سپریم کورٹ کے سابق سینئر جج جسٹس روہنٹن فالی نریمن نے الیکشن کمیشن کے موجودہ طریقہ کار، ووٹر لسٹوں کی خصوصی اور تفصیلی نظرثانی مہم اور انتخابی کمشنروں کی تقرری کے متنازع قانون پر سخت سوالات کھڑے کیے ہیں۔ راجکوٹ کے راجکمار کالج میں ‘آئین اور عام آدمی’ کے عنوان پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ملک میں ایسا الیکشن کمیشن نہیں چل سکتا جو اس طرح کام کرے یا اپنے فرائض کی انجام دہی میں اس حد تک خرابی کا شکار ہو جائے۔ ان کا یہ بیان سپریم کورٹ کے موجودہ جج جسٹس اجل بھویان کے اس بیان کے فوری بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کروڑوں ہندوستانی شہریوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے عمل کو صریح آئینی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
جسٹس نریمن نے اپنی تقریر میں ووٹر فہرستوں سے کروڑوں شہریوں کے نام خارج کیے جانے کے معاملے پر عدالت عظمیٰ کی مسلسل خاموشی پر کھلے بندوں حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے مغربی بنگال کی مثال دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ وہاں کے انتخابات کے دوران 90 لاکھ ووٹرز کو انتخابی عمل سے یکسر بے دخل کر دیا گیا، جو کہ ایک ہولناک اور چونکا دینے والا عدد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ان ووٹرز کو مردہ یا مستقل طور پر نقل مکانی کر جانے والا قرار دے کر لسٹ سے باہر کیا، لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس قدر بڑے پیمانے پر رائے دہندگان کی بے دخلی بھی سپریم کورٹ کو اس مشق پر فوری روک لگانے کے لیے متحرک نہ کر سکی۔
سابق جج نے انکشاف کیا کہ بے دخل کیے گئے ان 90 لاکھ ووٹرز میں سے تقریباً 22 لاکھ لوگوں نے باضابطہ اپیلیں دائر کیں، جبکہ باقی ماندہ لاکھوں شہری وسائل اور عدالتی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے اپنی آواز نہ اٹھا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ جن 22 لاکھ افراد نے اپیلیں کیں، ان میں سے تقریباً ایک لاکھ اپیلوں کی سماعت مکمل ہوئی جس میں 93 فیصد فیصلے ووٹرز کے حق میں آئے اور کمیشن کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا۔ جسٹس نریمن کے مطابق یہ عام شہری کو غیر قانونی طور پر باہر کرنے کی منظم کوشش تھی تاکہ برسرِ اقتدار نظام اپنے پسندیدہ نتائج حاصل کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں اس کا نتیجہ حکومت کی تبدیلی کی شکل میں سامنے آیا، جو ملک کے جمہوری تشخص کے لیے ایک گہری تشویش کا باعث ہے۔
ملک بھر میں جاری اس خصوصی نظرثانی مہم کے دوران اب تک مجموعی طور پر تقریباً 13 کروڑ ووٹرز کے نام حتمی فہرستوں سے نکالے جا چکے ہیں۔ پسماندہ طبقات، مسلم اقلیت اور غریب بستیوں کے شہریوں پر اس کے انتہائی گہرے اور منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اگرچہ عدالت بارہا کہہ چکی ہے کہ انتخابی فہرست سے نام خارج ہونے سے شہریت منسوخ نہیں ہوگی، لیکن زمین پر صورتحال بالکل برعکس ہے۔ جن شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے، انہیں نہ صرف سرکاری فلاحی اسکیموں، راشن اور پنشن سے محروم کیا جا رہا ہے بلکہ پاسپورٹ کی تصدیق کے دوران پولیس ان کی فائلیں مسترد کر رہی ہے، جس سے معاشرے کے کمزور اور اقلیتی طبقے میں عدم تحفظ کا ماحول بن چکا ہے۔
جسٹس نریمن نے حکومت کی جانب سے انتخابی کمشنروں کی تقرری کے موجودہ قانون پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ پر زور دیا کہ وہ اس چیلنج کو ترجیحی بنیادوں پر سنے اور قانون کی حکمرانی کو بحال کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض عہدے سے ہٹانے کے تحفظ سے کمیشن کی خود مختاری قائم نہیں رہ سکتی جب تک تقرری کے عمل کو حکومت کے اثر و رسوخ سے آزاد نہ کیا جائے۔ اس سے قبل نلسار یونیورسٹی آف لا، حیدرآباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اجل بھویان نے بھی واضح کیا تھا کہ شہریوں کے انتخابی حقوق چھیننے والے کسی بھی غیر منصفانہ اور خودسر عمل کو کسی بھی تاویل کے ذریعے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
جمہوری نظام کی روح ہر شہری کے بنیادی حق رائے دہی کی غیر مشروط حفاظت میں پوشیدہ ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے موجودہ اور سابق منصفین کی جانب سے الیکشن کمیشن کی شفافیت پر اٹھائے گئے یہ سوالات اس بات کا ٹھوس ثبوت ہیں کہ انتخابی نظام کی ساکھ خطرے میں ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سپریم کورٹ انتظامی من مانیوں کا راستہ روکنے کے لیے فوری اور ٹھوس احکامات جاری کرے تاکہ آئین ہند کی بالادستی اور عام شہری کے وقار کا تحفظ ممکن ہو سکے۔


