کرناٹک میں شیوکمار کونئے چینلجزکا سامنا ، محکموں کی تقسیم سے ناراض وزراء دہلی روانہ

کرناٹک میں چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار کی قیادت والی کانگریس حکومت میں اندرونی خلفشار اور ناراضگی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ابھی چند روز قبل ہی سینئر رہنما رام لنگا ریڈی کی بغاوت کو سرد کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، لیکن اب کابینہ کے وزراء اور اراکینِ اسمبلی کی جانب سے محکموں کی الاٹمنٹ پر عدم اطمینان کے نئے سگنلز موصول ہو رہے ہیں۔ تازہ ترین پیش رفت کے مطابق، کرناٹک حکومت کے دو اہم لیڈران کانگریس ہائی کمان سے ملاقات اور اپنی شکایات درج کرانے کے لیے ملک کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچ گئے ہیں، جس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ شیوکمار حکومت کے لیے چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔

دہلی پہنچنے والے رہنماؤں میں بنگلور ڈیولپمنٹ (بنگلورو ترقیاتی) کے وزیر کرشنا بائرے گوڑا شامل ہیں، جنہوں نے پورٹ فولیو الاٹ کیے جانے کے باوجود اب تک باضابطہ طور پر اپنے محکمے کا چارج نہیں سنبھالا ہے۔ خاندانی اور سیاسی ذرائع کے مطابق، کرشنا بائرے گوڑا اس بات پر بضد ہیں کہ بنگلور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (BDA) اور بنگلورو میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (BMRDA) کو بھی ان کے محکمے کے تحت ہی شامل کیا جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان دونوں کلیدی ایجنسیوں پر کنٹرول کے بغیر اس محکمے کے پاس بنگلور کی ترقی اور منصوبہ بندی کے لیے محدود اختیارات رہ جائیں گے۔ ان کے اس اقدام سے سیاسی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں کہ ریاست میں محکموں کی تقسیم کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔

دوسری طرف، کانگریس کے نوجوان اور متحرک ایم ایل اے رضوان ارشد بھی نئی دہلی میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ریاستی کابینہ میں شامل نہ کیے جانے پر ناراض ہیں اور اپنے لیے وزارت کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے پارٹی کی مرکزی قیادت کے پاس لابی نگ کر رہے ہیں۔ ان دونوں رہنماؤں کے بیک وقت دہلی پہنچنے سے اپوزیشن کو حکومت پر نشانہ سادھنے کا موقع مل گیا ہے، اور یہ تاثر گہرا ہوا ہے کہ کانگریس کے اندر اقتدار اور عہدوں کی رسہ کشی شدت اختیار کر چکی ہے، جو کہ ڈی کے شیوکمار کے لیے اپنی انتظامیہ کو مستحکم رکھنے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

واضح رہے کہ یہ بحران ایک ایسے وقت میں دوبارہ ابھرا ہے جب گزشتہ ہفتے ہی چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار نے سینئر لیڈر رام لنگا ریڈی کے ساتھ آدھی رات کو طویل میٹنگ کر کے ان کا استعفیٰ واپس کروایا تھا۔ رام لنگا ریڈی کو میجر اینڈ میڈیم اریگیشن (آبپاشی) کا محکمہ دیا گیا تھا، لیکن انہوں نے یہ الزام لگاتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا کہ حکومت کی تشکیل سے قبل ان سے بنگلور ڈیولپمنٹ کا محکمہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا جسے پورا نہیں کیا گیا۔ اگرچہ شیوکمار نے اسے ایک "خاندانی معاملہ” قرار دے کر حل کرنے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن کرشنا بائرے گوڑا اور رضوان ارشد کے موجودہ اقدامات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ خاندانی جھگڑا ابھی تھما نہیں ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کرناٹک کانگریس میں لیڈروں کی ذاتی خواہشات اور محکموں کی اہمیت کو لے کر جاری یہ رسہ کشی حکومت کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایک مستحکم اور متحد انتظامیہ کا وعدہ کر کے اقتدار میں آنے والے ڈی کے شیوکمار کے لیے اب صرف ایک رہنما کی ناراضگی دور کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ انہیں پوری ٹیم کے اندر توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ اگر کانگریس ہائی کمان نے اس معاملے میں فوری اور منصفانہ فیصلہ نہ کیا، تو ریاست میں سیاسی عدم استحکام کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر ریاستی ترقی اور عوام کے مسائل پر پڑے گا۔

شیئر کریں۔