سوامی پرساد موریہ اعظم خان کی رہائش گاہ پہنچے، یوپی میں نئی سیاسی ہلچل

اترپردیش کی سیاست کے سرکردہ رہنما اور اپنی جنتا پارٹی کے قومی صدر سوامی پرساد موریہ نے پیر کے روز رامپور پہنچ کر سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما محمد اعظم خان کی رہائش گاہ پر ان کے اہل خانہ سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے اعظم خان کی اہلیہ اور سابق رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر تزئین فاطمہ اور ان کے صاحبزادے ادیب اعظم خان سے طویل بات چیت کی اور جیل میں قید اعظم خان کے خلاف جاری قانونی و انتظامی کارروائیوں پر گہری ہمدردی اور تشویش کا اظہار کیا۔ ملاقات کے فوری بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے موریہ نے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا اور الزام لگایا کہ اقتدار کی طاقت کا استعمال کر کے ایک مخصوص سیاسی اور اقلیتی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سوامی پرساد موریہ نے اپنے سخت ترین ردعمل میں کہا کہ موجودہ بی جے پی حکومت کھلے عام انتقامی جذبے کے تحت کام کر رہی ہے اور سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کے خلاف ذاتی عناد اور دشمنی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، جس کی کسی بھی جمہوری نظام میں قطعی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں دعویٰ کیا کہ بی جے پی کا یہ طرزِ عمل اس کے آمریت پسندانہ چہرے کو بے نقاب کرتا ہے اور 2027 کے اترپردیش اسمبلی انتخابات میں ریاست کے باشعور عوام بی جے پی کا مکمل صفایا کر کے اس انتقامی سیاست کا منہ توڑ جواب دیں گے۔ اگرچہ بند کمرے میں ہوئی اس گفتگو کے باضابطہ قانونی یا سیاسی ایجنڈے کی تفصیلات عام نہیں کی گئیں، لیکن ریاست میں پسماندہ اور اقلیتی گٹھ جوڑ کے تناظر میں اسے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس ملاقات کی ٹائمنگ کو ریاست کے سیاسی حلقوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ گزشتہ دنوں سوامی پرساد موریہ نے نئی دہلی میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی سے ایک طویل تفصیلی ملاقات کی تھی، جس کے بعد وہ سیدھے رامپور پہنچے۔ اعظم خان طویل عرصے سے درجنوں مقدمات کے تحت سلاخوں کے پیچھے ہیں اور ان کے حامیوں کی جانب سے مسلسل یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ انہیں صرف ان کی بے باک اقلیتی قیادت کی پاداش میں نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ان کی اپنی پارٹی یعنی سماجوادی پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی خاموشی پر بھی وقفے وقفے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں موریہ کی اعظم خان کے گھر آمد نے اپوزیشن کی اندرونی صف بندیوں کو نیا رخ دے دیا ہے۔

اترپردیش کی آبادی میں مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کا ووٹ بینک انتخابی نتائج پر سب سے گہرا اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماضی میں جب بھی دلت، او بی سی اور اقلیتی ووٹ متحد ہوئے، ریاست کی روایتی فرقہ وارانہ سیاست کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ اعظم خان ریاست میں مسلم برادری کا ایک مضبوط اور بااثر چہرہ تسلیم کیے جاتے ہیں، اور ان کے خاندان سے موریہ کا رابطہ اس بات کا غماز ہے کہ آئندہ انتخابات کے پیش نظر او بی سی اور مسلم ووٹرز کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کی سنجیدہ کوششیں درپردہ شروع ہو چکی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سوامی پرساد موریہ کے اس قدم کے بعد انڈیا اتحاد کے دائرے میں علاقائی سطح پر نئی صف بندی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ اعظم خان کے حامیوں کے اندر پائی جانے والی بے چینی کو بھانپتے ہوئے کانگریس کے اثر والے حلقوں اور موریہ کی اپنی جنتا پارٹی کا یہ تال میل سماجوادی پارٹی پر بھی عوامی دباؤ بڑھائے گا کہ وہ اپنے دیرینہ مسلم لیڈر کی قانونی و اخلاقی لڑائی میں کھل کر سامنے آئے۔

جمہوری نظام میں قائدین کو نشانہ بنا کر یا انتقامی مقدمات کے ذریعے عوامی جذبات کو دبانے کی حکمت عملی وقتی طور پر تو اثر دکھا سکتی ہے، مگر طویل مدت میں یہ عوام کے اندر غم و غصے کو جنم دیتی ہے۔ رامپور کی یہ ملاقات محض رسمی خیر سگالی تک محدود نظر نہیں آتی، بلکہ یہ اشارہ ہے کہ اترپردیش کی سیاست میں پسماندہ اور اقلیتی طبقات کی نمائندگی کا نیا محور تشکیل پا رہا ہے، جو آئندہ انتخابی معرکے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

شیئر کریں۔