خاندانی نظام کے استحکام کے لیے اسلامی و اخلاقی تربیت ناگزیر: مولانا خواجہ معین الدین اکرمی ندوی مدنی
بھٹکل(فکروخبرنیوز) مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین کا سالانہ اجلاسِ عام بروز جمعہ بعد عشاء خلیفہ جامع مسجد بھٹکل میں منعقد ہوا جس میں سال بھرکی کارکردگی پر مشتمل تفصیلی رپورٹ جنرل سکریٹری جناب اسماعیل جوباپو نے پیش کی جبکہ مالیاتی رپورٹ مولوی اسماعیل انجم گنگاولی نے حاضرین کے سامنے رکھی۔
جماعت کے چیف قاضی مولانا خواجہ معین الدین اکرمی ندوی مدنی نے نوجوانوں کو منشیات، غیر اخلاقی سرگرمیوں، غیر قانونی اعمال اور حرام کمائی سے مکمل اجتناب کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ایسی عادات انسان کے مستقبل کو برباد کرنے کے ساتھ خاندان اور معاشرے کے لیے بھی سنگین مسائل کا سبب بنتی ہیں، اس لیے ہر فرد کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ملک کے قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔ انہوں نے خاندانی زندگی کے حوالے سے کہا کہ نکاح ایک عبادت ہے اور اس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ والدین شادی سے قبل بچوں کی اسلامی، اخلاقی اور خاندانی تربیت کا اہتمام کریں۔ انہوں نے بیٹیوں کو صبر، حکمت، شوہر اور سسرال کے احترام اور رشتوں کی حفاظت کی تعلیم دینے جبکہ بیٹوں کو بیویوں کے حقوق، حسنِ سلوک، شفقت اور انصاف کی تربیت دینے پر زور دیا۔ مولانا نے کہا کہ ازدواجی زندگی میں پیدا ہونے والے اختلافات کو تحمل، باہمی گفت و شنید اور صلح و مفاہمت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے اور معمولی باتوں کو علیحدگی کا سبب نہ بنایا جائے۔
نائب قاضی مولانا ایمن قمری ندوی نے اپنے خطاب میں شریعت کے مطابق زندگی گزارنے پر زور دیتے ہوئے غیرشرعی کاموں سے اجتناب کرنے اور جماعتی کاموں کے استحکام کے لیے کوششیں کرنے کی بات کہی۔ نائب صدرڈاکٹر زبیر نے بھی اپنے تأثرات پیش کی اور صدارتی خطاب سید محی الدین ایس ایم مارکیٹ نے پیش کیے۔ مولانا خواجہ معین الدین ندوی کی دعا پر پر یہ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔




