سنگاپور کی حکومت نے ڈیجیٹل اسکرین اور مختصر ویڈیوز کی عادت کو کم کرنے اور کتب بینی کی روایت کو فروغ دینے کے لیے ایک انوکھا اور قابل ذکر قدم اٹھایا ہے۔ ملک کے نیشنل لائبریری بورڈ کے تحت ستمبر میں باقاعدہ نیشنل ریڈنگ منتھ کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت شہریوں کو روزانہ کتابیں پڑھنے کے عوض نقد رقم میں تبدیل ہونے والے ورچوئل انعامات دیے جا رہے ہیں۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد نوجوان نسل اور معمر افراد دونوں کو یکسوئی کے ساتھ کتابوں کی جانب واپس لانا ہے۔
اس مہم کے تحت ایک باضابطہ ڈیجیٹل ریوارڈ فریم ورک وضع کیا گیا ہے جہاں صارفین کو اپنے روزانہ کے مطالعے کا دورانیہ مخصوص پلیٹ فارم پر درج کرنا ہوگا۔ اگر کوئی شہری کم از کم پندرہ منٹ یا اس سے زائد وقت تک کتاب کا سنجیدہ مطالعہ کرتا ہے تو اسے روزانہ بیس ورچوئل کوائنز دیے جاتے ہیں۔ ضوابط کے مطابق ایک صارف کو چوبیس گھنٹوں کے دوران صرف ایک سیشن کا فائدہ مل سکتا ہے۔ جب یہ ورچوئل سکے ایک ہزار کی تعداد تک پہنچ جائیں گے تو صارف انہیں ایک سنگاپورین ڈالر نقد رقم میں تبدیل کروا سکتا ہے، جس کی قدر تقریباً چھہتر بھارتی روپے بنتی ہے۔
اس اقدام کا پس منظر دنیا بھر میں تیزی سے عام ہوتی ریلز، اسکرولنگ اور شارٹ ویڈیوز کے اثرات سے جڑا ہوا ہے۔ ماہرین تعلیم اور نفسیات کے مطابق ڈیجیٹل میڈیا کے الگورتھم نے انسانی توجہ کے دورانیے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث گہرے مطالعے اور سنجیدہ سوچ بچار کا عنصر زوال پذیر ہے۔ سنگاپور اس سے قبل بھی کئی قومی مہمات چلا چکا ہے مگر اس بار معاشی ترغیب کا عنصر شامل کر کے اسے ایک عملی تحریک کی شکل دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
عصری تناظر میں یہ مسئلہ صرف سنگاپور تک محدود نہیں بلکہ جنوبی ایشیائی ممالک بالخصوص ہندوستان میں بھی سنگین رخ اختیار کر چکا ہے۔ حالیہ سرویز اور مارکیٹ ریسرچ رپورٹس کے مطابق اسمارٹ فون صارفین کا ایک بڑا طبقہ روزانہ کئی گھنٹے ویڈیو اسٹریمنگ اور سوشل میڈیا پر صرف کرتا ہے، جس میں ریلز سب سے زیادہ دیکھی جانے والی کیٹیگری بن چکی ہے۔ اسکرین کی اس بڑھتی ہوئی وابستگی نے طالب علموں اور نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں، ذہنی صحت اور مطالعے کی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔




