کرناٹک کا اگلا وزیر اعلیٰ کون؟ سدارامیا کے استعفے کے بعد ڈی کے شیوکمار کا تبصرہ کرنے سے گریز

کرناٹک میں وزیر اعلیٰ سدارامیا کے استعفے کے بعد ریاست میں قیادت کی تبدیلی کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ اس تمام تر صورتحال کے درمیان ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اور نئے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے سب سے مضبوط امیدوار ڈی کے شیوکمار نے فی الحال محتاط حکمت عملی اپناتے ہوئے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب ڈی کے شیوکمار سے وزیر اعلیٰ کی کرسی اور نیم پلیٹ کی تبدیلی کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس معاملے پر اپنا منہ نہیں کھولیں گے۔ راجیہ سبھا کی نامزدگیوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کے پاس کوئی تازہ ترین اپ ڈیٹ نہیں ہے اور یہ فیصلہ پارٹی کی اعلیٰ کمان ہی کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی قیادت دیگر ریاستوں کے ساتھ مل کر ناموں کا اعلان کرے گی، جس کے لیے کچھ مشاورت جاری ہے، اور جو بھی حتمی فیصلہ ہوگا وہ سب کے سامنے آ جائے گا۔

دوسری جانب، سبکدوش ہونے والے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے جمعرات کو اپنا استعفیٰ پیش کرنے کے بعد دہلی کا رخ کیا، جہاں انہوں نے کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے اور سینئر رہنما راہول گاندھی سمیت دیگر اعلیٰ قیادت سے طویل ملاقاتیں کیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری رندیپ سرجے والا نے راہول گاندھی اور سدارامیا کی ملاقات کو نہایت مثبت قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ ریاست میں اقتدار کی منتقلی کا یہ عمل بغیر کسی رکاوٹ کے خوش اسلوبی سے مکمل ہوگا۔

کرناٹک میں 2023 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی شاندار کامیابی کے بعد سے ہی سدارامیا اور ڈی کے شیوکمار کے درمیان وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے ایک رسہ کشی دیکھی گئی تھی۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق اس وقت دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک غیر اعلانیہ پاور شیئرنگ فارمولہ طے پایا تھا جس کے تحت ڈی کے شیوکمار کو ایک مقررہ وقت کے بعد وزیر اعلیٰ بننا تھا۔ اب جبکہ سدارامیا نے استعفیٰ دے دیا ہے، تو اس فارمولے پر عمل درآمد کے اشارے مل رہے ہیں۔ تاہم، سدارامیا نے راجیہ سبھا میں جانے کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ قومی سیاست کے بجائے کرناٹک کی ریاستی سیاست میں ہی اپنا فعال کردار ادا کرتے رہیں گا۔

اس قیادت کی تبدیلی کا براہ راست اثر کرناٹک کی ریاستی سیاست، انتظامیہ اور آئندہ کی سیاسی صف بندیوں پر پڑے گا۔ ایک ایسے وقت میں جب کانگریس کو قومی سطح پر اپنا سیاسی موقف مضبوط کرنا ہے، ایک اہم ریاست میں بغیر کسی بڑے بحران کے اقتدار کی پرامن منتقلی پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کے لیے ایک مثبت پیغام ثابت ہوگی۔

نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا ایک انتہائی اہم اجلاس ہفتے کی شام چار بجے بنگلورو میں طلب کیا گیا ہے۔ کانگریس رہنما سلیم احمد کے مطابق اس اجلاس میں پارٹی کے سینئر مبصرین کے سی وینوگوپال اور رندیپ سرجے والا بھی شریک ہوں گے۔ قوی امکان ہے کہ اسی اجلاس میں کرناٹک کے نئے وزیر اعلیٰ کے نام کا باقاعدہ اور حتمی اعلان کر دیا جائے گا، جس کے لیے ڈی کے شیوکمار واضح طور پر فرنٹ رنر ہیں۔

اس سیاسی پیش رفت کے فوری بعد ڈی کے شیوکمار نے نئی دہلی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے اور سینئر رہنما راہول گاندھی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ریاست کی آئندہ سیاسی حکمت عملی اور نئی کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوسری طرف سدارامیا بھی اپنے بیٹے اور قانون ساز کونسل کے رکن یتیندر سدارامیا، کے جے جارج اور پریانک کھرگے کے ہمراہ دہلی پہنچے ہیں تاکہ منتقلی کے عمل کو خوش اسلوبی سے مکمل کیا جا سکے۔

کرناٹک کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ مئی 2023 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی شاندار جیت کے بعد سدارامیا اور ڈی کے شیوکمار کے درمیان ڈھائی ڈھائی سال کی اقتدار کی شراکت داری کا ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ سدارامیا کی جانب سے اس معاہدے کا پاس رکھتے ہوئے استعفیٰ دینا پارٹی کے اندرونی ڈسپلن اور تنظیمی استحکام کا عکاس ہے۔ تاہم اب ڈی کے شیوکمار کے لیے اگلا بڑا چیلنج نئی کابینہ کی متوازن تشکیل ہوگی کیونکہ ریاست کے مختلف اضلاع اور برادریوں کی جانب سے وزارتوں کے لیے مطالبات سامنے آنے لگے ہیں۔

کولار ضلع سے تعلق رکھنے والے تین ارکانِ اسمبلی اور دو ارکانِ قانون ساز کونسل بشمول نصیر احمد نے پارٹی صدر ملکارجن کھرگے کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے اپنے خطے اور مخصوص طبقات کے لیے نئی کابینہ میں مناسب نمائندگی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ستیش جارکی ہولی کے حامیوں نے بھی مطالبات شروع کر دیے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی حکومت کو تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے کافی متوازن فیصلے کرنے ہوں گے۔ مسلم کمیونٹی اور دیگر پسماندہ طبقات کی جانب سے بھی یہ توقعات وابستہ ہیں کہ نئی انتظامیہ ان کے سماجی اور معاشی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی۔

ریاست میں نئی حکومت کی باقاعدہ تشکیل کے لیے کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے سکریٹری الہم پربھو پاٹل کی جانب سے تمام ارکانِ اسمبلی اور ارکانِ کونسل کو ایک مکتوب جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق ہفتے کی شام چار بجے ودھان سودھا کے کانفرنس ہال میں ایک اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں کانگریس کے مرکزی مبصرین کی موجودگی میں نئے قائد کا انتخاب کیا جائے گا جس کے بعد نئی حکومت کی حلف برداری کی تاریخ کا اعلان متوقع ہے۔

شیئر کریں۔