بنگلورو / نئی دہلی: کرناٹک حکومت اور پبلک سیکٹر کی تین بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) — انڈین آئل کارپوریشن (IOCL)، بھارت پیٹرولیم (BPCL) اور ہندوستان پیٹرولیم (HPCL) — کے درمیان پیٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ کی مقدار کو لے کر ایک نیا اور شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
کرناٹک کے وزیر برائے خوراک، شہری سپلائیز اور امورِ صارفین رضوان ارشد نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک نجی لیبارٹری میں 7 اضلاع سے اکٹھے کیے گئے ایندھن کے آزادانہ مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ IOCL کے نمونوں میں 31.2 فیصد اور HPCL میں 30.5 فیصد ایتھنول کی ملاوٹ پائی گئی ہے، جو کہ حکومتِ ہند کی طے کردہ 20 فیصد (E20) کی قانونی حد سے کہیں زیادہ ہے۔ اس دعوے کو تقویت دیتے ہوئے کانگریس رہنما راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا اور اسے "عوام کی گاڑیوں سے پیٹرول چوری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف گاڑیوں کی مائلیج کم ہو رہی ہے بلکہ انجنوں کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
تیل کمپنیوں اور وزارتِ پیٹرولیم کا جواب: تیل کمپنیوں اور پٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت نے ان الزامات پر سخت جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹک حکومت کی ٹیسٹنگ قانونی اور تکنیکی طریقہ کار (MDG 2024 اور IS 17021 معیارات) کے مطابق نہیں کی گئی۔ OMCs کے مطابق، اکتوبر میں لیے گئے نمونے کمپنیوں کے نمائندوں کی عدم موجودگی میں اکٹھے کیے گئے اور کسی غیر مجاز تیسری فریق کی لیبارٹری میں جانچے گئے، جس کی رپورٹ میں مکمل تکنیکی تفصیلات غائب ہیں۔
وزارتِ پیٹرولیم نے واضح کیا کہ سینٹر فار ہائی ٹکنالوجی (CHT) کی جانب سے ملک بھر کے 893 نمونوں اور کرناٹک سے لیے گئے تمام 56 نمونوں کی جانچ کی گئی، اور تمام نمونے مقررہ 19% سے 20% کی حد کے اندر پائے گئے (جس کا اوسط 19.30% رہا)۔ مرکز نے 62,000 کروڑ روپے کے مائلیج نقصان کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اعادہ کیا کہ ایتھنول بلینڈڈ پیٹرول (EBP) پروگرام کا بنیادی مقصد خام تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنا اور ملکی زرعی معیشت کو استحکام بخشنا ہے۔
رضوان ارشد نے کمپنیوں کے دعویٰ کے بعد ویکنڈ خوشیوں کے ساتھ منانے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ چھٹیوں کے بعد مزید خلاصے ہوں گے۔




