کاروار (فکروخبر نیوز) ضلع اتر کنڑا کے صدر مقام کاروار میں اتوار کے روز تیز ہواؤں کے ساتھ ہونے والی موسلادھار بارش نے کئی علاقوں میں تباہی مچا دی۔ شدید آندھی کے باعث مختلف مقامات پر بڑے اور پرانے درخت جڑ سے اکھڑ کر گر گئے، جس سے سرکاری عمارتوں، گاڑیوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سب سے بڑا واقعہ جے ایم ایف سی عدالت کے احاطے میں پیش آیا، جہاں ایک دیو ہیکل درخت اسسٹنٹ گورنمنٹ پروسیکیوٹر (APP) کے دفتر پر آ گرا۔ جس سے دفتر کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ چونکہ اتوار کے سبب عدالت اور دفتر بند تھا، اس لیے کوئی بھی ملازم یا شہری وہاں موجود نہیں تھا، جس سے ایک ممکنہ بڑا حادثہ ٹل گیا۔ اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ، پولیس اور میونسپل کارپوریشن کا عملہ موقع پر پہنچ گیا اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ بعد ازاں دفتر میں محفوظ اہم سرکاری ریکارڈ اور دستاویزات کو احتیاطی طور پر عدالت کی دوسری عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔
دوسری جانب کوڈی باغ کے الویواڈ پورٹ روڈ پر بھی ایک بڑا درخت سڑک پر گر پڑا، جس کے نتیجے میں سڑک کنارے نصب چار بجلی کے کھمبے ٹوٹ گئے۔ درخت کی زد میں آ کر ایک آٹو رکشہ اور تین دو پہیہ گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب سڑک پر آمد و رفت نہ ہونے کے برابر تھی، جس کے باعث راہگیر کسی بڑے حادثے سے محفوظ رہے۔
درخت سڑک کے درمیان گرنے سے کچھ وقت کے لیے ٹریفک متاثر رہا۔ بلدیہ کے عملے اور مقامی نوجوانوں نے مشترکہ کوششوں سے درخت کو کاٹ کر سڑک سے ہٹایا، جس کے بعد آمد و رفت بحال ہو سکی۔ تحصیلدار نشچل نرونا نے متاثرہ مقامات کا دورہ کر کے نقصان کا جائزہ لیا اور متعلقہ محکموں کو ضروری اقدامات کی ہدایت دی۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے ساحلی اضلاع میں بارش اور تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری رہنے کے امکانات کے بعد انتظامیہ نے شہریوں سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ خراب موسم کے دوران درختوں کے قریب گاڑیاں کھڑی کرنے سے گریز کریں اور غیر ضروری سفر سے حتی الامکان بچیں۔




