اڈپی (فکروخبر نیوز) کرناٹک حکومت نے ہنگامی طبی خدمات کو مزید مؤثر اور بروقت بنانے کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے ریاست بھر میں 108 ایمبولینس سروس کے لیے 15 منٹ کے اندر مریض یا جائے حادثہ تک پہنچنے کا ہدف مقرر کر دیا ہے۔ وزیرِ صحت یو ٹی قادر نے اعلان کیا ہے کہ مقررہ وقت کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ ایمبولینس ڈرائیور پر 5 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
اڈپی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ صحت نے کہا کہ سڑک حادثات، دل کے دورے، زچگی کے ہنگامی معاملات اور دیگر سنگین طبی حالات میں ابتدائی چند منٹ انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع پر بروقت طبی امداد مریض کی جان بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اسی لیے حکومت نے ایمبولینس سروس کو مزید فعال بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بعض علاقوں سے ایمبولینس کے تاخیر سے پہنچنے کی شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ دیہی علاقوں میں بعض اوقات ایمبولینس کو موقع پر پہنچنے میں ایک گھنٹے تک کا وقت لگ جاتا تھا، جبکہ شہری علاقوں میں بھی 20 سے 30 منٹ کی تاخیر دیکھی گئی۔ حکومت نے اس صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے 15 منٹ کی حد مقرر کی ہے، جو قومی معیار 20 منٹ سے بھی کم ہے۔
وزیرِ صحت کے مطابق حکومت ایمبولینس سروس میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے جا رہی ہے، جس کے تحت ایمبولینسوں کو اولا اور اوبر طرز کے لائیو ٹریکنگ نظام سے جوڑا جائے گا۔ اس سے شہری اپنے موبائل فون کے ذریعے ایمبولینس کی موجودہ لوکیشن اور متوقع وقتِ آمد معلوم کر سکیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پرانی اور ناکارہ ایمبولینسوں کو مرحلہ وار تبدیل کرکے جدید لائف سپورٹ گاڑیاں شامل کی جائیں گی جبکہ ڈرائیوروں اور طبی عملے کو خصوصی تربیت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ ہنگامی حالات میں بہتر اور تیز رفتار خدمات یقینی بنائی جا سکیں۔




