بیسٹ اسکول ایوارڈ انجمن گرلز ہائی اسکول نوائط کالونی اور بیسٹ ٹیچر ایوارڈ محترمہ عائشہ مرفوعہ سدی باپا کے نام
بھٹکل (فکروخبر نیوز) رابطہ سوسائٹی بھٹکل کے زیرِ اہتمام رابطہ ایوارڈ 2026 کی پروقار تقریب آج اسلامیہ اینگلو اردو ہائی اسکول کے وسیع و عریض انجمن گراؤنڈ میں منعقد ہوئی، جس میں تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں مختلف زمروں میں ایوارڈز سے نوازا گیا۔ تقریب میں ایس ایس ایل سی، پی یو سی، گریجویشن، پوسٹ گریجویشن اور خصوصی اعزازات کے علاوہ عالمیت کے مرحلے میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات بھی ایوارڈ کے مستحق قرار پائے۔ امسال عثمان حسن میموریل بیسٹ اسکول ایوارڈ انجمن گرلز ہائی اسکول، نوائط کالونی کو جبکہ ایس ایم سید خلیل الرحمن بیسٹ ٹیچر ایوارڈ انجمن میں گزشتہ 19 برس سے تدریسی خدمات انجام دینے والی محترمہ عائشہ مرفوعہ سدی باپا کو دیا گیا۔
تقریب کو دو نشستوں میں تقسیم کیا گیا تھا، جن میں ایوارڈز کی تقسیم کے ساتھ مختلف مہمانوں نے نئی نسل کی تعلیم، تربیت اور مستقبل کے تقاضوں پر اظہارِ خیال کیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی، ملک کی ممتاز تعلیمی شخصیت اور سول سروسز کے میدان میں طلبہ کی رہنمائی کرنے والے جناب سمیر احمد صدیقی نے اپنے پرمغز خطاب میں مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور اور اس کے تعلیم و روزگار پر اثرات پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ بھٹکل میں دینی و عصری تعلیم کو ساتھ لے کر چلنے اور نوجوانوں کی علمی ترقی کے لیے کی جانے والی کوششیں قابلِ مبارکباد ہیں، تاہم یہ سفر بھٹکل تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ تعلیمی خدمات کا دائرہ وسیع کرکے اس کی روشنی ملک اور دنیا کے دیگر علاقوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دور محض ملازمت تلاش کرنے کا نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے کا دور ہے؛ مصنوعی ذہانت کے باعث روایتی ملازمتوں کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے، اس لیے نئی نسل میں ایسی تخلیقی، فکری اور عملی صلاحیتیں پیدا کی جائیں کہ دنیا ان کی خدمات سے استفادہ کرنے پر مجبور ہو۔
سمیر احمد صدیقی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر بڑھتے ہوئے انحصار کے باعث خدشہ ہے کہ نئی نسل اہم فیصلوں کے لیے بھی اس پر انحصار کرنے لگے، اس لیے بچوں میں خود سوچنے، سوال اٹھانے، فیصلہ کرنے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے موجودہ دور کو نوجوانوں کے لیے ایک غیر معمولی موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج وہ معلومات اور وسائل چند لمحوں میں حاصل کیے جا سکتے ہیں جن تک پہنچنے کے لیے گزشتہ نسلوں کو کئی دہائیاں درکار ہوتی تھیں۔ اس لیے تعلیم کا مقصد صرف سوالات کے جوابات دینا نہیں بلکہ نئے اور بہتر سوالات پیدا کرنے، تحقیق کرنے، تخلیق کرنے اور اپنے علم کو عملی میدان میں استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے مسلمانوں کی تاریخ میں علم، امانت اور دیانت کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ قوم اپنی صلاحیتوں اور اخلاقی اقدار کے ساتھ آگے بڑھے تو اسے پیچھے ہٹانا آسان نہیں ہوگا۔
رابطہ سوسائٹی کے سکریٹری جنرل جناب منیری عتیق الرحمن نے رابطہ کے مختلف شعبوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے تعلیمی و سماجی میدان میں ادارے کی خدمات پر روشنی ڈالی اور تعاون کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔ ایوارڈ حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز ان کے سفر کی منزل نہیں بلکہ ایک نئے اور بڑے سفر کا آغاز ہے؛ انہیں اپنی تعلیم و صلاحیتوں کو قوم و ملت کے لیے نفع بخش بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے طلبہ کی کامیابی میں والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے کردار کو بھی سراہا۔
قاضی جماعت المسلمین بھٹکل مولانا عبدالرب ندوی نے طلبہ کو تعلیم کے ساتھ اپنے اخلاق و کردار کی اصلاح پر توجہ دینے کی نصیحت کی، جبکہ قاضی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل مولانا خواجہ معین الدین مدنی نے طلبہ و طالبات کو محنت، مسلسل جدوجہد اور تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی، رابطہ کے صدر جناب مصباح فاروق نے صدارتی خطاب کیا۔
پروگرام کے کنوینر جناب عبدالسلام دامدا ابو نے بیسٹ ٹیچر اور بیسٹ اسکول ایوارڈز کا اعلان کیا، جبکہ رائد قاضی نے رابطہ کا ترانہ پیش کیا۔ تقریب کے اختتام سے قبل نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو مختلف زمروں میں اعزازات پیش کیے گئے۔ اس موقع پر صدر انجمن حامیِ مسلمین بھٹکل جناب یونس قاضیا، صدر مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل جناب عنایت اللہ شاہ بندری، خازن رابطہ سوسائٹی مولانا صابر علی اکبرا ندوی اور دیگر ذمہ داران موجود تھے۔ پروگرام مغرب کے قریب اختتام پذیر ہوا۔







