کرناٹک حکومت نے عوامی صحت کے تحفظ اور مہلک بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ریاست بھر میں گٹکھا اور نیکوٹین پر مشتمل پان مسالہ کی تیاری، ذخیرہ اندوزی، سپلائی، نقل و حمل اور فروخت پر فوری طور پر ایک سال کے لیے مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ فوڈ سیفٹی کمشنر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ اس باضابطہ حکم نامے کے تحت ریاست میں ایسی تمام مصنوعات کی کسی بھی شکل میں خریدو فروخت اور سپلائی پر مکمل روک رہے گی۔ محکمہ فوڈ سیفٹی نے تمام تاجروں، ہول سیلرز اور دکانداروں کو اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
محکمہ فوڈ سیفٹی نے یہ سخت فیصلہ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ، 2006 کی دفعہ 30(2)(اے) اور فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ریگولیشن، 2011 کے تحت حاصل شدہ آئینی و قانونی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تمباکو اور نیکوٹین کے مسلسل استعمال سے کینسر اور دیگر مہلک بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، جن سے انسانی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی ریاستی انتظامیہ نے فوڈ سیفٹی افسران پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو بازاروں، گوداموں اور سرحدی علاقوں میں مسلسل معائنہ اور چھاپے مار کارروائیاں انجام دیں گی۔
دستیاپ اطلاعات کے مطابق، حکومت نے واضح کیا ہے کہ جو بھی فرد یا ادارہ اس حکم نامے کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا، اس کے خلاف فوڈ سیفٹی قانون کے تحت سخت ترین قانونی چارہ جوئی کی جائے گی، جس میں بھاری جرمانے اور سزائیں شامل ہیں۔ مزید برآں، فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ نے عام شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر ان کے علاقے میں ممنوعہ تمباکو، گٹکھا یا نیکوٹین مصنوعات کی تیاری یا فروخت سے متعلق کوئی بھی معلومات سامنے آئے تو وہ فوری طور پر متعلقہ افسران کو مطلع کریں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔
بھارت کی مختلف ریاستوں میں تمباکو اور گٹکھا کے خلاف مسلسل اقدامات اٹھائے جاتے رہے ہیں، تاہم سپلائی چین کی غیر قانونی سرگرمیاں ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ کرناٹک حکومت کے اس تازہ ترین قدم کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کو نشے کی لت سے بچانا اور ریاست کے شہریوں کے لیے صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے۔ صحت کے ماہرین اور سماجی حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے ایک صحت مند اور نشہ سے پاک سماج کی تعمیر کی جانب انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
حکومتی احکامات کے نفاذ کے بعد اب دیکھنا یہ ہوگا کہ انتظامیہ غیر قانونی سپلائی اور ذخیرہ اندوزی پر کس حد تک قابو پانے میں کامیاب ہوتی ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان معائنہ مہمات کے ذریعے ریاستی سرحدوں سے ہونے والی اسمگلنگ پر بھی کڑی نظر رکھی جائے گی تاکہ عوام کو تمباکو کے مضر اثرات سے موثر انداز میں محفوظ رکھا جا سکے۔




