یوپی: ’آئی لو محمد‘ پوسٹ معاملے میں 7 مہینے بعد مسلم نوجوان کو ہائی کورٹ سےملی ضمانت

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر سے تعلق رکھنے والے ایک مسلم نوجوان ندیم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے، جنہیں ’آئی لو محمد‘ تنازعہ سے جڑی ایک انسٹاگرام پوسٹ کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ جسٹس راجیو لوچن شکلا نے منگل کے روز اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ مذکورہ سوشل میڈیا پوسٹ میں کسی بھی مخصوص ذات، مذہب یا کمیونٹی کا ذکر نہیں کیا گیا تھا جس سے کسی کی دل آزاری ثابت ہو۔ عدالت نے ندیم کو دو ضمانت داروں اور نجی مچلکے پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

کیس کی تفصیلات کے مطابق ندیم 7 اکتوبر 2025 سے حراست میں تھے اور پولیس ان کے خلاف چارج شیٹ بھی داخل کر چکی تھی۔ ندیم کے وکیل اتل کمار نے عدالت میں دلیل دی کہ ان کے موکل کو بلاوجہ قید میں رکھا گیا ہے اور ٹرائل جلد مکمل ہونے کی کوئی امید نہیں ہے۔ دوسری جانب ریاستی حکومت نے ضمانت کی سخت مخالفت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ندیم کی ویڈیو اشتعال انگیز تھی، جس میں انہوں نے مبینہ طور پر نعرے کی خاطر قربانی کی بات کی تھی۔ پولیس نے اس معاملے کو ستمبر 2025 میں بریلی اور کانپور میں ہونے والے فرقہ وارانہ واقعات سے جوڑنے کی کوشش کی تھی، تاہم عدالت نے ان دلائل کو ضمانت روکنے کے لیے کافی نہیں سمجھا۔

’آئی لو محمد‘ نعرے کا تنازعہ ستمبر 2025 کے آغاز میں اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب کانپور کے راوت پور علاقے میں عید میلاد النبی کے جلوس کے دوران ایک لائٹ بورڈ پر یہ نعرہ درج تھا۔ مقامی ہندو گروپوں کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی، جس کے بعد پولیس نے اسے ہٹا کر دوسری جگہ منتقل کر دیا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، پولیس نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ کارروائی نعرے کے خلاف نہیں بلکہ جلوس کے طے شدہ راستے کی خلاف ورزی پر کی گئی، تاہم بعد ازاں درجنوں افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں جس میں اس نعرے کو ‘نئی روایت’ قرار دے کر فرقہ وارانہ کشیدگی کا سبب بتایا گیا۔

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) کے اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر 2025 کے دوران پورے اتر پردیش اور دیگر ریاستوں میں اس نعرے کے حوالے سے کم از کم 21 ایف آئی آر درج کی گئیں، جن میں 1300 سے زائد افراد کو نامزد کیا گیا اور درجنوں کو پابند سلاسل کیا گیا۔ بریلی میں بھی مولانا توقیر رضا خان کے احتجاجی مارچ کے دوران کشیدگی بڑھی تھی، جہاں پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرتے ہوئے متعدد گرفتاریاں کی تھیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس مہم کے دوران کئی جگہوں پر شرپسندانہ کارروائیاں بھی سامنے آئیں۔ علی گڑھ میں مندر کی دیواروں پر ’آئی لو محمد‘ لکھنے کے الزام میں جب چار افراد کو گرفتار کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ ملزمان مسلم نہیں بلکہ ہندو نوجوان تھے، جنہوں نے اپنے مسلم پڑوسی کو زمین کے تنازع میں پھنسانے کے لیے یہ سازش رچی تھی۔ پولیس نے انکشاف کیا تھا کہ نعروں میں ہجے (Spelling) کی غلطیوں کی وجہ سے اصل ملزمان کی شناخت ممکن ہوئی۔ الہ آباد ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ ان تمام افراد کے لیے ایک بڑی قانونی نظیر ثابت ہو سکتا ہے جنہیں محض مذہبی عقیدت کے اظہار پر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔

شیئر کریں۔