دہلی فسادات اور جامعہ تشدد : اشتعال انگیز بیانات پر ایف آئی آر کا مطالبہ،ایس آئی ٹی جانچ کی درخواستیں خارج

دہلی ہائی کورٹ نے سال 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات اور 2019 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوئے پرتشدد واقعات کی آزادانہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم یعنی ایس آئی ٹی سے جانچ کرانے کی تمام عرضیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ جسٹس وویک چودھری کی سربراہی والی بنچ نے پیر کے روز یہ فیصلہ سناتے ہوئے مختلف سیاسی رہنماؤں کے خلاف مبینہ اشتعال انگیزی اور نفرت انگیز بیانات پر باضابطہ ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت عالیہ کے اس فیصلے کے ساتھ ہی دہلی پولیس کی جانب سے پہلے سے جاری تفتیش پر مہر تصدیق ثبت ہو گئی ہے۔

عدالت کے روبرو دو مختلف متوازی درخواستیں زیر غور تھیں۔ پہلی درخواست شیخ مجتبیٰ کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں بی جے پی رہنماؤں کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر، پرویش ورما اور ابھے ورما کے خلاف متنازع اور اشتعال انگیز تقاریر کے الزام میں ایف آئی آر کے اندراج اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس عرضی میں دہلی پولیس کے کردار پر بھی شدید اعتراضات اٹھاتے ہوئے الزامات لگائے گئے تھے کہ پولیس اہلکاروں نے تشدد روکنے کے بجائے جانبدارانہ رویہ اختیار کیا۔ دوسری جانب لائرز وائس نامی تنظیم نے کانگریس قائدین راہل گاندھی اور سونیا گاندھی، عام آدمی پارٹی کے منیش سسودیا اور اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کے بیانات کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست کی تھی۔

دہلی پولیس نے ان تمام درخواستوں کی سخت مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس کی جانب سے کی گئی جانچ مکمل طور پر غیر جانبدار، شفاف اور قانونی دائرے کے اندر ہے۔ پولیس انتظامیہ نے عدالت میں دلائل دیے کہ درخواست گزاروں کے الزامات بے بنیاد ہیں اور تمام تر کارروائی ضابطہ فوجداری کے تحت مکمل احتیاط سے انجام دی جا رہی ہے، اس لیے کسی الگ عدالتی یا بااختیار تحقیقاتی پینل کی تشکیل کا کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہتا۔ عدالت نے پولیس کے موقف کو قبول کرتے ہوئے مزید عدالتی مداخلت کی گنجائش کو رد کر دیا۔

فروری 2020 کے دوران شمال مشرقی دہلی میں پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ فسادات میں 53 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جبکہ دو سو سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔ ان فسادات میں سب سے زیادہ نقصان مسلم آبادی کے جان و مال اور روزگار کو پہنچا تھا۔ دوسری طرف دسمبر 2019 میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پرامن مظاہرے کے دوران جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لائبریری اور کیمپس کے اندر پولیس کا غیر معمولی تشدد مقامی و بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے حلقوں میں گہری تشویش کا سبب بنا تھا۔ مظلومین اور قانونی ماہرین کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف پیش کیا جاتا رہا ہے کہ اگر اعلیٰ سطح پر نفرت پھیلانے والے رہنماؤں کا محاسبہ نہیں ہوتا تو متاثرین کو انصاف ملنا دشوار ہوگا۔

ہائی کورٹ کی جانب سے آزادانہ تحقیقات کی درخواستیں خارج کیے جانے کے بعد متاثرین کے وکلاء کے پاس اب سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا راستہ باقی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق دہلی فسادات کے اصل محرکات، پولیس کی مبینہ جانبداری اور سیاسی بیانات کی آزادانہ چھان بین کے مطالبے کو اب ملکی عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کیے جانے کے قوی امکانات ہیں۔

متاثرہ طبقے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نزدیک قانون کا یکساں اطلاق اور غیر جانبدارانہ احتساب ہی عدالتی نظام پر عوامی اعتماد کو قائم رکھ سکتا ہے۔ جب تک فسادات کے دوران پیدا ہونے والے سنگین شکوک و شبہات اور نفرت پھیلانے والوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کے تقاضے پورے نہیں ہوتے، انصاف کے حصول کی قانونی اور جمہوری جدوجہد کا دائرہ برقرار رہے گا۔

شیئر کریں۔