راجستھان میں الیکشن کمیشن کی سنگین لاپروائی: مردہ قرار دیے گئے لگ بھگ دو لاکھ شہری پنچایت چناؤ میں زندہ نکل آئے

نئی دہلی اور جے پور سے سامنے آنے والے چونکا دینے والے انکشافات نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے راجستھان میں کرائے گئے خصوصی جائزہ عمل یعنی ایس آئی آر کے دوران جن شہریوں کو باضابطہ طور پر متوفی قرار دے کر انتخابی فہرستوں سے نکال دیا گیا تھا، ان میں سے تقریباً ایک لاکھ بیاسی ہزار افراد زندہ پائے گئے ہیں۔ اس سنگین تضاد کا پردہ اس وقت فاش ہوا جب راجستھان ریاستی الیکشن کمیشن نے جاری پنچایتی انتخابات کے لیے اپنی ووٹر لسٹیں تیار کیں اور ان شہریوں کے زندہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں پنچایت چناؤ میں ووٹ کا حق فراہم کیا۔

تحقیقاتی میڈیا ادارے ’دی رپورٹرز کلیکٹو‘ کے ذریعے سامنے لائی گئی تفاصیل کے مطابق، الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ریاست میں بتیس لاکھ سے زائد ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے تھے، جن میں آٹھ لاکھ پچھتر ہزار افراد کو مردہ ظاہر کیا گیا تھا۔ تاہم زمینی حقائق کا موازنہ کرنے پر ریاستی الیکشن کمیشن نے انکشاف کیا کہ پونے دو لاکھ سے زائد ایسے ووٹر بالکل حیات ہیں اور پنچایت کی سطح پر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ اس مضحکہ خیز اور تشویشناک صورتحال کے نتیجے میں یہ شہری مقامی پنچایت انتخابات میں تو اپنے نمائندے منتخب کرنے کے اہل ہیں، لیکن مرکزی الیکشن کمیشن کی ریکارڈ میں مردہ درج ہونے کے باعث وہ اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے سے محروم ہو چکے ہیں۔

اس انتظامی لاپروائی کی ایک نمایاں مثال اجمیر کے کشن گڑھ اسمبلی حلقے کی چھبیس سالہ خاتون شالو ڈولیا ہیں، جنہیں مرکزی انتخابی ادارے نے سرکاری کاغذات میں مردہ دکھا دیا، حالانکہ وہ مکمل طور پر باحیات ہیں اور اپنے جمہوری حقوق کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں۔ اگرچہ انتخابی افسران نے باضابطہ بیانات میں اس فرق کی سختی سے تردید کی ہے، لیکن دستاویزی شواہد دونوں آئینی اداروں کے ریکارڈ میں موجود زبردست تصادم کو واضح کرتے ہیں، جس نے انتخابی اصلاحات کی پول کھول کر رکھ دی ہے۔

کانگریس نے اس پورے معاملے پر مرکزی حکومت اور انتخابی مشینری کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ پارٹی کے سینئر ترجمان پون کھیڑا نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی نگرانی میں ہونے والا یہ عمل جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ کسی بھی آئینی ریاست میں اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کو کاغذات میں مار کر ان کا حقِ رائے دہی چھیننے پر وسیع عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے تھیں اور ملوث اعلیٰ ترین افسران کا احتساب ہونا چاہیے تھا، مگر اس سنگین غفلت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم سماجی اور قانونی حلقوں نے بھی اس انکشاف پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی درستی کے نام پر عام اور پسماندہ شہریوں کو محروم کرنا نہ صرف آئین کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہے بلکہ اس سے جمہوری ساکھ مکمل طور پر مجروح ہوتی ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ مرکزی الیکشن کمیشن فوری طور پر تمام حذف شدہ ناموں کی آزادانہ جانچ کرائے تاکہ ملک کے کسی بھی جائز شہری کو اس کے آئینی اور جمہوری حق سے محروم نہ کیا جا سکے۔

شیئر کریں۔