بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک سے صحت کے شعبے کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک اور ہولناک رپورٹ سامنے آئی ہے، جس نے طبی ماہرین اور عوامی حلقوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ تین برسوں کے دوران ریاست میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اور ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اس معینہ مدت میں کرناٹک کے اندر ۲؍ لاکھ ۶۳؍ ہزار ۵۸۳؍ کینسر کے نئے کیسز رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ یہ موذی مرض اب کسی مخصوص عمر تک محدود نہیں رہا بلکہ بچوں سے لے کر بوڑھوں تک، ہر عمر کے افراد کو تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ سب سے زیادہ پریشان کن امر یہ ہے کہ اسکربننگ کے دوران بچوں میں بھی کینسر کی تشخیص کی شرح سال بہ سال بڑھ رہی ہے۔
نیشنل کینسر رجسٹری پروگرام کی رپورٹ کے مطابق، جدید طرزِ زندگی، غیر صحت بخش غذائی عادات، موروثی اثرات اور مضرِ صحت سرگرمیاں اس موذی مرض کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات بن کر ابھری ہیں۔ گنگاوتی کے تعلقہ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ایشور ساودی نے بتایا کہ اگرچہ کینسر کی سینکڑوں اقسام موجود ہیں، لیکن موجودہ دور میں منہ کا کینسر (اورل کینسر)، چھاتی کا کینسر (بریسٹ کینسر) اور رحم کے دہانے کا کینسر (سروائیکل کینسر) سب سے زیادہ عام پائے گئے ہیں۔ محکمہ صحت کے تین بڑے اسکریننگ پروگراموں کے دوران صرف ان تین اقسام کے ۱۲؍ ہزار ۵۸۳؍ کیسز کا انکشاف ہوا، جن میں ۶ ہزار ۵۳۲؍ منہ کے کینسر، ۲ ہزار ۶۱۱؍ چھاتی کے کینسر اور ۳ ہزار ۴۴۰؍ سروائیکل کینسر کے مریض شامل ہیں۔ دستیاب ڈیٹا کے مطابق، ریاست میں کینسر کا مجموعی بوجھ سال ۲۰۲۳ء میں ۸۶ ہزار ۵۶۳؍ کیسز سے بڑھ کر ۲۰۲۴ء میں ۸۷ ہزار ۸۵۵؍ اور سال ۲۰۲۵ء میں ۸۹ ہزار ۱۶۵؍ تک پہنچ گیا، جو مسلسل بڑھتی ہوئی گرافک لائن کو ظاہر کرتا ہے۔
اس رپورٹ کا سب سے دکھاوا اور حساس پہلو بچوں میں کینسر کا بڑھتا ہوا گراف ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں ۰ سے ۱۹؍ سال کی عمر کے ۵ ہزار ۵۱۱؍ بچوں میں کینسر پایا گیا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق، بچوں میں کینسر کے کل کیسز میں سے ۳۰؍ سے ۳۵؍ فیصد مریض بلڈ کینسر (لیوکیمیا) کا شکار ہیں، جبکہ ۲۰؍ سے ۲۵؍ فیصد بچوں میں دماغ اور اعصاب کے کینسر کی تشخیص ہوئی ہے۔ بقیہ کیسز لمفوما، نیوروہلاسٹوما، اور ہڈیوں و گردے کے کینسر سے متعلق ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں کینسر کی بنیادی وجہ جینیاتی خرابیاں اور پیدائش سے قبل کے عوامل ہیں۔ طبی رپورٹس کے مطابق دورانِ حمل ماں سے بچے میں کینسر کے خلیات کی منتقلی اور تابکاری کا سامنا (ریڈی ایشن ایکسپوزر) اس کے بڑے محرکات ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، گزشتہ برس فاسٹ فوڈز میں استعمال ہونے والے غیر منظور شدہ مصنوعی رنگوں کے کینسر سے براہِ راست تعلق کے انکشاف کے بعد حکومت نے ایسے زہریلے مادوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔
ریاست میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے کرناٹک حکومت نے کینسر کے علاج کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ کپلو کے کِمس (KIMS) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر وجیناتھ ایتاگی نے بتایا کہ حکومتی ہدایات کے تحت ڈسٹرکٹ ٹیچنگ ہاسپیٹل میں ایک کینسر ڈے کیئر سینٹر قائم کیا گیا ہے، جہاں ماہر ڈاکٹر ہفتے میں تین دن مریضوں کو کیموتھراپی اور دیگر طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ حکومت نے کینسر کے علاج کے یونٹس کو صرف بنگلور اور ہبلی تک محدود رکھنے کے بجائے ریاست کے ۱۶؍ اضلاع کے سرکاری اسپتالوں میں کینسر ڈے کیئر کیموتھراپی سینٹرز قائم کیے ہیں تاکہ ابتدائی اسٹیج کے مریضوں کو مقامی سطح پر راحت مل سکے۔ مزید برآں، کپل ضلع کے منیرآباد میں ایک جدید کینسر اسپتال کی تعمیر کے لیے خصوصی بجٹ منظور کیا گیا ہے، جس سے کپل، وجیا نگر اور بلاری اضلاع کے مریضوں کو فائدہ پہنچے گا۔ تاہم، یہ تمام اعداد و شمار صرف سرکاری اسپتالوں کے ہیں اور ان میں نجی اسپتالوں کا ڈیٹا شامل نہیں ہے، جس کا مطلب ہے کہ ریاست میں کینسر کے مریضوں کی اصل تعداد اس سرکاری رپورٹ سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔




