بھٹکل (فکروخبرنیوز) بھٹکل سے شائع ہونے والے نوائطی زبان کے ممتاز اور تاریخی اخبار ’نقشِ نوائط‘ کے پچاس سال مکمل ہونے پر ایک نہایت پروقارتقریب کل رات نقش نوائط کے دفتر میں منعقد ہوئی، جس میں اخبار کے خصوصی ’’گولڈن جوبلی شمارہ‘‘ کا رسمِ اجرا انجام دیا گیا۔
’نقش‘ کے دفتر میں منعقدہ اس نشست میں بھٹکل کے ممتاز علمائے کرام، دانشوروں، ادیبوں، صحافیوں اور برادری کے ذمہ داران نے شرکت کی اور نصف صدی تک مسلسل جاری رہنے والی اس عظیم صحافتی خدمت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب میں بار بار اس حقیقت کا اظہار کیا گیا کہ ’نقشِ نوائط‘ محض ایک اخبار نہیں بلکہ قوم کی تہذیبی شناخت اور پچاس سالہ تاریخ کا زندہ دستاویز ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فکروخبر کے صدر، بانی و جنرل سکریٹری مولانا محمد الیاس ندوی نے کہا کہ ’نقشِ نوائط‘ نے صرف نوائطی زبان کو زندہ رکھنے کا کام نہیں کیا بلکہ اس کے ذریعہ پوری قوم اپنی اسلامی تہذیب، ثقافت اور خاندانی رشتوں سے جڑی رہی۔ انہوں نے کہا کہ آج پچاس برس بعد بھی اگر قوم کی شادیوں، وفاتوں، سماجی سرگرمیوں اور اجتماعی تاریخ کا کوئی معتبر ریکارڈ موجود ہے تو اس میں ’نقش‘ کا بنیادی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ہندوستان میں نہیں بلکہ بیرون میں بھی ہماری برادری سے تعلق رکھنے والوں کو نقش کا شدت کے ساتھ انتظار رہتا ہے اور اس کے لیے وہ بار بار ایک دوسرے سے اس کا تذکرہ کرتے ہیں جس کا مشاہدہ ہمیں ایک حج کے سفر کے دوران ہوا۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کہ ہمیں لکھنے، سوچنے اور صحافت کے میدان میں قدم رکھنے کا جو حوصلہ ملا، اس میں ’نقشِ نوائط‘ کا بہت بڑا حصہ ہے۔
فکروخبر کے ایڈیٹر اِن چیف مولانا سید ہاشم نظام ندوی نے اپنے خطاب میں ’نقشِ نوائط‘ کو اپنا ’’محسن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اخبار دراصل پوری قوم کی پچاس سالہ تاریخ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی ایم جے ڈی (BMJD) کے پچاس سال مکمل ہونے کے موقع پر تاریخی مواد کی فراہمی اور حضرت مولانا عبدالباری ندویؒ پر تفصیلی مضمون کی تیاری میں ’نقش‘ نے غیر معمولی مدد فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اخبار آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی آرکائیو اور تاریخی خزانہ ہے، جس سے قوم کی فکری و سماجی تاریخ محفوظ ہوئی ہے۔
معروف صحافی ڈاکٹر حنیف شباب نے ممبئی کے پرانے صحافتی دور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت ایسا تھا جب ’نقشِ نوائط‘ اور ’النوائط‘ جیسے اخبارات نوائطی زبان و ثقافت کے نمائندہ ترجمان تھے۔ انہوں نے کہا کہ پچاس سال تک مسلسل ایک پرنٹ ایڈیشن جاری رکھنا معمولی بات نہیں بلکہ یہ ایثار اور مستقل مزاجی کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ اب نئی نسل میں مولانا اظہر ندوی جیسے نوجوان اس مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
ناظم جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا طلحہ ندوی نے کہا کہ موجودہ دور میں جہاں اکثر اخبارات کاروباری مفادات کے تابع ہوچکے ہیں، وہیں مولانا عبدالعلیم قاسمی نے ذاتی وسائل اور خاموش قربانیوں کے ذریعہ اس چراغ کو نصف صدی تک روشن رکھا، جو ایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔
بھٹکل مسلم خلیج کونسل کے سکریٹری جنرل جناب عتیق الرحمن منیری نے مولانا عبدالعلیم قاسمی اور ان کے مرحوم رفقاء جناب ارشاد صاحب اور محمد علی قمر صاحب کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان حضرات نے اپنی ذاتی قربانیوں سے قوم کی زبان اور شناخت کو زندہ رکھا۔ انہوں نے مولانا نے اپنے گہرے مراسم اور شخصیت سازی کے واقعات بیان کرکے اپنی پرانی یادیں تازہ کیں اور انہیں اپنا محسن قرار دیا۔ اس موقع پر خلیج کونسل کی جانب سے مولانا عبدالعلیم قاسمی کی تہنیت اور شال پوشی بھی عمل میں آئی۔
مفتی عبدالنور ندوی نے کہا کہ نصف صدی تک نوائطی زبان میں ایک مستقل پرنٹ اخبار جاری رکھنا اور پوری قوم کو ایک فکری دھارے میں جوڑے رکھنا کسی کرامت سے کم نہیں۔
معروف نوائطی شاعر جناب اقبال سعیدی نے ممبئی کے صحافتی دور کی یادیں تازہ کرتے ہوئے اپنی پہلی نظم کا تذکرہ کیا اور اس موقع پر ایک خوبصورت تازہ نظم بھی پیش کی، جسے سامعین نے بے حد پسند کیا۔
آخر میں ’نقشِ نوائط‘ کے مالک و مدیرِ اعلیٰ مولانا عبدالعلیم قاسمی نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے تمام قارئین، معاونین اور محبین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفر صرف میری کوششوں سے نہیں بلکہ قوم کی محبتوں، دعاؤں اور اعتماد سے ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ احباب کی خواہش کے باوجود ان کی اپنی طبیعت سادگی پسند ہے، اسی لیے تقریب کو محدود مگر باوقار انداز میں منعقد کیا گیا۔
مولانا شاہین قمر ندوی نے بھی اپنے تاثرات میں اپنے والدِ محترم کے تعلقات اور ان کی صحافتی خدمات کا تذکرہ کیا۔
تقریب کا آغاز رائف ابن عاطف مولوی کی پرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ مہمانوں کا استقبال مولانا سید ابراہیم اظہر ندوی نے کیا۔ نظامت کے فرائض مولانا سید سالک ندوی نے نہایت شستہ اور دلکش انداز میں انجام دیے۔ آخر میں فکروخبر کے ایڈیٹر اِن چیف مولانا سید ہاشم نظام ندوی کی رقت آمیز دعا پر یہ تاریخی اور یادگار تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
اس موقع پرشہر کے صحافتی اور دانشوروں کی ایک تعداد موجود تھی۔
یاد رہے کہ یہ پروگرام فکروخبر کے نوائطی یوٹیوب چینل پر لائیو کیا گیا تھا۔دیکھیے مکمل پروگرام




