کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر نے تسلیم کیا ہے کہ ریاست میں ووٹر لسٹوں کے جاری خصوصی انتخابی جائزے یعنی ایس آئی آر کے دوران ڈیٹا پروسیسنگ اور تکنیکی طریقہ کار کے نتیجے میں نادانستہ طور پر ایک ہی شخص کے نام پر متعدد انتخابی شناختی کارڈز جاری ہو گئے۔ یہ باضابطہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ نے رپورٹ کیا کہ بنگلورو کے مہادیوا پورہ اسمبلی حلقے میں محض 397 شہریوں کے نام پر 803 ووٹر شناختی کارڈز رجسٹرڈ پائے گئے۔ تحقیقاتی رپورٹس میں ایسے کئی سنگین معاملات بھی اجاگر ہوئے جہاں نہ صرف ایک فرد کے پاس بیک وقت ایک سے زائد کارڈز موجود تھے، بلکہ ایک ہی شناختی نمبر ریاست کے دو الگ الگ اسمبلی حلقوں کی حتمی ووٹر لسٹوں میں درج پایا گیا۔
ریاستی الیکشن کمیشن نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ کی نظر ثانی کے دوران متعدد شہریوں نے پورٹل کے ذریعے اندراج کے لیے فارم 6 کی ایک سے زائد درخواستیں جمع کرا دی تھیں۔ چونکہ یہ تمام درخواستیں الگ الگ پروسیس ہوئیں، اس لیے سسٹم نے نادانستہ طور پر ایک ہی صارف کے نام سے مختلف شناختی نمبرز الاٹ کر دیے۔ دو حلقوں میں ایک ہی ووٹر کارڈ نمودار ہونے پر کمیشن نے موقف اختیار کیا کہ ایک اسمبلی حلقے سے دوسرے حلقے میں منتقلی کے لیے فارم 8 کی منظوری تو فوری دے دی گئی، مگر پرانے حلقے سے نام خارج کرنے کے لیے فارم 7 کی کارروائی وقت پر مکمل نہ ہو سکی۔ کمیشن کے مطابق، حتمی فہرست کی اشاعت سے قبل قانونی ضوابط کے تحت ڈیٹا میں تبدیلی کو منجمد کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے یہ تضادات فہرستوں میں باقی رہ گئے۔
انتخابی مشینری کا یہ اعتراف ریاست بھر میں بڑے پیمانے پر رائے دہندگان کے نام خارج کیے جانے کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ ستائیس اکتوبر کو جاری ہونے والی حتمی ووٹر لسٹ کے مطابق کرناٹک میں اس مہم کے دوران 99 لاکھ 30 ہزار سے زائد ووٹرز کے نام یکسر حذف کر دیے گئے ہیں۔ اس غیر معمولی کٹوتی کے بعد ریاست میں ووٹرز کی مجموعی تعداد 5 کروڑ 50 لاکھ سے گھٹ کر 4 کروڑ 50 لاکھ رہ گئی ہے، جس کا مطلب ووٹروں کی کل تعداد میں تقریباً اٹھارہ فیصد کی بڑی کمی ہے۔ کرناٹک ان انیس ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں شامل ہے جہاں ایس آئی آر کے تیسرے مرحلے کو لاگو کیا جا رہا ہے۔
ووٹر لسٹوں کی اس نوعیت کی تطہیر کا عمل شروع ہی سے قانونی اور سیاسی طور پر متنازع رہا ہے۔ اقلیتی، دلت اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی سول سوسائٹی تنظیموں نے مسلسل یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسے مبہم انتظامی حربوں کا سب سے زیادہ نقصان جائز اور کمزور ووٹروں کو پہنچایا جا رہا ہے، جس سے جمہوری نمائندگی اور انتخابی نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اگرچہ اس عمل کے قانونی جواز کو تسلیم کیا تھا، لیکن واضح ہدایت دی تھی کہ الیکشن کمیشن کسی شہری کی ہندوستانی شہریت کا فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں ہے۔




