گوا ووٹر لسٹ تنازع: بامبے ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کی درخواست مسترد کی، 6 شہریوں کے نام فوری بحال کرنے کا حکم

بامبے ہائی کورٹ کی گوا بنچ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران خارج کیے گئے ایک ہی خاندان کے چھ ووٹرز کے نام فوری طور پر بحال کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ جسٹس والمیکی مینیزیز اور جسٹس امیت جامسندیکر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سانتا کروز انتخابی حلقے کے رہائشی پریش سالگاؤںکر اور ان کے اہل خانہ کی آئینی درخواستوں پر سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ پتے کی ضروری تصدیق مکمل کر کے آئندہ دس دنوں کے اندر اندر ان تمام افراد کے نام ووٹر لسٹ میں درج کیے جائیں۔

متاثرہ شہریوں نے پتے کی درستگی اور منتقلی کے لیے باقاعدہ فارم-8 جمع کرایا تھا، جس کے باوجود انتخابی عملے نے ان کے نام مکمل طور پر ووٹر لسٹ سے ہی نکال دیے۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی جانب سے دیگر ریاستوں میں ایس آئی آر سے متعلق زیر التوا کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سماعت ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن عدالتِ عالیہ نے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔ بنچ نے کہا کہ زیرِ نظر مقدمہ مجموعی انتخابی نظرثانی کے نظام کو معطل کرنے سے متعلق نہیں بلکہ چند معصوم اور اہل شہریوں کے آئینی حق کو صریح ضابطہ شکنی کے ذریعے چھیننے کا معاملہ ہے۔

ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے اس خودکار ڈیجیٹل طریقہ کار پر کڑی نکتہ چینی کی جس کے تحت پتے کی تبدیلی کی درخواست دینے پر پرانے پتے سے نام خودبخود منسوخ ہو جاتا ہے اور شہری بغیر کسی قصور کے بے دخل ہو جاتا ہے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ شہریوں کو پرانے پتے کے اینومریشن فارم پر زبردستی دستخط کرنے پر مجبور کرنا قانونی طور پر غلط حلف نامہ لینے کے مترادف ہے۔ اسی طرح جب فارم-8 مسترد ہوتا ہے تو ووٹر نئے سرے سے فارم-6 بھرنے پر مجبور ہوتا ہے، جہاں اسے یہ لکھنا پڑتا ہے کہ وہ ملک میں کہیں اور رجسٹرڈ نہیں، جو کہ بذاتِ خود ایک سچے شہری سے غلط بیانی کرانے جیسی صورتِ حال ہے۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ قانون کا بنیادی تقاضا ہے کہ کسی بھی فرد کا نام انتخابی فہرست سے نکالنے سے قبل اسے باضابطہ نوٹس اور صفائی پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے۔ نظرثانی مہم کا کوئی بھی داخلی ضابطہ اس بنیادی قانونی حق اور قدرتی انصاف کے اصول کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ بنچ نے خبردار کیا کہ الیکشن کمیشن کے تمام اقدامات عوامی تاثر یا مشینی سہولت کے بجائے مکمل طور پر آئینی اور قانونی دفعات کے تابع ہونے چاہئیں۔

جمہوری نظام میں ووٹ کا حق شہری شناخت کی سب سے بنیادی کڑی ہے اور الیکشن کمیشن جیسے خود مختار ادارے کا اولین آئینی فرض شہریوں کے اس بنیادی حق کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ تکنیکی پیچیدگیوں اور مشینی خامیوں کے پیچھے چھپ کر انہیں انتخابی عمل سے باہر کر دینا۔ عدالت کا یہ دوٹوک فیصلہ ملک بھر میں انتخابی فہرستوں کی جانچ پڑتال کے دوران سامنے آنے والی مشینی اور انتظامی بے قاعدگیوں کے سدباب کے لیے ایک اہم نظیر ثابت ہوگا۔

شیئر کریں۔