نیٹ پیپر لیک اسکینڈل: سی بی آئی کی ملک گیر چھاپہ ماری اور گرفتاریاں

ملک کے سب سے بڑے میڈیکل داخلہ امتحان ‘نیٹ’ (NEET) کے پرچہ افشاء ہونے اور اس کے نتیجے میں 3 مئی کا امتحان منسوخ کیے جانے کے بعد، 23 لاکھ طلبہ کے مستقبل پر غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اس سنگین معاملے کی تحقیقات مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) کے سپرد کیے جانے کے بعد ایجنسی نے اپنی کارروائی تیز کر دی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، سی بی آئی نے ملک کے مختلف حصوں میں چھاپہ ماری کرتے ہوئے اب تک پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے، جن پر پیپر لیک کرنے والے منظم گروہ کا حصہ ہونے کا شبہ ہے۔ ان گرفتاریوں میں تین افراد جے پور سے، ایک گروگرام اور ایک ناسک سے حراست میں لیا گیا ہے۔

وزارت تعلیم کی تحریری شکایت پر حرکت میں آتے ہوئے سی بی آئی نے بدھ کے روز نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے صدر دفتر کا دورہ کیا اور متعلقہ افسران سے طویل پوچھ تاچھ کی۔ اس دوران سیاسی روابط بھی سامنے آ رہے ہیں؛ جے پور سے گرفتار ہونے والے دو بھائیوں میں سے ایک، دنیش بیوال، بی جے پی کے سابق یوتھ ونگ لیڈر بتائے جاتے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی مانگی لال بیوال کے ساتھ مل کر افشاء شدہ پرچے طلبہ میں تقسیم کیے۔ ناسک سے گرفتار ہونے والے شوبھم کھیرنار کو ممبئی کی عدالت نے دو روزہ عبوری تحویل میں دے دیا ہے۔ اگرچہ یہ گرفتاریاں جاری ہیں، لیکن طلبہ اور والدین میں یہ سوال اب بھی برقرار ہے کہ کیا یہ اقدامات ان کی ذہنی اذیت کا مداوا کر سکیں گے؟

دوسری جانب، میڈیکل پروفیشنلز کی نمائندہ تنظیم ‘فیڈریشن آف آل انڈیا میڈیکل ایسوسی ایشنز’ (فائما) نے اس پورے معاملے کو این ٹی اے کی "سسٹمک فیلوئر” یعنی پورے امتحانی نظام کی ناکامی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔ ایڈوکیٹ تنوی دوبے کے ذریعے دائر کردہ اس عرضداشت میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ این ٹی اے کو فی الفور برخاست کیا جائے یا اس کی جگہ ایک جدید، خود مختار اور تکنیکی طور پر بے نقص ادارہ قائم کیا جائے۔ درخواست میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ دوبارہ ہونے والا امتحان سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں کرایا جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

فائما نے عدالت سے یہ بھی گزارش کی ہے کہ سوالیہ پرچوں کی نقل و حمل کے روایتی طریقے ختم کر کے ‘ڈیجیٹل لاکنگ’ اور ‘کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ’ (CBT) ماڈل اپنایا جائے، تاکہ انسانی مداخلت اور پرچہ لیک ہونے کے امکانات کو ختم کیا جا سکے۔ عرضداشت میں سی بی آئی سے چار ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے تاکہ پیپر لیک مافیا کے پورے نیٹ ورک، ان کے سرپرستوں اور اب تک ہونے والی کارروائیوں کا کچا چھٹا سامنے آ سکے۔

تعلیمی ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف گرفتاریاں کافی نہیں ہیں، کیونکہ ماضی میں بھی کئی مقابلے جاتی امتحانات کے پرچے لیک ہوئے لیکن مافیا کے خلاف کوئی ایسی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی جو مستقبل کے لیے مثال بن سکے۔ 23 لاکھ طلبہ، جو دن رات محنت کر کے ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھ رہے تھے، اب دوبارہ امتحان کے لیے اس جوش و خروش کو جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ‘امتحان کے وقت امتحان’ دیتے وقت ہوتا ہے۔ معاشرے کے تمام طبقوں کا یہی مطالبہ ہے کہ اس طاقتور گروہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے جو نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے۔

شیئر کریں۔