مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر اجین میں واقع قدیم شاہی مسجد کے ایک حصے کو منہدم کرنے کی انتظامی کوششوں کے دوران صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ اتوار کی رات اور پیر کی صبح ابدال پورہ کے علاقے میں بلڈوزر اور بھاری پولیس نفری پہنچنے کے بعد مقامی مسلم آبادی نے شدید احتجاج کیا، جس کے بعد مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل داغے۔
انتظامیہ سنہستھ میلے کی تیاریوں کے تحت کنٹھال چوراہے سے گوپال مندر تک نو سو میٹر طویل سڑک کو پندرہ میٹر چوڑا کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس توسیعی منصوبے کی زد میں کل سات مذہبی مقامات آ رہے ہیں جن میں سے اکثر کے معاملے پر اتفاق رائے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ تاہم شاہی مسجد، ایک قریبی مزار اور مندر سے متعلق فیصلے نے سنگین نوعیت اختیار کر لی ہے۔
اتوار کی دیر رات جب پولیس کے ہمراہ جے سی بی اور پوکلینڈ مشینیں مسجد کے قریب پہنچیں تو خواتین سمیت مقامی شہریوں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ ابتدائی مذاکرات کے بعد رات کو صورتحال قابو میں آنے کا تاثر ملا تھا، لیکن پیر کی صبح کشیدگی دوبارہ عروج پر پہنچ گئی۔ اطلاعات کے مطابق جب مشینیں مسجد کی سمت بڑھنے لگیں تو مشتعل بھیڑ کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کے گولے برسائے۔
علاقے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور تقریباً دو ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کر کے مسجد کے پانچ سو میٹر کے دائرے کو مکمل بیریکیڈنگ کے ذریعے سیل کر دیا گیا ہے۔ نقل و حرکت بند ہونے سے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔ شاہی مسجد کے تحفظ کے لیے مسلم برادری کا ایک فریق اندور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کر چکا ہے، جہاں اس معاملے پر فوری سماعت متوقع ہے۔
مسلم نمائندوں کا کہنا ہے کہ تاریخی عبادگاہوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور کسی بھی یکطرفہ اقدام کے بجائے عدالتی فیصلے کا انتظار کیا جانا ضروری تھا۔ مقامی آبادی اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے کہ قانونی عمل کے زیر التوا ہونے کے باوجود انتظامیہ کارروائی میں جلد بازی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔




