تحریر: مولانا عبد المتین منیری (بھٹکل)
(یوم وفات کی مناسبت سے ایک تحریر)
ایک کم پچاس (49) سال ہونے کو آرہے ہیں، 31/ اکتوبر کی تاریخ تھی۔اور سنہ 1977ء، جامعہ آباد میں جہاں اب ثانویہ جاتے ہوئے بائیں جانب اسٹاف کوارٹر ہے،پہلے وہاں ایک چھوٹا سا مکان ہوا کرتا تھا، جس میں نہ صرف ہمارے استاد بلکہ استاد الاساتذہ ، جامعہ کے اولین معتمد و مہتمم ، قوم کے عظیم محسن ، حضرت مولانا عبد الحمید ندوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے محبین اساتذہ وطلبہ کے جلو میں بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت مولانا اپنی اہلیہ کے انتقال کے بعد الحاج محی الدین منیری مرحوم کی دعوت پر بھٹکل تشریف لائے ہوئے تھے۔ یہی چھوٹا سا مکان آپ کا مسکن تھا۔ صبح کا وقت تھا کہ خبر آئی کہ ماسٹر عثمان حسن ہیڈ ماسٹر انجمن اسلامیہ ہائی اسکول نے اپنی ڈیوٹی ادا کرتے ہوئے، اپنی میز ہی پر داعی اجل کو لبیک کہا۔ یہ خبر جب مولانا کے کان میں پڑی تو آپ کے منہ سے ایک چیخ اٹھی ، اور پھر ٓپ پر بے ہوشی طاری ہوگئی، فورا ہی مولانا کو ضروری دیکھ بال کے لئے اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں لے جایا گیا۔
عثمان حسن مرحوم کے اچانک انتقال کی اس خبر سے مولانا پر غمزدگی کا جو اثر ہوا تھا وہ کوئی تعجب کی بات نہیں تھی، در اصل جب مولانا قیام جامعہ کے لئے 1962ء میں بھٹکل تشریف لائے تھے،تو اس وقت اس تحریک کے ہراول دستے کے عثمان حسن بھی ایک رکن تھے۔ اگر بعد میں کچھ حالات دگرگوں نہ ہوتے تو آپ کا نام بھی بانیان جامعہ کی فہرست میں گنا جاتا۔ بانی جامعہ ڈاکٹر علی ملپا اور ماسٹر صاحب ہم مشرب تھے، یہ دونوں حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ اجل مصلح الامت حضرت مولانا وصی اللہ فتحپوری رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھوں پر بیعت تھے، اور ان سے اصلاح و ارشاد کا تعلق رکھتے تھے، جب جامعہ کی تاسیس کی تحریک چلی تھی تواس جد وجہد میں یہ بھی اپنے پیر بھائی کے ساتھ ابتدا ہی میں شریک ہوگئے تھے۔
جامعہ کی تاسیس کے وقت آپ انجمن ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے، اور آپ کا خیال تھا کہ پرائمری بورڈ اسکولوں پر سرکار کا مکمل کنٹرول ہونے کی وجہ سے یہاں پر نونہالوں کی تعلیم کا معیار بہت پست ہوگیا ہے، اور دینی بنیادوں پر ان کی تعلیم وتربیت بہت دشوار ہوگئی ہے، لہذا آپ کی خواہش تھی کہ بچوں کی پرائمری تعلیم کے لئے ایک آزاد دینی درسگاہ بنائی جائے، جہاں سے پرائمری تعلیم پانچویں یا ساتویں مکمل کرکے طلبہ انجمن اسکول میں داخل ہوں، اس سے اسلامی خطوط پر ان کی تعلیم تربیت آسان ہوگی۔ اور اس کے بعد اعلی تعلیم حاصل کرکے جو نسل نکلے گی وہ قوم وملت کا درد لئے ہوگی، اور اس کے صراط مستقیم سے ہٹنے کے امکانات بہت کم ہونگے۔جامعہ ان کے اسی خواب کی تعبیر تھی، ان کا یہ تصور بھی اعلی و ارفع تھا، لیکن مولانا عبد الحمید ندویؒ کی رہنمائی میں ذمہ داران نے جامعہ کو پرائمری کی حد تک محدود کرنے کے بجائے ابتداہی میں اسے ایک عظیم اسلامی دارالعلوم بنانے کا خاکہ پیش کردیا، سننے میں آیا ہے کہ اس تعلق سے غالبا ماسٹر صاحب اور مولانا عبد الحمید ندوی میں کچھ اختلاف رائے بھی ہوا، اور تلخ باتیں بھی ہوئیں،اسی دوران مولانا کا 1967ء میں بھٹکل چھوڑ کر جانا ہوا۔ایک دہائی بعد بھٹکل دوبارہ واپسی کے موقعہ پر ماسٹر صاحب کی اچانک انتقال کی خبر کے بعد یہ رد عمل اختلاف رائے کے باوجود ماسٹر صاحب سے بے پناہ محبت اور تعلق کی علامت تھا، جو لاشعوری میں ایک تڑپ بن گیا تھا۔
ماسٹر عثمان حسن کی ولادت سنہ 1929میں بھٹکل میں ہوئی تھی۔ آپ کی والدہ کا سایہ بچپن ہی میں سر سے اٹھ گیا تھا، والد ماجد سے مدت تک ملاقات نہیں ہوئی تھی، ممتا کا حق آپ کی نانی نے ادا کیا، اور آپ نے غربت اور ناداری میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔
انجمن میں ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے ممبئی کا رخ کیا، جہاں آپ کی تعلیم وہاں کی قابل فخر تعلیم گاہ اسماعیل یوسف کالج جوگیشوری میں ہوئی، یہاں آپ کو مسلمانان ممبئی کے عظیم محسن اور بانی پرنسپل ڈاکٹر محمد بذل الرحمن اور دبستان شبلی وسید سلیمان کے چشم وچراغ اورعظیم محقق ومعلم ڈاکٹر سید محمد نجیب اشرف ندوی کی صحبت نصیب ہوئی۔
ممبئی میں آپ کو بھٹکل کے عظیم قائد الحاج محی الدین منیری مرحوم کی سرپرستی حاصل رہی، معاشی حالات ایسے نہیں تھے کہ ممبئی جیسے شہر میں تعلیم جاری رکھی جاسکتی، منیری صاحب کی قوم کے ہونہار بچوں پر نظر ہوتی تھی، قیام جامعہ سے سات آٹھ سال پہلے آپ نے بھٹکل میں دینی ادارے میں تدریسی صلاحیتوں کے حامل اساتذہ و علماء کی پیشگی تیاری کی غرض سےکئی ایک طلبہ کو دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو جانے پر آمادہ کیا تھا، ان میں مولانا حافظ محمد اقبال ندوی، اور مولانا عبد المجید ملپا ندوی جیسے افراد قابل ذکر ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ مختلف وجوہات سے ان میں سے کئی ایک جامعہ بننے کے بعد اس میں خدمات انجام نہ دے سکے۔
اسی طرح آپ نے ممبئی میں عصری تعلیم پانے والے ہونہار طلبہ پر بھی توجہ دی، ان میں عثمان حسن مرحوم آپ کی توجہات کا خاص مرکز بنے۔ مرحوم ظفر علی معلم راوی ہیں بھٹکل کے خشی چیڈو کے ہوٹل میں آپ کے کھانے پینے کا بندوبست منیری صاحب ہی نے کیا تھا۔ ماسٹر صاحب نے ممبئی سے عربی زبان میں یم اے کی تعلیم مکمل کی، اور پھر بعد میں بلگام سے بی ایڈ کیا۔
1958ء کے بعد مولانا قاضی شریف محی الدین اکرمیؒ یکسوئی کے ساتھ ممبئی منتقل ہوگئے تھے، اور انجمن سے عربی ودینیات کے استاد کی حیثیت سے استعفی دے دیاتھا، تو اس وقت 30 /جون 1959ء کو انجمن اسکول میں ماسٹر عثمان حسن کا پہلے بحیثیت عربی ودینیات ٹیچر تقرر عمل میں آیا، پھر سنہ 1961ء میں ہیڈ ماسٹر بھٹ کی سبکدوشی کے بعد آپ کا بحیثیت ہیڈ ماسٹر تقرر ہوا۔ اور انجمن اپنے ایک نئے سنہرے دور میں داخل ہوگیا۔ جو سنہ 1977ء میں آپ کی وفات تک جملہ (16) سال کے عرصے پر محیط رہا۔
اس دور میں ماسٹر صاحب نے انجمن کو بلندیوں تک لے جانے کے لئے جان کی بازی لگادی، اور اس میں شک نہیں کہ بانی انجمن جناب اسماعیل حسن صدیق مرحوم کے بعد اس ادارے کو آپ جیسا درد مند ، مخلص ،مدبر، معلم و سربراہ نہ مل سکا۔
اپنی ہیڈ ماسٹری کے زمانے میں آپ کی کوشش رہی کہ قوم کے فرزندان نئی نسل کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری سنبھالیں، جس کے لئے آپ نے اپنے شاگردان کی ایک کھیپ تیار کی، جہاں اس کے لئے آپ نے ملا اقبال ،محمد غزالی خطیبی جیسے سینیرزیر تعلیم طلبہ کو تربیت دی ، وہیں آپ نے فارغ التحصیل طلبہ میں سے ڈاکٹر عبد الستار دامدا، محمد جعفر دامدا، عبد القادر باشا خلیفہ، محمد جعفر گنگاولی، اور محمد زبیر چمپا جیسے ہونہار فارغین کو تدریس کے شعبہ سے جوڑ دیا، اور اس کے لئے ایک بیس سالہ منصوبہ تیار کیا، لیکن عمر نے وفا نہ کی اور یہ منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔
ماسٹر صاحب کی تمنا تھی کہ قوم کا ہر فرد زیور تعلیم سے آراستہ ہو، وہ بھٹکل میں بڑی غربت کا زمانہ تھا، خوش حالی ابھی عنقا تھی، خلیج میں تلاش رزق اور تجارت کے دروازے ابھی کھلنے ہی والے تھے۔ بچے ساتویں جماعت سے پہلے ہی تعلیم چھوڑ کر مزدوری اور تلاش معاش میں لگ جاتے تھے۔ اس دور میں ماسٹر صاحب ایک ایک کمزور بچے کی فکر میں لگے رہتے تھے۔ اور کوئی بچہ غربت کی وجہ سے تعلیم چھوڑتا تو اس کے والدین سے مل کر انہیں اپنے نونہالوں کی تعلیم جاری رکھنے پر آمادہ کرنے، اور ان کے لئے سہولتیں پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
آپ ہی کے زمانے میں انجمن نے ترقی کرتے ہوئے ڈگری کالج کا آغاز کیا، لڑکیوں کی تعلیم بھی ساتویں سے ترقی کرتے ہوئے کالج تک کا زینہ طے کیا۔ کچھ عرصہ آپ انجمن کے سکریٹری کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی۔
آپ نے معاشرے میں خالص اردو ادب کا ذوق پیدا کرنے کی غرض سے جامعہ علی گڑھ کے ادیب، ادیب ماہر، اور ادیب کامل کے امتحانات کو بھٹکل میں جاری کیا، اس زمانے کے کئےایک طلبہ محمد حسین فطرت، ملا محمد اقبال وغیرہ نے ان امتحانات کو اعلی نمبرات سے پاس کیا، یہ بھی بھٹکل میں سلیس اور فصیح اردو زبان کے رواج کا باعث بنا۔
طلبہ میں غیر درسی مطالعہ کا فروغ کا سہر ا بھی ماسٹر صاحب کے سر جاتا ہے، آپ نے اپنے وقت کے لحاظ سے انجمن اسکول میں ایک بہترین لائبریری تشکیل دی تھی، اس وقت بچوں میں ان کتابوں کی ترویج میں آپ کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔
لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک تنخواہ دار ملازم کے ساتھ جو رویہ رہا ہے کہ قربانیوں کے باوجود اسے اعزازی کام کرنے والوں کا مقام نہیں مل پاتا، ماسٹر صاحب بھی اس روئیے کے شکار ہوئے، زندگی میں آپ کو وہ عزت اور مقام نہ مل سکا جس کے بجا طور پر وہ مستحق تھے، کالجوں اور انسٹی ٹیوٹوں کے سامنے ان کو ہائی اسکول کے ایک ہیڈ ماسٹر سے زیادہ نہیں سمجھا گیا۔ بلند وبالا عمارتوں کے سامنے ان کی بنیاد وں کو سیسے کی دیوار بنانے کے لئے خون بہانے والوں کو قابل اعتناء نہیں سمجھا گیا۔ ماسٹر صاحب کی بار بار یہ خواہش رہی کہ انہیں اتنی مالی وسعت حاصل ہوتی جو ان کی گھریلو ضرورتوں کو پورا کرتی تو وہ قوم کی خدمت بلا معاوضہ انجام دیتے۔
ماسٹر صاحب نے جب ڈیوٹی ادا کرتے ہوئے میز پر ہی اپنی جان جان آفرینی کے سپرد کی تو کالج کے پروفیسر شاعر رشید کوثر فاروقی مرحوم نے اس وقت آپ کے تعزیتی اجلاس کے لئے ایک طویل تاثراتی نظم لکھی تھی، جس کا عنوان تھا ” مرثیہ مگر کس کا”۔ جس نے مجمع کو رلا دیا تھا۔اس کا آخری بند کچھ یوں ہے۔(شاعر کی زبانی مکمل ویڈیو اور آڈیو اردو آڈیو ڈاٹ کام پر دستیاب ہے۔
بلندیوں سے گریزاں ہیں پست قوم ہیں ہم
ہمیں ہے فخر کہ مردہ پرست قوم ہیں ہم
جو قدر چاہتے ہو جان سے گزر جاؤ
اگر پسند ہو جینا تو پہلے مر جاؤ
یہ قوم وہ ہے جو زندوں کی جان لیتی ہے
یہ قوم وہ ہے جو مردوں پر جان دیتی ہے
یہ قوم تو دہ خاکی کے بت بناتی ہے
یہ قوم قبر کی مٹی بھی بیچ کھاتی ہے
یہ مر چکی ہے اسے گرو زندگی رکھ دو
عجائبات میں اس قوم کی ممی رکھ دو




