کم بلندی پر اڑنے والے طیاروں نے شہریوں میں تجسس پیدا کر دیا : انتظامیہ نے کی وضاحتکاروار(فکروخبرنیوز) اترا کنڑ ضلع کے مختلف حصوں میں گزشتہ چند دنوں سے ایک طیارے کی نچلی پروازوں نے مقامی باشندوں میں تجسس اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ عوامی ردعمل اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی قیاس آرائیوں کے بعد ضلعی انتظامیہ نے صورتحال کو واضح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ پروازیں کسی خطرے کا باعث نہیں بلکہ ایک اہم سائنسی مشن کا حصہ ہیں۔
حکام کے مطابق یہ پروازیں ‘نیشنل ایئر بورن جیو فزیکل میپنگ پروگرام’ کے تحت زیر زمین معدنی وسائل کی نشاندہی کے لیے کی جا رہی ہیں۔ یہ سروے ‘جیولوجیکل سروے آف انڈیا’ (بنگلورو) کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے جس کا مقصد زمین کی سطح کے نیچے چھپے قیمتی معدنی ذخائر کا سائنسی ڈیٹا اکٹھا کرنا ہے۔
اس آپریشن کے لیے استعمال ہونے والا خصوصی ہوائی جہاز جدید ترین سائنسی آلات سے لیس ہے جو گہرائی سے ارضیاتی معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ وسیع تر پروجیکٹ کرناٹک کے علاوہ مہاراشٹر اور گوا کے مخصوص علاقوں پر محیط ہے، جس میں اترا کنڑ ضلع کو ‘بلاک 7’ کے تحت شامل کیا گیا ہے۔
سروے سے حاصل ہونے والی معلومات کو ‘نیشنل جیو سائنس ڈیٹا ریپوزٹری پورٹل’ پر اپ لوڈ کیا جائے گا، جس سے سرکاری ایجنسیوں اور محققین کو مستقبل میں مدد ملے گی۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ان پروازوں سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں پر کان نہ دھریں اور نہ ہی گمراہ کن معلومات شیئر کریں۔
انتظامیہ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ حکومت سے منظور شدہ ایک خالص سائنسی عمل ہے، لہٰذا عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ شہریوں سے اس اہم کام میں تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔




