(انجمن پرائمری اسکول کی ایک منفرد اور معلوماتی تعلیمی نمائش)
تحریر: ڈاکٹر عبدالحفیظ ندوی
استاد اسلامیہ اینگلواردوہائی اسکول بھٹکل
ششماہی تعطیلات (Mid-Term Holidays) کے بعد اسکولوں میں جہاں تعلیمی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ہوتا ہے، وہیں ثقافتی، تفریحی اور ہم نصابی سرگرمیاں بھی زور پکڑنے لگتی ہیں۔ بالخصوص ماہِ نومبر میں مختلف تعلیمی اداروں میں طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف النوع نمائشوں اور تخلیقی پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں انجمن پرائمری اسکول جانے کا اتفاق ہوا، اور ان چیزوں کا عملی مشاہدہ ہوا جن چیزوں کو طلباء نصاب میں پڑھتے ہیں,جہاں داخل ہوتے ہی ایک منفرد، دلچسپ اور تخلیقی تعلیمی ماحول دیکھنے کو ملا کہ اسکول میں طلبہ کی جانب سے ’’ جنگل سفاری‘‘ (Jungle Safari) کے عنوان سے ایک خوب صورت نمائش سجائی گئی تھی، جس میں قدرتی دنیا کے مختلف گوشوں کو نہایت فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ یہ محض مختلف اشیا کی نمائش نہیں تھی، بلکہ بچوں کے تخیل، مشاہدے، محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کا ایک دل کش مظاہرہ تھا۔
قرآن مجید بار بار انسان کو کائنات کی تخلیق اور اس میں پھیلی ہوئی نشانیوں پر غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ۔
ترجمہ: بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات کا مشاہدہ محض دیکھنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے ذریعے خالقِ کائنات کی قدرت، حکمت اور تخلیق کے اسرار کو سمجھنے کی کوشش بھی ہونی چاہیے۔ اس نمائش کے مختلف گوشے بھی بچوں کو اسی قدرتی دنیا سے قریب کرنے کی ایک خوب صورت کوشش محسوس ہوئے۔
اس نمائش کی خاص بات یہ تھی کہ اسے چار دلچسپ موضوعات میں تقسیم کیا گیا تھا، جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ ایک الگ دنیا کا منظر پیش کررہا تھا اور اسکی دلچسپ بات یہ تھی کہ یہاں پر آنے والوں کی معلومات کاامتحان بھی تھا کوئز کی شکل اور جواب نہ دینے کی صورت میں طلباء انہیں اس کا جواب دے کر انکی معلومات میں اضافہ کررہے تھے۔
اسکول کے داخلی دروازے ہی سے نمائش کا حسن اور اس کی انفرادیت نمایاں ہونے لگتی تھی۔ داخلی راستے کو ہرے بھرے رنگوں، درختوں کی شاخوں اور جنگل کے قدرتی مناظر سے اس قدر خوب صورتی کے ساتھ سجایا گیا تھا کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہم کسی حقیقی جنگل کی دنیا میں داخل ہورہے ہوں۔ کہیں درختوں کی ڈالیوں کی صورت میں دل کش منظر تھا تو کہیں پہاڑوں اور چٹانوں جیسی خوب صورت بناوٹیں، کہیں شہد کی مکھیوں کے چھتے اور کہیں قدرتی ماحول کی عکاسی کرنے والی مختلف آرائشی تخلیقات نظر آرہی تھیں۔ گویا اسکول کے ایک حصے کو بچوں اور اساتذہ نے اپنی فن کاری اور تخیل کے ذریعے ایک سرسبز و شاداب جنگل میں تبدیل کردیا تھا۔ داخل ہوتے ہی انسان چند لمحوں کے لیے روزمرہ کی مصروف دنیا سے نکل کر قدرت کے حسین مناظر میں کھو جاتا تھا۔
اس تخلیقی منظر کو دیکھ کر یہ خوب صورت شعر بے ساختہ یاد آگیا
کہیں جنگل اگاتے ہیں کہیں آہو بناتے ہیں
مصور ہیں ترے پہلو کو صد پہلو بناتے ہیں
واقعی ان ننھے فن کاروں اور ان کی رہنمائی کرنے والے اساتذہ نے اپنے تخیل اور فن کاری سے ایک ہی جگہ قدرت کے بے شمار رنگ سمیٹ دیے تھے۔ یہ محض آرائش نہیں تھی بلکہ تخلیق، مشاہدے اور حسنِ فطرت سے محبت کا ایک خوب صورت اظہار تھا۔
پہلا حصہ ’’Roar n Explore‘‘ یعنی جنگل کی دھاڑ اور حیرتوں کی دنیا کے عنوان سے سجایا گیا تھا، جہاں جنگلی جانوروں اور ان کے قدرتی ماحول کو مختلف کرافٹ کے ذریعے پیش کیا گیا تھا۔ مختلف جانوروں کے تعلق سے ننھے منے بچے دلچسپ انداز میں اپنی معلومات پیش کررہے تھے۔ بعض بچے جانوروں کی شکلیں اختیار کرکے ان کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے قدرتِ خداوندی کی عجیب و غریب تخلیقات کا تعارف کرا رہے تھے۔
قرآن مجید میں جانوروں کی مختلف انواع اور ان کی زندگی کے نظام کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے:
وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ۔
ترجمہ: اور زمین میں چلنے والا کوئی جانور اور اپنے دونوں پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں جو تمہاری ہی طرح ایک جماعت نہ ہو۔
یہ آیت اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ جانور اور پرندے بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں، ان کی اپنی زندگی اور ایک منظم نظام ہے۔ ان کے بارے میں جاننا، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا اور ان کے وجود کی اہمیت کو سمجھنا بھی ہماری اخلاقی اور دینی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
دوسرا حصہ ’’Tropical Trails – Fruits, Veggies & More‘‘ یعنی قدرت کے رنگ اور پھلوں، سبزیوں کی بہار کے عنوان سے تھا، جس میں مختلف پھلوں، سبزیوں اور نباتات کو خوب صورتی سے تیار کرکے سجایا گیا تھا۔
آج کے دور میں جب ملاوٹ، غیر ضروری کیمیکل اور زرعی ادویات کے بے جا استعمال کے باعث غذائی اشیا کے معیار اور انسانی صحت کے حوالے سے مختلف خدشات پیدا ہورہے ہیں، ایسے ماحول میں بچوں کو قدرتی غذا، پھلوں، سبزیوں اور درختوں کی اہمیت سے واقف کرانا ایک قابلِ قدر کوشش ہے۔ یہ بچے اپنے اپنے گھروں میں درخت لگانے، پودوں کی آبیاری کرنے اور اپنے اطراف کے ماحول کو سرسبز و شاداب بنانے کا پیغام دے رہے تھے۔ افسوس کہ درخت لگانے اور قدرتی ماحول سے محبت کرنے جیسی باتیں آج کل اکثر کتابوں کے صفحات تک محدود ہوکر رہ گئی ہیں، حالاں کہ انہیں عملی زندگی کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بارش کے ذریعے زمین سے پیدا ہونے والی مختلف نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا۔
ترجمہ: پھر ہم نے اس پانی سے خوش نما باغات اگائے، تمہارے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ تم ان کے درختوں کو اگا سکتے۔
اسی طرح ارشاد ہے:
كُلُوا مِنْ ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ وَلَا تُسْرِفُوا۔
ترجمہ: جب وہ پھل لائے تو اس کے پھل میں سے کھاؤ اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق ادا کرو اور فضول خرچی نہ کرو۔
ان آیات میں قدرت کی نعمتوں کا ذکر بھی ہے اور ان کے استعمال میں اعتدال اور ذمہ داری کا درس بھی۔ بچوں کو درختوں، پھلوں اور سبزیوں کی اہمیت سمجھانا دراصل انہیں قدرت کی نعمتوں کی قدر کرنا سکھانا ہے۔
تیسرے حصے کو ’’Aqua Adventure‘‘ یعنی آبی دنیا کی حیرت انگیز مہم کا نام دیا گیا تھا۔ اس میں سمندر اور پانی میں پائی جانے والی مختلف مخلوقات، رنگ برنگی مچھلیوں اور آبی جانوروں کو نہایت دل کش انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ اس حصے نے سمندری حیات کی ایک مختصر مگر خوب صورت تصویر نگاہوں کے سامنے پیش کردی۔
یہ بھی ایک اہم پیغام تھا کہ جس طرح خشکی پر رہنے والی مخلوقات کی حفاظت ضروری ہے، اسی طرح بحری مخلوقات بھی ہمارے قدرتی ماحول کا اہم حصہ ہیں۔ سمندر اور اس کے قدرتی وسائل کا درست استعمال اور آبی حیات کا تحفظ ماحول کے توازن کے لیے ضروری ہے۔
قرآن مجید میں خشکی اور سمندر دونوں میں پھیلنے والے بگاڑ کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ۔
ترجمہ: خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے۔
یہ آیت ہمیں اپنے ماحول کے تئیں ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں قدرتی نظام میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو روکنا اور زمین و سمندر کے ماحول کو محفوظ رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
چوتھا حصہ ’’Aetheria – The Realm of Winged Wonders‘‘ یعنی پرواز کی دنیا اور پروں کے حسین کرشمے کے عنوان سے تھا، جس میں مختلف پرندوں اور پروں والی مخلوقات کی دنیا کو تخلیقی انداز میں سجایا گیا تھا۔ ان نمونوں میں بچوں کی فن کاری، رنگوں کا انتخاب اور باریک بینی خاص طور پر قابلِ توجہ تھی۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ، پرندوں کی آوازیں اور ان کے گھونسلوں کی منظر کشی سے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے ہم کسی حقیقی جنگل میں پہنچ گئے ہوں۔ کہیں بادلوں کی خوب صورت شکلیں تھیں تو کہیں پرندوں کے گھونسلے اور مکڑیوں کے جالے، غرض ہر گوشہ بچوں کے تخیل اور فن کاری کا آئینہ دار تھا۔
قرآن مجید انسان کو پرندوں کی پرواز اور آسمان کی وسعتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں دیکھنے کی دعوت دیتا ہے:
أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَٰنُ۔
ترجمہ: کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا جو پر پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں اور کبھی سمیٹ لیتے ہیں؟ انہیں رحمان ہی تھامے ہوئے ہے۔
یقیناً پرندوں کی پرواز، ان کے گھونسلوں کی تعمیر اور ان کی زندگی کا منظم نظام غوروفکر کرنے والوں کے لیے قدرتِ الٰہی کی عظیم نشانیاں ہیں۔
ان تمام نمونوں کی خاص بات ان کی خوب صورتی کے ساتھ ان کے پیچھے کارفرما محنت، ذہانت اور فن کاری تھی۔ معمولی کاغذ، گتے، رنگوں اور دیگر اشیا کو اس مہارت سے استعمال کیا گیا تھا کہ دیکھنے والا بچوں کی صلاحیتوں کا معترف ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔
لیکن اس نمائش کا ایک اور پہلو بھی ایسا تھا جس نے خصوصی طور پر متاثر کیا، اور وہ تھا اساتذہ کا جذبہ، ان کی محنت اور بچوں کے تئیں ان کی بے لوث وابستگی تھی اور اساتذہ نے یہ پیغام بھی پیش کیا کہ گھروں میں بچوں کو موبائل کی لعنت سے دور کرنا چاہتے ہیں تو ایسی چیزوں کے تجربے وقت کے ضیاع سے بچا تے ہوئے کئی مہارتوں کو پیدا کرسکتے ہیں
یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی فن کو سیکھنا، اس میں مہارت حاصل کرنا اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا انسان کے لیے ذاتی ترقی اور معاشی منفعت کے بے شمار راستے کھول سکتا ہے۔ لیکن انجمن پرائمری اسکول کے ان اساتذہ اور انکی میر معلمہ (ھیڈمسٹرس) کی قابلِ قدر بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی فنی اور تخلیقی صلاحیتوں کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ انہیں بچوں کی تعلیم و تربیت، ان کی ذہنی نشوونما اور پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے وقف کردیا ہے۔
وہ چاہتے تو اپنے اس ہنر کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرسکتے تھے، لیکن انہوں نے اپنے تجربے، وقت اور محنت کو ننھے ذہنوں کی آبیاری کے لیے صرف کیا۔ بچوں کو یہ سکھایا کہ علم صرف کتابوں کے صفحات تک محدود نہیں، بلکہ اپنے ہاتھوں سے کچھ تخلیق کرنا، سوچنا، سمجھنا اور اپنے خیالات کو عملی شکل دینا بھی تعلیم کا ایک اہم حصہ ہے۔
قرآن مجید کی پہلی وحی ہی میں علم اور تعلیم کی اہمیت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ , عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ۔
ترجمہ: جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی، انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔
یہی تعلیم و تربیت کا بنیادی مقصد ہے کہ انسان اپنے علم اور صلاحیتوں کو دوسروں تک منتقل کرے، انہیں سیکھنے کے مواقع فراہم کرے اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرے۔ ایک اچھا استاد وہی ہے جو اپنی مہارت کو اپنے شاگردوں کی کامیابی کا ذریعہ بنادے۔
اس طرح کی سرگرمیاں بچوں میں خود اعتمادی، محنت، باہمی تعاون، مشاہدے اور اظہارِ خیال کی صلاحیت پیدا کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں قدرتی ماحول، جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کی اہمیت سمجھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر جانور، پرندہ، پودا اور آبی مخلوق قدرتی نظام کا ایک اہم حصہ ہے اور ان سب کی حفاظت ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
بلاشبہ انجمن پرائمری اسکول کے ان اساتذہ کی یہ کاوش قابلِ تحسین ہے۔ ایسے اساتذہ کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، کیونکہ ان کی محنت صرف ایک نمائش کی تیاری تک محدود نہیں، بلکہ یہ نئی نسل کے مستقبل کو سنوارنے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔
استاد کا اصل کمال صرف یہ نہیں کہ وہ خود کسی فن میں مہارت رکھتا ہو، بلکہ اس کا حقیقی کمال یہ ہے کہ وہ اپنے ہنر سے دوسروں کے اندر بھی ہنر پیدا کردے۔ کچھ لوگ اپنے ہنر سے اپنی دنیا سنوارتے ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے ہنر کو دوسروں کا مستقبل سنوارنے کے لیے وقف کردیتے ہیں۔ انجمن پرائمری اسکول کے اساتذہ کی یہ کاوش اسی جذبے کی عکاس ہے۔
انجمن پرائمری اسکول کی صدر معلمہ تمام متعلقہ اساتذہ، منتظمین اور طلباء کو اس خوب صورت کاوش پر دلی مبارک باد اور خراجِ تحسین۔ امید ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی اور دوسرے تعلیمی اداروں کے لیے بھی ایک مثبت مثال بنیں گی۔
اللہ تعالیٰ ان اساتذہ کے جذبے، محنت اور اخلاص کو قبول فرمائے اور انہیں نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے لیے مزید بہتر انداز میں خدمات انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔




