(زوجہ جناب کوبٹے عبداللہ صاحب)
از: مولانا محمد فاروق قاضی ندوی
قال اللہ تعالیٰ: كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ۔
وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أُذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ۔
گذشتہ ہفتہ دبئی سے ایک نہایت افسوسناک خبر موصول ہوئی کہ ہمارے قریبی دوست و عزیز محترم جناب کوبٹے عبداللہ صاحب کی اہلیہ محترمہ مسرت صاحبہ اس دارِ فانی سے دارِ آخرت کی طرف رحلت فرما گئی ہیں۔ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون!
یہ خبر سن کر دل کو بہت صدمہ پہنچا۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
دراصل میں نے اپنی زندگی کے تقریباً پچیس سال دبئی میں گزارے ہیں اور اس طویل عرصے میں محترم کوبٹے عبداللہ صاحب اور ان کے اہلِ خانہ کے یہاں میرا آنا جانا رہا ہے۔ ان کے ساتھ ایک پرانا تعلق اور خلوص و محبت کا رشتہ قائم رہا ہے۔ اسی وجہ سے مرحومہ کی وفات کی خبر میرے لیے محض ایک تعزیتی اطلاع نہیں تھی، بلکہ اس کے ساتھ ماضی کی بہت سی خوشگوار یادیں بھی وابستہ تھیں۔
اُن دنوں میں قصیص سوناپور کی ایک مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیتا تھا۔ بغرضِ علاج اکثر ڈاکٹر اسماعیل قاضیا صاحب کے یہاں کرامہ جایا کرتا تھا۔ اُس وقت محترم کوبٹے عبداللہ صاحب کا مکان مسجد الرحمہ کے مقابل ایک فلیٹ کی پہلی منزل پر واقع تھا۔ جب بھی مجھے کرامہ جانے کا موقع ملتا تو میں اکثر انہیں فون کرکے اپنی آمد کی اطلاع دے دیا کرتا تھا۔
چونکہ میں بس کے ذریعہ کرامہ جایا کرتا تھا، اس لیے وہاں پہنچنے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگ جاتا تھا۔ میرا معمول یہ تھا کہ سب سے پہلے ڈاکٹر اسماعیل قاضیا صاحب کے یہاں جاتا اور اپنا طبی معائنہ کروانے کے بعد مسجد الرحمہ پہنچ کر ظہر کی نماز ادا کرتا۔ اس کے بعد محترم کوبٹے عبداللہ صاحب کے گھر حاضر ہوتا، جہاں ظہرانے کا انتظام رہتا۔ کھانے کے بعد کچھ دیر آرام بھی کرتا اور پھر عصر کی نماز کے بعد بس کے ذریعہ اپنی مسجد واپس آجاتا۔
اس پورے معمول میں جس چیز نے ہمیشہ میرے دل پر اچھا اثر چھوڑا، وہ ان کے گھر والوں کا خلوص، محبت اور مہمان نوازی تھی۔ محترم عبداللہ صاحب، ان کی اہلیہ محترمہ مسرت صاحبہ اور گھر کے دیگر افراد ہماری بڑی محبت سے خاطر تواضع کرتے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہم کسی اپنے ہی گھر میں آئے ہوئے ہیں۔ مرحومہ کی طرف سے بھی مہمانوں کی خدمت اور خاطر داری میں کوئی کمی نہیں رہتی تھی۔ ان کا یہ حسنِ اخلاق اور خلوص آج بھی میری یادوں میں محفوظ ہے۔
یہ سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہا۔ بعد میں ایک طویل عرصہ وہاں قیام کرنے کے بعد وہ لوگ النہدہ کے ایک کشادہ مکان میں منتقل ہوگئے۔ وہاں بھی مجھے اپنی اہلیہ صاحبہ کے ساتھ ان کے یہاں حاضری کا موقع ملا۔ اس وقت بھی محترم عبداللہ صاحب، ان کی اہلیہ مرحومہ مسرت صاحبہ، ان کے فرزند محترم سجاد کوبٹے صاحب اور ان کی اہلیہ نے بڑی محبت اور خلوص کے ساتھ ہماری ضیافت کی۔ ان کی یہ مہمان نوازی اور اپنائیت قابلِ قدر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو اس کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔
یہ حقیقت ہے کہ انسان دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے، لیکن اس کے اچھے اخلاق، نیک اعمال، محبت بھرے برتاؤ اور دوسروں کے ساتھ کیے گئے حسنِ سلوک کی یادیں باقی رہ جاتی ہیں۔ مرحومہ مسرت صاحبہ کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات کی یہی خوشگوار یادیں وابستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی ان نیکیوں کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائے۔
کوبٹے خاندان بھٹکل کے معروف دینی و سماجی خاندانوں میں سے ایک ہے۔ اس خاندان کے مختلف افراد نے اپنی اپنی حیثیت سے دین و ملت کی خدمت میں حصہ لیا ہے۔ مرحومہ مسرت صاحبہ بھی اسی شریف اور دینی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ وہ ایک نیک دل، پاک دامن، خدا ترس، وفا شعار، عبادت گزار اور دین دار خاتون تھیں۔ ان کی زندگی میں گھریلو ذمہ داریوں کی ادائیگی، اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک اور مہمانوں کی خدمت جیسی خوبیاں نمایاں تھیں۔
ان کے والد مرحوم جناب کوبٹے شبیر صاحب بھی ایک نیک اور دین دار شخصیت کے مالک تھے۔ اسی خاندان کے ایک اور بزرگ مرحوم کوبٹے اسماعیل صاحب تھے، جنہوں نے ہبلی میں ایک مدرسہ قائم کیا تھا۔
اسی طرح ان کے شوہر محترم جناب کوبٹے عبداللہ صاحب کا تعلق بھی جامعہ اسلامیہ بھٹکل کی تاریخ کے ایک اہم باب سے ہے۔ وہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے پہلے طالب علم ہیں، جن کے ذریعہ جامعہ کے بانیِ تعلیم حضرت مولانا عبدالحمید صاحبؒ نے جامعہ کی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز فرمایا تھا۔ یہ ان کے لیے بھی ایک بڑا اعزاز ہے اور جامعہ کی ابتدائی تاریخ کا ایک قابلِ ذکر واقعہ ہے۔
آخر میں، میں محترم جناب کوبٹے عبداللہ صاحب، ان کے اہلِ خانہ، خصوصاً ان کے فرزند سجاد کوبٹے صاحب اور خاندان کے تمام افراد کی خدمت میں دلی تعزیت پیش کرتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے اور اسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے۔ ان کے شوہر محترم جناب کوبٹے عبداللہ صاحب، اہلِ خانہ اور تمام متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ اور ہم سب کو بھی آخرت کی تیاری کرنے اور نیک اعمال کے ساتھ دنیا سے رخصت ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔




