مہاراشٹر میں چوکیدار کی آسامیوں کے لیے ایم اے اور بی اے پاس امیدواروں کی قطار

مہاراشٹر کے قبائلی ترقیاتی محکمے کی جانب سے گروپ ڈی زمرے میں چوکیداروں کی خالی آسامیوں کے جاری کردہ امتحانی نتائج نے ریاست میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے معاشی مستقبل اور روزگار کے بحران کو ایک بار پھر سرِفہرست لا کھڑا کیا ہے۔ کم از کم دسویں جماعت کی تعلیمی قابلیت رکھنے والی ان معمولی اسامیوں کے لیے ہزاروں گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری یافتہ امیدواروں نے نہ صرف درخواستیں جمع کروائیں بلکہ تحریری امتحان میں بھی بھرپور شرکت کی۔ سرکاری شعبے میں ملازمت کا تحفظ حاصل کرنے کی تگ و دو نے ڈگری ہولڈرز کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی تعلیمی صلاحیت سے کہیں نچلی سطح کے عہدوں پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

محکمہ قبائلی بہبود نے اپنے انتیس پروجیکٹ دفاتر کے زیرِ انتظام چلنے والے سرکاری آشرم اسکولوں اور اقامتی ہاسٹلوں میں چوکیدار کی کل چار سو اٹھہتر خالی اسامیوں پر تقرری کے لیے رواں برس اپریل میں باضابطہ اشتہار دیا تھا۔ ایک ماہ کے اندر موصول ہونے والی درخواستوں کی جانچ کے بعد جولائی کے آخری ہفتے سے اگست کے اوائل تک مختلف امتحانی مراکز پر تحریری امتحانات منعقد کیے گئے۔ اب جب محکمہ نے پروجیکٹ وار میرٹ لسٹیں اور نتائج جاری کیے ہیں تو امیدواروں کے ناموں کے سامنے درج ان کی ڈگریوں نے ماہرینِ تعلیم اور سماجی مبصرین کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔

جاری کردہ سرکاری نتائج کی جانچ پڑتال سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ محکمے نے تمام انتیس دفاتر کے پوسٹ گریجویٹ امیدواروں کے مجموعی اعداد و شمار کو الگ خانے میں یکجا نہیں کیا، لیکن ناگپور، دھولیہ، بھنڈارہ اور نکسل متاثرہ گڈچرولی جیسے اضلاع کے دستیاب ریکارڈ کے مطابق امتحانی فہرست میں شامل نصف سے زائد امیدوار بی اے، بی ایس سی یا ایم اے جیسی اعلیٰ اسناد کے حامل ہیں۔ بارہویں اور گریجویشن کی تکمیل کے باوجود چوکیداری کے مسابقتی امتحان میں حصہ لینے والے ان نوجوانوں کی لمبی فہرست اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مارکیٹ میں معیاری ملازمتوں کا فقدان کس حد تک سنگین ہو چکا ہے۔

اس بھرتی عمل کا سب سے پریشان کن پہلو کم از کم مطلوبہ اہلیت اور امیدواروں کے علمی معیار کے درمیان پیدا ہونے والا وسیع خلیج ہے۔ نجی شعبے میں ملازمتوں کی غیر یقینی صورتحال، تنخواہوں میں غیر معمولی کمی اور صنعتی مراکز میں نئے مواقع کے فقدان نے ملک کے تعلیم یافتہ طبقے کو اس حد تک مایوس کیا ہے کہ وہ محض مستقل آمدنی اور پنشن و دیگر مراعات کی خاطر چوکیدار بننے پر راضی ہیں۔ یہ مسئلہ بالخصوص پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور نچلے درمیانے طبقے کے ان نوجوانوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے جن کے خاندان اپنی جمع پونجی لگا کر بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلاتے ہیں تاکہ وہ باعزت مقام حاصل کر سکیں۔

تعلیمی پالیسی سازوں اور معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک میں ڈگریاں حاصل کرنے کی شرح تو تیزی سے بڑھی ہے مگر معیشت ان نوجوانوں کے علمی معیار کے مطابق وائٹ کالر جابز پیدا کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ نوجوانوں کے اس معاشی اور ذہنی دباؤ پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت نچلی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ صنعتی ضروریات پر مبنی فنی تربیت کو فروغ دے، ورنہ اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں محض کاغذی ٹکڑے بن کر رہ جائیں گی اور قوم کا سب سے قیمتی انسانی سرمایہ ضائع ہوتا رہے گا۔

شیئر کریں۔