مولانا صغیر احمد رشادی رحمۃ اللہ علیہ

مولاناناصر اکرمی
مؤرخہ22/رجب المرجب1447ھ مطابق12/ جنوری 2026ء بروز پیر حضرت مولانا صغیر احمد رشادی سابق امیر شریعت کرناٹک و مہتمم دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور وفات پاگئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔وفات کی اس خبر جانکاہ کے بعدراقم نے مرحوم کے داماد مولانا افتخار صاحب کو فون کرکے تفصیلات معلوم کیں۔
پیدائش: مرحوم مولانا صغیر صاحب کی پیدائش سن 1950 عیسوی ریاست کرناٹک کے مشہور ضلع میسور کے ایک قصبے میں ہوئی، ابتدا ہی سے دینی ماحول ملا، آپ نہایت با اخلاق،کم گو اور نرم خو تھے، سب سے تواضع سے پیش آتے اور سب کا اکرام ملحوظ رکھتے،مرحوم کی وفات پر ہندوستان بھر سے اکابر حضرات کے جو تعزیتی پیغامات آئے ان میں آپ کی سادگی، نرم دلی،خوش اخلاقی اور علمی قابلیت و صلاحیت کو نمایاں کر کے پیش کیا ہے۔
تعلیم: مولانا مرحوم نے اپنی تعلیم کا آغاز جنوبی ہند کے مشہور و معروف مدرسہ سبیل الرشاد بینگلور سے کیا، آپ نے نورانی قاعدے سے لے کر عالمیت وفضیلت کی تعلیم یہاں حاصل کی،آپ حافظ قران تھے،آپ نے وہاں سن 1391 ہجری میں سند فراغت حاصل کی، اس کے بعد آپ نے اپنے اساتذہ کے مشورے سے اپنی مادر علمی میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا جو تا دم زیست باقی رہا، آپ وہاں نصف صدی سے زائد عرصے تک تدریسی خدمات کے ساتھ اہتمام اور انتظامی امور سے بھی وابستہ رہے اور آپ نے ان تمام امور کو بحسن وخوبی انجام دیا، مرحوم اپنے مدرسے کے شیخ الحدیث جیسے موقر عہدے پر بھی فائز رہے، مرحوم ایک کامیاب مدرس اور مربی کی حیثیت سے طلبہ اور اساتذہ میں مشہور تھے اوراس اعتبار سے آپ نے وہاں ایک بلند مقام حاصل کیا تھا۔
عہدے اورمناصب:مرحوم مدرسہ سبیل الرشاد سے نکلنے والے مجلہ سلسبیل کے مدیر تھے اور اس کے ساتھ ساتھ کئی مدرسوں کے رکن شوری اور سرپرست اور ذمہ دار تھے، آپ نے بعض عرب ملکوں کا سفر کیا،انڈونیشیااورملیشیا میں کئی بار گئے،مسلم پرسنل لا کے تأسیسی رکن کے علاوہ اس کی عاملہ میں بھی شامل تھے، ان سب کلیدی عہدوں کے ساتھ ساتھ مدرسے کا اہتمام وانصرام اور تدریسی خدمات انجام دینا یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی ہے، یہ اسی وقت ممکن ہے جب اللہ کی طرف سے تائید و نصرت حاصل ہو۔
حضرت امیر شریعت کی وفات سے دل مغموم ومحزون ہے، راقم کوحضرت مرحوم سے متعدد مرتبہ ملاقات کا شرف حاصل رہا۔ ایک مرتبہ دارالعلوم سبیل الرشادبنگلور میں استادِ محترم مولانا محمد صادق اکرمی ندوی دامت برکاتہم کی معیت میں حاضری کا شرف حاصل ہوا تھا، جہاں حضرت سے طویل اور یادگار گفتگو رہی، اس وقت مدرسہ میں تعطیل چل رہی تھی،حضرت امیر شریعت نے حضرت مولانا مصطفیٰ رفاعی ندویؒ کو ہماری آمد کی فون پر اطلاع دی تو وہ بھی مدرسہ تشریف لائے اور دیر تک ان حضرات سے گفتگو کا سنہرا موقع ملا، راقم کا حضرت سے فون پربھی برابررابطہ رہتا تھا۔ گلے کی شدید تکلیف کے باوجود حضرت احقر کے ساتھ شفقت فرماتے ہوئے فون پر بات کرتے تھے۔
آپ تادم واپسیں امیر شریعت کے عہدہئ جلیلہ پر رہے اور آپ کو یہ عہدہ حضرت مولانا مفتی اشرف علی باقوی رحمۃ اللہ علیہ کے سانحہ ارتحال کے بعدباتفاق رائے سونپا گیا تھاجس کو آپ نے احسن طریقے سے انجام دیا، اس دوران آپ کی شخصیت غیر متنازع رہی،ہر مکتب فکر کے لوگ آپ کا احترام کرتے اور آپ کی آراء سے اتفاق کرتے۔
مولانا صغیر رشادی طبعاً ایک صوفی منش انسان تھے، آپ وقت کے جید عالم دین صوفی و مربی حضرت مولانا شاہ وصی اللہ صاحب الہ ابادی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہئ اجل حضرت مولانا قمر الزمان صاحب الہ آبادی دامت برکاتہم سے بیعت ہوئے تھے جن سے آپ کو خلافت و اجازت بھی حاصل ہوئی تھی، مرحوم کو اپنے شیخ کے پاس الہ آباد میں کئی بار جانے اور قیام کرنے کے مواقع حاصل ہوئے تھے۔
مرحوم کی وفات سے ایک سال قبل ماہِ اکتوبر ۴۲ء میں بنگلور میں مدرسہ سبیل الرشاد کے زیرِ اہتمام مسلم پرسنل لا بورڈ کا دو روزہ عظیم الشان اجلاس منعقد ہوا تھا، جس کے انتظام وانصرام میں حضرت امیر شریعت پیش پیش رہے اور پروگرام کو کامیاب کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔
حضرت مولاناؒ متعدد خوبیوں کے جامع تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اعلیٰ اوصاف و خصائل سے نوازا تھا۔ آج وہ ہم سب کو غمگین چھوڑ کر اپنے رب کے حضور پہنچ چکے ہیں تاکہ اپنے اعمال کا بہترین صلہ پائیں۔ ہم بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور جملہ اہلِ خانہ، متعلقین اور عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
راقم کی درخواست پرحضرت نے طیبات کے خصوصی شمارہ مولانا غزالی نمبر اسی طرح”ذکراقبال“ میں اپنے تاثرات ارسال فرماکر تشجیع فرمائی تھی، اس کے دو دو اقتباس یہاں نقل کیے جارہے ہیں:
”ذکر اقبال“ میں مولانا محمد اقبال ملا ندوی مرحوم پر اپنے تاثرات یوں تحریر فرماتے ہیں:
”حضرت مولانا محمد اقبال ملا صاحب ندوی رحمہ اللہ علمی و دینی شہر بھٹکل کی علمی و مربی، ماحی بدعات اور مثالی شخصیت تھی، ان سے ہزاروں علماء اور عوام نے تربیت پائی ہے، خود انہوں نے حضرت اقدس مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، حضرت مولانا عبدالحمید ندوی اور حضرت مولانا سید ابرار الحق رحمہم اللہ وغیرہ جیسی کئی اکابر سے تربیت پائی اور کسب فیض فرمایا ہے۔
حضرت مولانا محمد اقبال ملا صاحب رحمہ اللہ کے اندر اللہ نے حق گوئی اور استغناء، بے باکی، خودداری اور افراد ملت کی اصلاح کی فکر جیسی عالی صفات ودیعت فرمائی تھی، حضرت مولانا نے انتہائی سادی زندگی گزاری ہے، معمولی مکان میں رہائش اختیار فرمائی تھی، مذکور صفات، حضرات علماء کے لئے ضروری ہیں، یہ ان کی زینت کا باعث ہیں، اسی صورت میں وہ دینی و اصلاحی و علمی خدمات انتہائی بے لوث ہوکر اخلاص کے ساتھ امت مسلمہ کی خدمت کر سکتے ہیں، مولانا اقبال ملاند وی کئی سال جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے پھر کئی سال رسول اللہ سلیم کی خالص سنت پر عمل کرتے ہوئے امامت بھی فرمائی، ایسی بے شمار خصوصیات بہت کم شخصیات میں پائی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے اثرات قیامت تک باقی رہیں۔“(ذکر اقبال،مطبوعہ معہد الامام حسن البنا بھٹکل)
اسی طرح ”مولانا غزالی خطیبی ندوی ؒ“پر نقوش طیبات کے خصوصی شمارے میں اپنے تاثرات یوں تحریر فرماتے ہیں:
”حضرت مولانا محمد غزالی صاحب بہت سی خوبیوں کے مالک تھے، جامعہ اسلامیہ بھٹکل اور ندوۃ العلماء لکھنو سے فراغت کے کچھ عرصہ بعد مرکز نظام الدین دہلی سے وابستہ ہو گئے، اور اپنی پوری زندگی دعوت وتبلیغ کے لئے وقف کر دی، ہزاروں افراد کی زندگی کی کا یا پلٹنے کا سبب بنے۔ مرکز سے اکثر عربوں کی جماعت لے کر جاتے تھے اور ان کی خوب تربیت فرماتے تھے۔
آج سے تقریبا پینتیس 35 سال پیشتر احقر کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ آپ کی امارت میں عربوں کی جماعت کے ساتھ داونگرہ میں تین دن رہا۔ ان دنوں مولانا کی سادگی علمی کمالات، امت کی اصلاح کی فکر، اپنے عرب ساتھیوں کی عجیب تربیت اور شب کی آخری ساعتوں میں بارگاہ خداوندی میں گڑ گڑانا اور بلبلانا؛ ان کی آہوں کو کوسنا سنا اور دیکھا۔ اسی وقت یہ نا چیز مولانا سے بہت متاثر ہو گیا۔
جب بھی مولانا سے میری ملاقات سبیل الرشاد میں یا مرکز نظام الدین میں ہوتی تو بڑی محبت اور شفقت فرماتے اور مرکز نظام الدین بھی جانا ہوتا تو وہاں کے تمام اکابر سے ملاقات کراتے اور میز بانی فرماتے انتہائی خوش اخلاق اور خوش مزاج تھے۔ رمضان 1439 میں یہ عظیم مجاہد اپنی عمر کے چوہتر74 بہاریں دیکھ کر اس دار فانی سے دار باقی کی طرف کوچ کر گیا۔ احقر نے انتقال کی یہ روح فرسا خبرسنی تو بہت افسوس ہوا کہ امت ایک داعی کبیر سے محروم ہوگئی جس کا نعم البدل نہیں مل سکتا۔“ (نقوش طیبات،مولانا غزالی خطیبی نمبر)
معہد امام حسن البنا کی طرف سے ان کے اہل خانہ کے نام تعزیتی خط بھیجا گیا اور معہد میں معلمات اور طالبات نے قرآن خوانی اور دعائے مغفرت کیں۔
اللہ تعالی آپ کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت بخشے،آپ کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے اورملت کو آپ کا نعم البدل عطا کرے اور پس مانندگان کو صبر جمیل کی توفیق دے۔

شیئر کریں۔