بنگلورو (فکروخبر نیوز) کرناٹک میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظر ثانی (SIR) کے دوران اقلیتی برادری کے ووٹرز کے نام حذف کرنے کی مبینہ سازش کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ہنگامہ برپا ہے۔ بیلگاوی مارکیٹ پولیس اسٹیشن میں بی جے پی رہنما ڈاکٹر روی پاٹل اور ان کے متعدد ساتھیوں کے خلاف 198 مسلم ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹنے کی غیر قانونی کوشش پر ایف آئی آر (FIR) درج کر لی گئی ہے۔
یہ کارروائی بیلگاوی نارتھ اسمبلی حلقے کے وارڈ 12 کے بوتھ لیول ایجنٹ (BLA) میرا صاحب سنادی کی شکایت پر کی گئی ہے۔ شکایت کے مطابق بی جے پی لیڈر روی پاٹل، شنکر نائک، پرشانت منڈن منی اور دیگر 20 سے 25 افراد نے جعلی دستاویزات کے ساتھ فارم 7 جمع کرا کے 198 مسلم ووٹرز کے نام خارج کرنے کی کوشش کی۔ متاثرہ ووٹرز میں خود شکایت کنندہ اور ان کے اہل خانہ کے نام بھی شامل تھے۔ پولیس نے بھارتیہ نیاؤ سنہیتا (BNS) کی مختلف دفعات کے تحت فریب دہی، جعل سازی، مجرمانہ سازش اور غیر قانونی اجتماع کے الزامات میں مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہے۔
کرناٹک میں فارم 7 کے مبینہ غلط استعمال کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بیلگاوی کے علاوہ بیدر، میسورو اور بلاری میں بھی اسی نوعیت کے سنجیدہ معاملات پر ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ بیدر میں محمد عتیق احمد کی شکایت پر 3,244 ووٹرز کے نام حذف کرنے کی کوشش کے الزام میں 32 افراد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ بلاری میں اقلیتی برادری کے ہزاروں نام کاٹنے کے الزام میں بی جے پی کارپوریٹر اور الیکشن عملے سمیت متعدد افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
اس معاملے پر نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور کانگریس قائدین کی جانب سے الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر کیے گئے شدید احتجاج کے بعد چیف الیکٹورل آفیسر نے فرضی فارم 7 جمع کرنے والوں کے خلاف قانونی اقدام کے احکامات دیے تھے۔ دوسری جانب بی جے پی کے ریاستی صدر بی وائی وجیندر اور سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا کی قیادت میں ایک وفد نے ڈی جی پی سے ملاقات کر کے بی جے پی کارکنان پر درج مقدمات کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔




