بھٹکل (فکروخبر نیوز) جامعہ آباد روڈ کی خستہ حالی کے سلسلہ میں شکایتوں کے باوجود یہاں کی سڑک اب بھی خستہ حالی کی خود شکایت کررہی ہے۔ اب سوال یہ ہورہا ہے کہ بار بار شکایتوں کے باوجود یہاں کی سڑک کی طرف توجہ کیوں نہیں دی جارہی ہے۔ شہر کے علاقوں میں جامعہ آباد روڈ پر جتنے اسکول اور کالجس اور دیگر ادارے ہیں وہ شہر کے کسی بھی روڈ پر نہیں ہیں ۔ اسی سڑک سے روزانہ اسکول کی بسیں بھی دوڑتی ہیں ،جس میں 4 سال تک کے بچے بھی سفر کرتے ہیں ، اسی طرح ہزاروں کی تعداد میں طلبا اور عام لوگ روزانہ سفر کرتے ہیں ، تو اس صورت میں غبار آلود سڑکوں کی صورت میں ان کی صحت پر کیا اثر پڑے گا؟ اگر صحت پر اثر پڑتا ہے تو کون اس کی ذمہ داری اٹھائے گا؟ خصوصا مدینہ کالونی میں سڑک کی بری حالت کی وجہ سے کئیں لوگ حادثات کا بھی شکار ہوچکے ہیں، اور سڑک کی موجودہ حالت کو دیکھا جائے تو آئندہ بھی سڑک حادثات کے خطرات بنے ہوئے ہیں ، یہ کچھ سوالات ہیں جو روزانہ یہاں کی سڑکوں کے متعلق عوام کے ذہنوں میں ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی سوال ہے کہ اسی سڑک کی تعمیر کے لیے بار بار کیوں سوال کھڑے کیے جارہے ہیں؟
جامعہ آباد روڈ سے آگے بڑھتے ہیں تو اسی سڑک سے متصل حنیف آباد ، رحمت آباد ، فردوس نگر ، جامعہ آباد اور تینگن گنڈی کے علاقے موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سڑک سے آگے بڑھتے ہیں تو یہاں پر چند ایسے مشہور ادارے بھی ہیں جو نہ صرف ریاستی اور ملکی سطح پر مشہور ہیں بلکہ اس کاشہرہ بیرونِ ملک تک پھیلا ہوا ہے جامعہ اسلامیہ بھٹکل جہاں پر سینکڑوں کی تعداد میں طلباء اپنی تعلیم مکمل کرنے میں منہمک ہیں ۔ اس کے علاوہ اسی سڑک کے بالکل متصل دنیا کی مشہور شخصیت اور بیسویں صدی کے عظیم مفکر سے منسوب مولانا ابوالحسن علی ندوی اسلامک اکیڈمی بھی موجود ہے ، اسی اکیڈمی کے داہنی جانب سے نکلنے والی سڑک پر جاتے ہی علی پبلک اسکول بھٹکل کی عمارتیں نظر آتی ہیں۔ جامعہ آباد روڈ پر اکیڈمی سے کچھ آگے بڑھیں تو ادارہ تربیتِ اخوان کے تحت چلنے والا شمس انگلش میڈیم ہائی اسکول ہے اس کے بائیں طرف سے حنیف آباد کو جوڑنے والی سڑک پر کچھ آگے بڑھیں تو ویمن سینٹر اور بی بی مونٹیسری کی عمارت کھڑی نظر آتی ہے۔ مسجد سیدنا ابراہیم جامعہ آباد سے متصل اردو میڈیم ہائی اسکول اور پراپرئمری اسکول قائم ہے ۔ جامعہ آباد سے تقریباً دیڑھ کلومیٹر کے فاصلہ پر اردو ، کنڑا پرائمری اسکول اور اس سے تھوڑے سے فاصلہ پر کنڑا ہائی اسکول بھی موجود ہے ۔ اسی سڑک سے ہم اگر ہیبلے پنچایت حدود کے سب سے پرانے علاقہ تینگن گنڈی پہنچتے ہیں توو ہاں مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن ہے۔ اس کے تھوڑے سے فاصلہ پر ضلع اترکنڑا کے چند مشہور اور بڑے بندر گاہوں میں ایک خوبصورت بندرگاہ ہےجہاں روزانہ بھاری بھرکم مچھلیوں سے لدی لاریوں کی آمد و رفت رہتی ہے ، اسی کےساتھ سیرو تفریح کے لئے ایک بڑی تعداداس کا رخ کرتی ہے ، ایسے میں ہیبلے پنچایت حدود میں آنے و الے ان مشہور اسکولوں ،مدرسوں اور بندرگاہ تک پہنچنے والوں کے لیے اسی سڑک کی مرمت ناگزیر ہے۔ متعلقہ افسران ، مقامی ایم ایل اے سے بھی اس سلسلہ میں کئی مرتبہ سڑک کی درستگی اور تعمیر کا مطالبہ کیا جاچکا ہے ، لیکن اس طرف کوئی خاص توجہ دینے کا الزام مقامی عوام مسلسل لگارہی ہے ، اب دیکھنایہ ہےکہ سڑک کی مرمت کےلئے متعلقہ افسران خود توجہ دیتے ہیں یا پھر عوام کو مزید توجہ دلانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے ؟




