تحریر: شریک غم ۔ عبد اللہ کوبٹے
زندگی میں بعض جدائیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں ہوتا۔ انسان بہت کچھ کہنا چاہتا ہے، لیکن جب دل پر غم کا بوجھ ہو اور آنکھوں کے سامنے ایک طویل رفاقت کی یادیں بکھری پڑی ہوں تو الفاظ بھی ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں۔ میری زندگی میں بھی ایک ایسا ہی لمحہ اچانک آ پہنچا، جب میری شریکِ حیات، میری رفیقۂ زندگی، میرے دکھ سکھ کی ساتھی، نصف صدی تک میرے ساتھ زندگی کے نشیب و فراز طے کرنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی کا ایک پورا باب اچانک بند ہوگیا ہو۔ وہ گھر جس میں ان کی آواز گونجتی تھی، جس کے گوشے ان کی موجودگی سے آباد تھے، جہاں ان کی مصروفیات، ان کی دعائیں، ان کی تلاوت اور ان کے معمولات زندگی کا حصہ تھے، یکایک ایک ایسی خاموشی میں ڈوب گیا جسے محسوس تو کیا جاسکتا ہے، مگر بیان نہیں کیا جاسکتا۔
ان کی پیدائش 1956ء میں ہوئی۔ انہوں نے دنیا میں زندگی کی اناسی بہاریں دیکھیں، اور اسلامی قمری حساب سے تقریباً 72 سال کی عمر پائی۔ ہماری رفاقت کا آغاز 1976ء کے ابتدائی ایام میں ہوا۔ اس طرح تقریباً پچاس برس ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ گزارے۔ نصف صدی کا عرصہ ۔ یا اللہ ۔ یہ محض پچاس سال کا زمانی فاصلہ نہیں، بلکہ خوشیوں، غموں، امیدوں، آزمائشوں، قربانیوں، دعاؤں اور بے شمار یادوں پر مشتمل ایک پوری زندگی تھی۔
میں جب ان پچاس برسوں پر نظر ڈالتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے صرف میری زوجیت کا حق ادا نہیں کیا، بلکہ ایک وفاشعار رفیقۂ حیات کی حیثیت سے ہر مرحلے پر میرا ساتھ نبھایا۔ میری راحت کا خیال رکھا، میری ضروریات کو اپنی ضرورت سمجھا اور میری خوشی کو اپنی خوشی جانا۔ ان کی اطاعت، فرمانبرداری اور وفاداری ایسی تھی کہ اس کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو صلاحیتیں عطا کی تھیں، انہوں نے انہیں اپنے گھر اور اپنے خاندان کی خدمت میں صرف کیا۔
وہ ایک ایسی خاتون تھیں جن کی زندگی میں مہمان نوازی ایک وصف ہی نہیں، بلکہ ایک فطرت بن چکی تھی۔ گھر میں کوئی مہمان آتا تو ان کے لیے وہ محض مہمان نہیں رہتا، بلکہ گھر کے کسی عزیز کی طرح اس کی خاطر مدارات ہوتیں۔ مہمان کے ذوق، مزاج اور پسند کا لحاظ رکھنا ان کی خاص عادت تھی۔ وہ اس کی پسند کے مطابق کھانا تیار کرتیں اور پوری محبت سے اس کی خدمت کرتیں۔ ان کے نزدیک مہمان کی آمد گھر کے لیے بوجھ نہیں، بلکہ اس کے نام حصہ بن کر باعثِ مسرت اور سعادت ہوتی۔
دبئی میں ہمارے قیام کے دوران بے شمار احباب ایسے آئے جو وزٹ ویزے پر یہاں پہنچے، یا روزگار کی تلاش میں آئے۔ ان میں سےکئی افراد نے کسی نہ کسی مرحلے پر ہمارے گھر سے تعلق قائم کیا۔ مرحومہ نے اپنی استطاعت کے مطابق ان سب کا خیال رکھا، ان کی ضروریات میں تعاون کیا اور انہیں اپنائیت کا احساس دلایا۔ آج ان لوگوں کی یادیں بھی ان کے ساتھ وابستہ ہیں۔ کتنے ہی لوگ ہوں گے جو ان کی مہمان نوازی اور محبت کو یاد کرتے ہوں گے۔
ان کی زندگی کا ایک نہایت نمایاں پہلو دینی مزاج اور اسلامی تربیت کا شوق تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ ان کی زندگی بھی شریعت کے مطابق گزرے اور ان کے گھر کا ماحول بھی دینی بنیادوں پر استوار رہے۔ ان کے نزدیک اولاد کی تربیت کا مقصد صرف دنیاوی کامیابی نہیں، بلکہ ان کے دلوں میں دین کی محبت، قرآن سے تعلق اور شریعت کی پابندی پیدا کرنا تھا۔ وہ خود بھی اس راستے پر چلتی رہیں اور اپنے بچوں، گھر والوں، اعزہ و اقربا اور سہیلیوں کو بھی اس طرف متوجہ کرتی رہیں۔
قرآن مجید سے ان کا تعلق محض تلاوت تک محدود نہیں تھا۔ وہ قرآن پڑھتی تھیں، اس کے معانی سمجھنے اور اس کی تعلیمات پر غور کرنے کی بھی کوشش کرتی تھیں۔ قرآن فہمی ان کی زندگی کا ایک مستقل معمول تھا۔ ان کی یہ عادت زندگی کے آخری ایام تک برقرار رہی۔ ان کے لیے قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں، بلکہ زندگی گزارنے کا دستور اور دل کے سکون کا سرچشمہ تھا۔
ان کے روزمرہ معمولات میں پابندی اور استقامت کا ایک خاص رنگ تھا۔ رات کے آخری حصے میں، سحر کے وقت، جلد بیدار ہوجاتیں۔ تہجد کے لیے اٹھنا، اللہ تعالیٰ کے حضور دعا و مناجات کرنا، پھر قرآن مجید کی تلاوت اور اذکار میں مشغول رہنا، ان کی زندگی کا معمول تھا۔ فجر کے بعد بھی اشراق تک اپنے انہی معمولات میں مصروف رہتیں۔ یہ کوئی چند دنوں یا چند مہینوں کا معمول نہیں تھا، بلکہ ایک مستقل طرزِ زندگی تھا، جس میں آخری سانس تک کوئی نمایاں فرق نہیں آیا۔
آج جب میں ان کے ان معمولات کو یاد کرتا ہوں تو دل میں ایک عجیب کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ وہ سحر کے پُرسکون لمحات، قرآن کی آواز، ذکر و اذکار میں مشغول ایک وجود، اور گھر کے اندر پھیلی ہوئی وہ روحانی فضا، سب کچھ نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے۔ اب وہ آواز سنائی نہیں دیتی، وہ معمولات اپنی جگہ خاموش ہیں، مگر ان کی یادیں دل میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
اور پھر ان کی زندگی کا آخری دن بھی اپنے اندر ایک خاص معنویت لیے ہوئے ہے۔ 26 Oct 2026 ء، مطابق 16 جمادی الاول 1448ھ، ان کی زندگی کا آخری دن ثابت ہوا۔ اس دن بھی انہوں نے حسبِ معمول نمازِ فجر ادا کی۔ میں مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کے لیے روانہ ہونے لگا تو انہوں نے مجھے خود مسجد جانے کے لیے روانہ کیا۔ جب کہ میں نے اور کہا کہ ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں، مگر کہا کہ نہیں پہلے آپ مسجد میں نماز ادا کر آئیں۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ ہماری زندگی کے معمول کے آخری لمحات میں سے ہیں۔ مجھے کیا خبر تھی کہ جس گھر سے میں حسبِ معمول مسجد کے لیے نکل رہا ہوں، وہاں واپس آکر کچھ ہی گھنٹوں میں ایک ایسی خبر اور ایک ایسی خاموشی سے سامنا ہوگا جو میری پوری زندگی کا رخ بدل دے گی۔ بہر کیف میں مسجد چلا گیا، لیکن وہ اپنے رب کے حضور حاضری کے لیے اس دنیا سے رخصت ہونے کی تیاری میں تھیں۔ ظہر کی اذان سے قبل ان کی زندگی کا چراغ بجھ گیا۔ یوں ان کی دنیاوی زندگی کا سفر اختتام پذیر ہوا۔
میری زندگی کا ایک بڑا سرمایہ میرے بچے بھی ہیں۔ الحمدللہ ۔ اللہ تعالیٰ نےہمیں دوبچوں سے نوازا، ایک بیٹا سجاد اور ایک بیٹی نازش۔ ان دونوں کی دینی و اخلاقی تربیت، ان کے مزاج کی تشکیل اور انہیں اچھے انسان بنانے میں مرحومہ کا بڑا حصہ رہا۔ انہوں نے ماں کی حیثیت سے جس محبت، توجہ، محنت اور فکر کے ساتھ ان کی پرورش کی، آج اس کے اچھے نتائج دیکھ کر دل اللہ تعالیٰ کے حضور شکر سے جھک جاتا ہے۔ دونوں ماشاء اللہ نیک، صالح اور والدین کے فرمانبردار ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ دین و عافیت پر قائم رکھے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک نیک بہو عائشہ اور نیک داماد عمیر سے بھی نوازا۔ ان دونوں نے بھی ہمارے ساتھ محض بہو اور داماد کا رسمی تعلق نہیں رکھا، بلکہ ایک بیٹے اور ایک بیٹی کی طرح محبت، احترام اور اپنائیت کا رشتہ نبھایا ہے۔ ان کی محبت اور حسنِ سلوک بھی ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے۔
میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ سب رشتے، یہ محبتیں اور ان سے وابستہ خوشیاں میری اس زندگی کا حصہ ہیں جس کی تعمیر میں مرحومہ کا بنیادی کردار رہا ہے۔ آج جب میں اپنے بچوں اور ان کے گھروں کو دیکھتا ہوں تو ان میں مجھے مسرت کی محنت، تربیت اور دعاؤں کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ گویا وہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی تربیت کی خوشبو آج بھی ہمارے گھر اور خاندان میں پھیلی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ان سب رشتوں کو سلامت رکھے، ان کے درمیان محبت و الفت قائم رکھے اور مرحومہ کی اس محنت و تربیت کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ اور ذخیرۂ آخرت بنائے۔
ان کے انتقال کے بعد جب تعزیت اور افسوس کے پیغامات کا سلسلہ شروع ہوا تو میرے لیے یہ ایک اور طرح کا جذباتی تجربہ تھا۔ ملک و بیرونِ ملک سے احباب، عزیز و اقارب، رشتہ داروں اور جاننے والوں کے پیغامات موصول ہونے لگے۔ ہر پیغام میں دکھ، محبت، خلوص اور مرحومہ کے ساتھ وابستہ کسی نہ کسی یاد کا اظہار تھا۔ کسی نے ان کی مہمان نوازی کو یاد کیا، کسی نے ان کے حسنِ اخلاق اور خوش مزاجی کا ذکر کیا، کسی نے ان کی دینی زندگی اور عبادات کو خراجِ تحسین پیش کیا، اور کسی نے ان کے ساتھ گزارے ہوئے اپنے قیمتی لمحات کو یاد کرکے اپنے غم کا اظہار کیا۔
یہ پیغامات پڑھتے ہوئے بارہا میری آنکھیں نم ہوئیں۔ ایک طرف ان کی جدائی کا غم تازہ ہوتا، تو دوسری طرف یہ احساس دل کو چھو جاتا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کتنے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی تھی۔ ان کی محبت صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں تھی، بلکہ ان لوگوں کے دلوں تک پہنچی تھی جن سے کبھی ان کا مختصر سا تعلق قائم ہوا تھا۔ کسی کے لیے وہ ایک مہمان نواز خاتون تھیں، کسی کے لیے ایک شفیق اور مخلص بہن، کسی کے لیے ایک خیر خواہ اور کسی کے لیے ایک ایسی خاتون جن کی محبت اور خلوص کو وہ آج بھی یاد کرتے ہیں۔
ان پیغامات نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ انسان کی اصل زندگی صرف وہ نہیں ہوتی جو وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارتا ہے، بلکہ اس کی زندگی کا ایک بڑا حصہ ان لوگوں کے دلوں میں بھی محفوظ رہتا ہے جن سے اس کا کسی نہ کسی انداز میں واسطہ پڑتا ہے۔ انسان دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے، مگر اس کے اخلاق، اس کی محبت، اس کی خدمت اور اس کے خلوص کے نقوش دوسروں کے دلوں میں باقی رہ جاتے ہیں۔
میرے لیے یہ پیغامات صرف تعزیت کے الفاظ نہیں تھے، بلکہ ان کی زندگی کی نیکیوں اور خدمات کی گواہی بھی تھے۔ مجھے محسوس ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں کے دلوں میں جو مقام عطا فرمایا تھا، وہ ان کے اخلاص، حسنِ سلوک اور بے لوث خدمت کا ایک خوب صورت عکس ہے۔ یہ سب کچھ میرے لیے باعثِ تسلی بھی ہے اور شکر کا ایک نیا احساس بھی۔
واقعی، انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ یہی ہے کہ وہ دنیا سے رخصت ہو تو اس کے جانے پر صرف اس کے اہلِ خانہ ہی نہیں، بلکہ دوسرے لوگ بھی اسے محبت سے یاد کریں، اس کی نیکیوں کا تذکرہ کریں اور اس کے لیے دعائے مغفرت کریں۔ میں ان تمام احباب، عزیزوں اور متعلقین کا تہِ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے اس غم کی گھڑی میں اپنے محبت بھرے پیغامات، دعاؤں اور تعزیت کے ذریعے ہمارا ساتھ دیا۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
ان کے جانے کا صدمہ میرے لیے کس قدر گہرا ہے، اسے شاید وہی سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی زندگی کے پچاس سال کسی کے ساتھ گزارے ہوں۔ نصف صدی تک ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والے دو انسانوں کے درمیان کتنی باتیں، کتنی عادتیں، کتنی خاموش سمجھ بوجھ اور کتنی ان کہی محبتیں جمع ہوجاتی ہیں، اس کا اندازہ کسی تیسرے کو نہیں ہوسکتا۔ زندگی کے ہر موڑ پر ان کی موجودگی میرے لیے ایک مانوس حقیقت تھی۔ اب وہ حقیقت یادوں میں تبدیل ہوگئی ہے۔
لیکن میں اس جدائی کے غم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہوں۔ یہ دنیا دارالفنا ہے، یہاں ہر آنے والے کو ایک دن واپس جانا ہے۔ البتہ کسی اپنے کی جدائی انسان کے دل میں جو خلا پیدا کرتی ہے، وہ مدتوں محسوس ہوتا رہتا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک ایسی وفاشعار، خدمت گزار، مہمان نواز اور دین دار شریکِ حیات عطا فرمائی، جس کے ساتھ زندگی کے پچاس سال گزارنے کا موقع ملا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک بڑا انعام تھا۔
ان کی جدائی نے مجھے یہ احساس اور بھی گہرا کردیا ہے کہ دنیا میں اصل سرمایہ وہ محبت، وفاداری اور نیک اعمال ہیں جو انسان اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ انسان چلا جاتا ہے، لیکن اس کے اچھے اخلاق، اس کی نیک عادتیں، اس کی دعائیں اور اس کے احسانات باقی رہ جاتے ہیں۔
مسرت۔ تم نے زندگی کے پچاس برس میرے ساتھ گزارے۔ تمہاری رفاقت اب یادوں کی صورت میں میرے ساتھ رہے گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جس طرح تم نے دنیا میں آپ کو میرا شریکِ سفر بنایا، اسی طرح آخرت میں بھی ہمیں اپنی رحمت سے جنت میں یکجا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی زندگی بھر کی عبادات، تلاوتِ قرآن، اذکار، مہمان نوازی، حسنِ اخلاق، خدمتِ خلق، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک اور ان تمام نیکیوں کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے جن کا علم صرف اسی کے پاس ہے۔ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت اور ان کے حق میں اٹھنے والے دعائیہ ہاتھوں کو ان کے لیے صدقۂ خیر اور ذخیرۂ آخرت بنائے۔ ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے




