مدھیہ پردیش: اجین کی تاریخی شاہی مسجد کے انہدام کا خطرہ، بلڈوزر کارروائی روکنے کے لیے سینکڑوں مسلمان مسجد میں خیمہ زن, فورسز تعیینات

مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر اجین میں صدی قدیم شاہی مسجد کے جزوی انہدام کی مبینہ کوششوں کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ سال 2028 کے سنہستھ کمبھ میلے کے پیش نظر سڑک چوڑی کرنے کے نام پر میونسپل کارپوریشن نے مسجد کے ایک حصے پر بلڈوزر چلانے کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ رات گئے بھاری پولیس فورس اور ریپڈ ایکشن فورس کی تعیناتی کے ساتھ بلڈوزر لائے جانے کی اطلاع ملتے ہی سینکڑوں مسلمان مسجد کے تحفظ کے لیے موقع پر جمع ہو گئے اور انہدامی کارروائی کو وقتی طور پر روک دیا۔
تاریخی شاہی مسجد کے اطراف سیکیورٹی اہلکاروں اور پولیس کی غیر معمولی نفری تعینات کر دی گئی ہے، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی اور شدید بے چینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔

उज्जैन में आर्मी पुलिस तैनात है इससे साफ जाहिर होता है कि प्रशासन की मनसा क्या है।
शाही मस्जिद के लिए हमारे मुसलमान भाई ग्राउंड पर डटे हैं।
लेकिन आप लोग उनके लिए लिख नहीं सकते ?
खुद के जमीर से सवाल पूछो और लिखना स्टार्ट करो। #SaveUjjainShahiMosque pic.twitter.com/OUrhujOOVu— Muslim Rights Matter (@RightsForMuslim) September 27, 2026

مسجد کے انتظامی معاملات سنبھالنے والی گیارہ رکنی مسجد نمائندہ کمیٹی نے مذہبی عمارت کی حفاظت کے لیے منظم حکمت عملی اختیار کی ہے۔ مقامی شہریوں نے طے کیا ہے کہ مختلف شفٹوں میں دن رات مسجد کے اندر حاضری دی جائے گی تاکہ کسی بھی وقت ہونے والی یکطرفہ کارروائی کا پرامن طور پر سدباب کیا جا سکے۔ نمازِ ظہر کے بعد بھی ایک ہزار سے زائد افراد مسجد کے اندر موجود رہے اور پانچوں وقت باجماعت نماز کا سلسلہ بغیر کسی تعطل کے جاری رکھا جا رہا ہے۔

اندور کے ممتاز عالمِ دین مفتی جنید نے معاملے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس تاریخی مسجد کو گرایا گیا تو لائن میں لگی دیگر اٹھائیس مساجد بھی نشانے پر آ جائیں گی۔ انہوں نے انتظامیہ کے دوہرے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی ایک مذہب کے تہوار کے نام پر دوسری اقلیت کے تاریخی وجود کو مٹانا ہرگز انصاف نہیں۔ انہوں نے اجین کی تکیہ مسجد کے سابقہ واقعے کی مثال دیتے ہوئے یاد دلایا کہ انتظامیہ نے پہلے یقین دہانی کرائی تھی مگر بعد میں اچانک تکیہ مسجد کو مسمار کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم کمیونٹی کو بار بار دھوکہ دیا گیا ہے اور اب عوام اپنی مذہبی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ دینے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

یہ تاریخی شاہی مسجد مہاکالیشور مندر کے سامنے اور کشپرا ندی کے قریب واقع ہے اور وقف بورڈ میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہے۔ مسجد نمائندہ کمیٹی کے مطابق اس عمارت کی تاریخی حیثیت کے واضح دستاویزی ثبوت موجود ہیں، جن میں سنڈھیا دور حکومت کا 1925 کا ٹاؤن امپروومنٹ ٹرسٹ کا حکمنامہ اور 1985 کا مدھیہ پردیش گزٹ نوٹیفکیشن شامل ہیں جس میں مسجد اور اس کی اراضی کا اندراج ہے۔ اگر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے پندرہ میٹر سڑک چوڑی کرنے کا منصوبہ نافذ کیا گیا تو اس سے مسجد کا نمازی ہال، تقریباً ایک سو بیس فٹ اونچا تاریخی مینار اور مظہر چوک شاہی بری طرح متاثر ہوں گے۔

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے حال ہی میں کارپوریشن کے انہدامی نوٹس کے خلاف دائر دو درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کارروائی قانونی ضوابط اور سماعت کا موقع دینے کے بعد کی گئی ہے۔ عدالت نے سنہستھ کمبھ میلے کے دوران کروڑوں عقیدت مندوں کی آمد اور ٹریفک کے انتظام کا حوالہ دیا تھا۔ ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) سے وابستہ ایڈوکیٹ زید پٹھان نے تصدیق کی ہے کہ نمائندہ کمیٹی اپنے وکلاء کے ذریعے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے حتمی مراحل میں ہے۔

اس وقت اجین کے اس تاریخی علاقے کو پولیس نے تمام اطراف سے بیریکیڈ لگا کر محصور کر رکھا ہے جبکہ مسلمانوں کا پرامن احتجاج مسلسل جاری ہے۔ اقلیتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ترقی اور عوامی سہولیات کے نام پر اقلیتی شناخت اور صدیوں پرانی مساجد کو بلا جواز قربان کرنے کا سلسلہ فوری بند ہونا چاہیے اور انتظامیہ کو عدالت عظمیٰ کا قطعی فیصلہ آنے تک کسی بھی قسم کی کارروائی سے مکمل گریز کرنا چاہیے۔

شیئر کریں۔