بنگلورو(فکروخبرنیوز) کرناٹک کے عوام کو مہنگائی کا ایک اور شدید جھٹکا لگنے جا رہا ہے۔ ریاست میں دودھ کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اب کرناٹک ملکس فیڈریشن (KMF) نے نندنی (Nandini) برانڈ کے دودھ اور دہی کی فروخت کی قیمتوں میں مزید اضافہ کا اعلان کر دیا ہے۔ ریاستی کابینہ کے اجلاس میں لیے گئے فیصلے کے مطابق نئی اور بڑھی ہوئی قیمتیں یکم نومبر سے نافذ العمل ہوں گی۔
نئی قیمتوں کے تحت 1 لیٹر دہی کی قیمت 54 روپے سے بڑھا کر 68 روپے کر دی گئی ہے، یعنی فی لیٹر 14 روپے کا سیدھا اضافہ ہوا ہے، جبکہ 500 ملی لیٹر (آدھا لیٹر) دہی 6 روپے کے اضافے کے ساتھ 28 روپے کے بجائے 34 روپے میں ملے گا۔ اسی طرح مختلف قسم کے دودھ کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ ٹونڈ ملک (Toned Milk) کی قیمت 46 روپے سے بڑھا کر 54 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، جبکہ ہوموجنائزڈ ٹونڈ ملک اب 47 روپے کے بجائے 56 روپے فی لیٹر ملے گا۔
کاؤ ملک (گائے کا دودھ) 50 روپے سے بڑھ کر 58 روپے، سپیشل ٹونڈ اور شبہم ملک 52 روپے سے بڑھ کر 64 روپے فی لیٹر ہو گئے ہیں۔ کے ایم ایف (KMF) کے مطابق، اس سال مناسب وقت پر بارش نہ ہونے کی وجہ سے چارے اور پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ڈائری کسانوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ کابینہ کی ہدایت کے مطابق، ٹونڈ ملک کی قیمت میں جو 8 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، اس میں سے 7 روپے براہِ راست دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کو منتقل کیے جائیں گے تاکہ ڈائری سیکٹر کو سہارا دیا جا سکے۔




