بھٹکل فکرو خبر نیوز) نیشنل ہائی وے کے کنارے تعمیر ہو رہے متنازعہ ’’مورین کٹے‘‘ کو ہٹائے جانے کے خلاف آج جمعہ کے روز بی جے پی کی جانب سے ایک زبردست احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔ اہم پیش رفت کے تحت منعقدہ اس احتجاجی جلسے میں کرناٹک اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف آر۔ اشوک، اتر کنڑا کے نومنتخب رکنِ پارلیمان ویشویشور ہیگڈے کاگیری اور ضلع بھر کے متعدد سینیئر بی جے پی رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس موقع پر شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔
احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف آر۔ اشوک نے ریاستی کانگریس حکومت پر شدید تنقید کی اور الزام لگایا کہ سدارامیا حکومت ہندو مذہبی مقامات اور عوامی جذبات کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو رہی ہے۔ انہوں نے ’’مورین کٹے‘‘ کو منہدم کیے جانے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ انہوں نے تازہ اپڈیٹ دیتے ہوئے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی انہوں نے اعلیٰ پولیس حکام سے رابطہ کر کے فوری کارروائی اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔ آر۔ اشوک کے مطابق اس معاملے میں صرف گرفتاری کافی نہیں ہے بلکہ ملوث عناصر کے خلاف مزید سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
بی جے پی رہنما نے کانگریس پر نشانہ سادھتے ہوئے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت ایک مخصوص طبقے کو خوش کرنے کی سیاست کر رہی ہے جس کی وجہ سے سماج میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے بڑا اعلان کیا کہ اگر مقررہ وقت کے اندر ’’مورین کٹے‘‘ کی دوبارہ تعمیر مکمل نہیں کی گئی، تو بی جے پی لیڈران خود اس کی تعمیر کے لیے آگے آئیں گے۔ اپنی تقریر کے دوران آر اشوک نے بنگلہ دیشی دراندازی کا مسئلہ بھی اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ کرناٹک میں غیر قانونی تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جن کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔
واضح رہے کہ یہ جلوس پبلک چبوترے سے نکل کر منی ودھان سودا پہنچا جہاں ممبرنڈم پیش کیا گیا جہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔




