نصابِ تعلیم کو قرآن کی حقیقی روح سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت : مولانا اقبال ندوی
بھٹکل (فکروخبرنیوز) عبدالماجد ابن ظہیر قاسمجی نے نیوشمس اسکول میں اپنی عصری تعلیم کے ساتھ مولوی احمد فرقان رکن الدین ندوی کی نگرانی میں محض تین سال کی مدت میں حفظِ قرآن کی تکمیل کی ہے۔ اس طرح انہوں نے نیو شمس اسکول بھٹکل کے پہلے حافظِ قرآن بننے کا شرف بھی حاصل کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر ایم ٹی حسن باپا ہال میں ان کے تکمیل حفظ کے لیے ایک خوبصورت تقریب منعقد کی گئی جس میں استاد جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا محمد اقبال نائیطے ندوی نے ان کا حفظ مکمل کرایا اور حفظِ قرآن کی اس عظیم دولت کے حصول پر عبدالماجد ، ان کے والدین اور اسکول کے ذمہ داران کو بھی مبارکباد پیش کی۔ یاد رہے کہ مذکورہ طالبِ علم نویں جماعت میں زیر تعلیم ہے اور اپنی دیگر اسکول کی ذمہ داریوں کے ساتھ شروع ہی سے حفظِ قرآن کے لیے بڑی محنت کی جس میں ان کی والدہ نے بھی ان کی بھرپور ہمت افزائی اور رہنمائی کی۔

مولانا اقبال ندوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عصری تعلیم کے ساتھ حفظِ قرآن کا کامیاب امتزاج وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنے مختصر عرصے میں ایک طالب علم کا مکمل قرآن حفظ کر لینا نہ صرف اس کی ذاتی محنت کا ثمرہ ہے بلکہ اساتذہ اور ادارے کی دینی و تعلیمی فکر کا بھی مظہر ہے۔ مولانا نے طلبہ اور سرپرستوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کو حفظ کرنا عظیم سعادت اور باعثِ اجر و ثواب ہے، تاہم اس کے ساتھ قرآن کے مفاہیم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات کو عملی زندگی کا حصہ بنانا بھی نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی نصاب کو اس انداز میں ترتیب دیا جانا چاہیے کہ نئی نسل قرآن کے آفاقی پیغام اور اس کی حقیقی روح سے واقف ہو سکے۔ اس موقع پر انہوں نے ختمِ قرآن کی دعا کرائی اور حافظ عبدالماجد کو سند اور نقد انعام بھی پیش کیا۔

تقریب کی صدارت کرتے ہوئے اسکول کے چیرمین جناب نذیر احمد قاضی نے کہا کہ قرآن کریم محض تلاوت یا حصولِ ثواب کی کتاب نہیں بلکہ انسانی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرنے والا مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم قرآن کے پیغام کو اپنے اخلاق، کردار اور سماجی زندگ کا حصہ بنائیں تو معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے۔ انہوں نے والدین اور طلبہ پر زور دیا کہ وہ قرآن کے ساتھ مضبوط تعلق قائم رکھیں اور اس کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔
اس موقع پر حافظ عبدالماجد کی والدہ نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے بیٹے کے حافظِ قرآن بننے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
پروگرام کا آغاز سید ثابت بن مولانا سید قطب برماور کی تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا۔ قرآنِ کریم پر منظم کلام سید سالف نے پیش کیا۔ استقبالیہ ضیاء الرحمن رکن الدین نے پیش کیے، جبکہ نظامت اور کلماتِ تشکر سینئر استاد مولوی عبداللہ ربیع خلیفہ ندوی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔
تقریب میں اسکول کے نائب صدر مولانا سید قطب برماور ندوی، الکوثر گرلز کالج کے صدر جناب سید شکیل ایس ایم، دعوت سنٹر کے صدر جناب سید صلاح الدین سمیت متعدد معزز شخصیات، والدین، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی اور حافظ عبدالماجد کو اس عظیم سعادت پر مبارکباد پیش کی۔





