بنگلورو (فکروخبر نیوز) کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا ہے کہ خشک سالی کے باعث فصلوں کے نقصان سے متاثر ہونے والے تمام مستحق کسانوں تک بغیر کسی غیر ضروری پریشانی کے معاوضہ پہنچانا ریاستی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسانوں کو راحت فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ ہے اور امدادی رقم کی تقسیم میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔
نائب وزیراعلیٰ نے اپوزیشن لیڈر آراشوک کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری حکم نامے میں شامل 17 نکات کو کسانوں کے لیے 17 رکاوٹوں کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہے۔ ان کے مطابق ان نکات کا مقصد امداد حاصل کرنے والے کسانوں کی اہلیت کی جانچ اور مستحق افراد کی درست شناخت کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ کسانوں کے لیے مشکلات پیدا کرنا۔ ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کو ان کا حق ملے اور امدادی رقم کی تقسیم کا عمل منظم اور شفاف رہے۔
واضح رہے کہ کرناٹک کے مختلف علاقوں میں بارش کی کمی کے باعث بڑے پیمانے پر فصلوں کو نقصان پہنچا ہے، جس سے کسانوں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ ریاستی حکومت نے اس صورت حال کے پیش نظر متاثرہ کسانوں کے لیے امدادی اقدامات شروع کیے ہیں۔
اس سے قبل نائب وزیراعلیٰ نے اعلان کیا تھا کہ حکومت پہلے مرحلے میں تقریباً 50 لاکھ کسانوں کو فی کس 2,500 روپے کی عارضی امداد فراہم کرنے کے لیے مجموعی طور پر 1,250 کروڑ روپے مختص کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔
ریاستی حکومت نے خشک سالی سے ہونے والے نقصانات کے پیش نظر مرکزی حکومت سے بھی مالی تعاون طلب کیا ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔
نائب وزیراعلیٰ نے اپنے مؤقف میں اس بات پر زور دیا کہ خشک سالی سے پریشان کسانوں کو امداد کی فراہمی حکومت کی اہم ذمہ داری ہے اور اس عمل میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا نہیں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری حکم نامے میں درج شرائط کا مقصد کسانوں کو معاوضے سے محروم کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ امداد صحیح اور مستحق کسانوں تک پہنچے۔




