غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے ڈوب گئے، بچوں اور معمر افراد کی زندگیاں خطرے میں، خیموں اور ترپالوں کے داخلے پر مکمل پابندی

غزہ کی پٹی پر موسم سرما کے پہلے ہی طاقتور طوفان نے قہر برپا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں بے گھر فلسطینیوں کے کم از کم ستر ہزار خیمے محض بارہ گھنٹوں میں زیر آب آگئے۔ غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کی صبح شروع ہونے والی شدید بارشوں نے ساحلی پٹی کے مختلف علاقوں میں پناہ گزین خاندانوں کے بستر، کمبل اور عارضی پناہ گاہیں بہا دیں۔ سول ڈیفنس اور امدادی اداروں کے پاس نہ تو پانی نکالنے کی موٹریں موجود ہیں اور نہ ہی ایندھن، جس کی وجہ سے صورتحال انتہائی قابو سے باہر ہو چکی ہے۔

طوفان کے ابتدائی دس گھنٹوں کے اندر امدادی کارکنوں کو پندرہ سو سے زائد ہنگامی کالز موصول ہوئیں۔ کئی پناہ گاہوں میں پانی کی سطح تیس سے چالیس سینٹی میٹر تک بلند ہو گئی۔ سول ڈیفنس کے حکام کے مطابق صورتحال اتنی سنگین ہے کہ ان کے پاس متاثرہ خاندانوں کو دینے کے لیے ایک ترپال تک موجود نہیں ہے۔ اسرائیلی بمباری سے پہلے سے کمزور ہونے والی متعدد عمارتیں بھی بارش اور تیز ہواؤں کے باعث زمین بوس ہو گئیں، جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ وسطی نصیرات کیمپ میں بھی ایک خستہ حال عمارت کے گرنے سے قبل مکینوں کو نکالا گیا، جبکہ شمالی غزہ میں ملبے تلے دب کر شہری زخمی ہوئے۔

طبی شعبے سے وابستہ ماہرین نے اس قدرتی آفت کے باعث وبائی امراض پھیلنے کے سنگین خطرات سے خبردار کیا ہے۔ الشفا میڈیکل کمپلیکس کے شعبہ حادثات میں بارش کا پانی بھر جانے کے باعث سروسز کئی گھنٹے معطل رہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق خیموں میں گندے نالوں اور سیوریج کا پانی داخل ہونے سے سانس اور پیٹ کے انفیکشن میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔ خاص طور پر کم وزن پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچوں اور بزرگوں کے ٹھنڈ لگنے سے اموات کے خدشات بڑھ گئے ہیں، کیونکہ کھلے میدانوں میں نصب خیموں میں حرارت کا کوئی انتظام میسر نہیں ہے۔

اس انسانی تباہی کی اصل وجہ پناہ گاہوں کے سامان پر عائد اسرائیلی پابندیاں ہیں۔ بین الاقوامی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے پورٹ ایبل کیبن، خیمے اور واٹر پروف شیٹس کو دوہرے استعمال کا سامان قرار دے کر غزہ میں داخلے سے روک رکھا ہے۔ مصری سرحد پر پچاس ہزار خیمے پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ امدادی سامان لے جانے والے ٹرکوں کی تعداد معاہدوں کے تحت طے شدہ چھ سو یومیہ کے بجائے انتہائی کم رکھی گئی ہے۔ اکتوبر میں طے شدہ کوٹے کا صرف بیس فیصد سامان ہی اندر پہنچنے دیا گیا۔

فلسطینی مزاحمتی دھڑوں نے اپنے مشترکہ بیان میں ثالثوں اور ضامن ممالک سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور عالمی عدالت انصاف کے احکامات کے مطابق روزانہ کم از کم چھ سو امدادی ٹرکوں کو بلارکاوٹ غزہ جانے دیا جائے، جن میں فوری پناہ گاہیں، ہیٹنگ کا سامان اور بحالی کی مشینیں شامل ہوں۔ عالمی برادری کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ بے گھر شہری کھلے آسمان تلے سرد لہر کا مقابلہ کیسے کریں گے۔

شیئر کریں۔