدائش بدل جانے سے ایک ہی خاندان کے دو بچوں کی قانونی حیثیت مختلف ہو سکتی ہے۔
فرض کیجیے ایک بچہ 30 جون 1987 کو پیدا ہوا اور دوسرا یکم جولائی 1987 کو۔
پہلا بچہ محض ہندوستان میں پیدائش کی بنیاد پر شہری مانا جائے گا، جبکہ دوسرے بچے کو شہریت کے لیے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کے والدین میں سے کم از کم ایک ہندوستانی شہری تھا۔
صرف ایک دن کے فرق نے دونوں کے حقوق الگ کر دیے، کیونکہ اسی دوران قانون تبدیل ہو چکا تھا۔
انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی نے نئی بحث کیوں چھیڑ دی؟
حالیہ برسوں میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے آغاز کے بعد شہریت کا مسئلہ دوبارہ قومی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
اس مشق کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ووٹر فہرست میں صرف وہی افراد شامل ہوں جو قانوناً ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔
لیکن اس عمل نے ایک بنیادی سوال پھر کھڑا کر دیا۔
اگر کسی شخص سے اس کی شہریت کا ثبوت مانگا جائے تو وہ کون سی دستاویز پیش کرے؟
یہ سوال بظاہر آسان دکھائی دیتا ہے، مگر موجودہ قانونی نظام میں اس کا جواب اتنا سادہ نہیں۔
آدھار کارڈ شناخت اور رہائش کا ثبوت ہے، شہریت کا نہیں۔
ووٹر شناختی کارڈ صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ متعلقہ شخص کا نام انتخابی فہرست میں درج ہے۔ یہ بھی شہریت کا حتمی ثبوت نہیں۔
اب وزارتِ خارجہ نے واضح کر دیا ہے کہ پاسپورٹ بھی صرف سفری دستاویز ہے، شہریت کی قانونی سند نہیں۔
یوں ملک کی تین سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سرکاری دستاویزات میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جسے بلا شبہ ہندوستانی شہریت کا قطعی ثبوت کہا جا سکے۔
اسی معاملے پر 27 مئی 2026 کو سپریم کورٹ نے بھی اہم وضاحت کی۔
عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن یہ طے کر سکتا ہے کہ کوئی شخص ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کا اہل ہے یا نہیں، لیکن اسے کسی شہری کی شہریت کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
اگر کسی شخص کا نام ووٹر فہرست سے حذف کر دیا جائے تو صرف اسی بنیاد پر اسے غیر شہری نہیں کہا جا سکتا۔
شہریت سے متعلق حتمی فیصلہ وہی مجاز اتھارٹی کرے گی جسے قانون نے یہ اختیار دیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی نے ایک مرتبہ پھر اس بنیادی سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ آخر ہندوستانی شہریت کا قابلِ اعتماد اور حتمی ثبوت کیا ہے؟
آخر ہندوستانی شہریت کا ثبوت کس دستاویز سے ملتا ہے؟
وزارتِ خارجہ کے بیان کے بعد سب سے اہم سوال یہی سامنے آیا ہے کہ اگر پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں تو پھر آخر کون سی دستاویز اس مقصد کے لیے قابلِ قبول ہے؟
اس سوال کا سیدھا اور آسان جواب یہ ہے کہ آج ہندوستان میں ایسی کوئی ایک دستاویز موجود نہیں جسے ہر شہری کی شہریت کا حتمی اور ناقابلِ تردید ثبوت کہا جا سکے۔
البتہ بعض دستاویزات دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط قانونی حیثیت رکھتی ہیں۔
ان میں سب سے اہم وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیا جانے والا شہریت کا سرٹیفکیٹ ہے، جو رجسٹریشن یا قدرتی شہریت (Naturalisation) کے ذریعے حاصل کرنے والوں کو دیا جاتا ہے۔ لیکن چونکہ زیادہ تر ہندوستانی پیدائشی شہری ہیں، اس لیے ان کے پاس ایسا کوئی سرٹیفکیٹ موجود نہیں ہوتا۔
پیدائش کا سرٹیفکیٹ بھی اہم دستاویز ہے، مگر اس کی قانونی اہمیت ہر شخص کے لیے یکساں نہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ متعلقہ شخص کس تاریخ میں پیدا ہوا، کیونکہ مختلف ادوار میں پیدائشی شہریت کے قوانین بدلتے رہے ہیں۔
اسی طرح پاسپورٹ، ووٹر شناختی کارڈ اور آدھار کارڈ بھی مختلف مقاصد کے لیے اہم دستاویزات ہیں، لیکن موجودہ قانون کے تحت ان میں سے کوئی بھی شہریت کا آخری اور فیصلہ کن ثبوت نہیں۔
آسام میں قومی رجسٹر برائے شہری (NRC) کی تیاری کے دوران یہی مسئلہ سب سے زیادہ نمایاں ہوا تھا۔ وہاں کسی ایک دستاویز پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف سرکاری ریکارڈ، پرانی ووٹر فہرستیں، زمین کے کاغذات، تعلیمی اسناد اور خاندانی ریکارڈ کو ملا کر ہر شخص کی شہریت کی جانچ کی گئی تھی۔
یہ پورا عمل اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہندوستان میں شہریت کا تعین اکثر ایک ہی دستاویز سے نہیں بلکہ مختلف شواہد کو ملا کر کیا جاتا ہے۔
دنیا کے دوسرے ممالک میں کیا صورتِ حال ہے؟
پیدائش کی بنیاد پر شہریت دینے کا قانون صرف ہندوستان میں ہی موضوعِ بحث نہیں رہا بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں بھی اس پر اختلاف پایا جاتا ہے۔
امریکہ میں آئین کی چودھویں ترمیم کے تحت پیدائش کی بنیاد پر شہریت کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ اسی وجہ سے وہاں کسی بھی حکومت کے لیے صرف ایک انتظامی حکم کے ذریعے اس اصول کو تبدیل کرنا ممکن نہیں۔
20 جنوری 2025 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا جس کے ذریعے غیر قانونی تارکینِ وطن اور عارضی ویزا رکھنے والوں کے بچوں کے لیے پیدائشی شہریت محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔
تاہم چند ہی دن بعد ایک وفاقی عدالت نے اس حکم پر عبوری پابندی عائد کر دی اور قرار دیا کہ آئینی ترمیم کے بغیر اس نوعیت کی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔
ہندوستان کی صورتِ حال اس سے مختلف ہے۔
ہندوستان میں پیدائشی شہریت کا اصول آئین میں نہیں بلکہ شہریت ایکٹ، 1955 میں درج ہے۔ اسی لیے پارلیمنٹ نے 1986 اور پھر 2003 میں عام قانون سازی کے ذریعے اس میں ترمیم کر دی اور پیدائشی شہریت کے دائرے کو محدود کر دیا۔
اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ یہی وجہ ہے کہ دونوں جمہوری ممالک میں شہریت سے متعلق قانونی بحث کا رخ بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔
اب آگے کیا ہونا چاہیے؟
وزارتِ خارجہ کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ اگر پاسپورٹ بھی شہریت کا حتمی ثبوت نہیں تو پھر عام شہری اپنی شہریت کس دستاویز سے ثابت کرے؟
یہ سوال صرف قانونی نہیں بلکہ انتظامی بھی ہے۔
جس وقت انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی جاری ہو، اور مستقبل میں قومی رجسٹر برائے شہری جیسے اقدامات پر بھی بحث ہو رہی ہو، ایسے میں اس ابہام کا برقرار رہنا مناسب نہیں۔
اس مسئلے کا مستقل حل یہی ہو سکتا ہے کہ حکومت شہریت کے ثبوت کے بارے میں واضح، یکساں اور قابلِ عمل نظام وضع کرے، تاکہ نہ شہری غیر یقینی کا شکار ہوں اور نہ ہی ہر بار یہی سوال دوبارہ اٹھے کہ ہندوستانی شہری ہونے کا قطعی ثبوت آخر کیا ہے؟
کرن بیر سنگھ سدھو پنجاب کی 1984 بیچ کے ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر ہیں اور پنجاب حکومت میں خصوصی چیف سیکریٹری کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ یہ مضمون پہلی مرتبہ The KBS Chronicle میں شائع ہوا تھا۔




