سرکاری ملازمین کو اب تیسرے بچے کی ولادت پر بھی ملے گی پورے ایک سال کی چھٹی

تامل ناڈو حکومت نے ریاست کی خواتین سرکاری ملازمین کے لیے ایک بڑا اور غیر معمولی ریلیف دیتے ہوئے تیسرے بچے کی پیدائش پر زچگی کی رخصت (میٹرنٹی لیو) کو 12 ہفتوں سے بڑھا کر پورے ایک سال یعنی 365 دن کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ ریاستی وزیر برائے انسانی وسائل کے نظم و نسق ڈی سارتھ کمار نے منگل کے روز اس اہم فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے بتایا کہ اب ریاستی ملازمین کو تیسرے بچے کی ولادت پر بھی وہی مراعات ملیں گی جو پہلے دو بچوں کے لیے فراہم کی جاتی رہی ہیں۔

اس سے قبل مارچ کے مہینے میں ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کے ایک پرانے حکم کی روشنی میں اپنے بنیادی قواعد میں ترمیم کی تھی، جس کے تحت دو یا اس سے زائد زندہ بچے رکھنے والی خواتین ملازمین کے لیے میٹرنٹی لیو محدود کر کے محض 12 ہفتے کر دی گئی تھی۔ بعد ازاں جون میں مدراس ہائی کورٹ نے بھی اس شق کو اس وقت برقرار رکھا تھا جب ایک خاتون ملازم نے تیسرے بچے پر 365 دن کی رخصت کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ حکومت کا یہ تازہ ترین اقدام سابقہ پابندیوں کو مکمل طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے خواتین کو دوبارہ طویل مدتی رخصت فراہم کرتا ہے۔

تامل ناڈو میں خواتین سرکاری ملازمین کے لیے زچگی کی رخصت کا سفر بتدریج آگے بڑھا ہے۔ ابتدائی طور پر ریاست میں 90 دن کی میٹرنٹی لیو دی جاتی تھی، جسے بعد ازاں 2011 میں بڑھا کر 6 ماہ، 2016 میں 9 ماہ اور پھر 2021 میں دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) کی حکومت نے ایک سال تک وسیع کر دیا تھا۔ یہ تازہ پالیسی فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاست کو گرتی ہوئی شرح پیدائش اور تیزی سے بڑھتی ہوئی بزرگ آبادی کے شدید چیلنج کا سامنا ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق تامل ناڈو میں مجموعی شرح پیدائش (ٹی ایف آر) گر کر 1.4 سے بھی نیچے آ چکی ہے، جبکہ آبادی کے استحکام کے لیے درکار متبادل شرح 2.1 ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریاست کی کل آبادی کا تقریباً 16 فیصد حصہ 60 سال سے زائد عمر کے بزرگ افراد پر مشتمل ہے۔ ریاستی وزیر صحت کے مطابق حکومت آبادی کے اس توازن کو برقرار رکھنے اور گرتی ہوئی شرح پیدائش کے ازالے کے لیے خاندانوں کو ترغیبات دینے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

پالیسی سازوں اور سماجی حلقوں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ورکنگ خواتین کی صحت، بچوں کی بہتر نگہداشت اور معاشی تحفظ کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ ملازمین کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ اس سہولت کے ذریعے کام کاج کرنے والی خواتین کو خاندان اور پیشہ ورانہ فرائض کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں مدد ملے گی، جبکہ ریاست میں ڈیموگرافک بحران کے تدارک کے لیے آئندہ دنوں میں مزید فلاحی اسکیموں کے نفاذ کی توقع کی جا رہی ہے۔

شیئر کریں۔