منگلورو (فکروخبر نیوز) منگلورو کے ٹاؤن ہال میں منگل 3 نومبر کو شروع ہونے والے پہلے عالمی کونکنی موسیقی مہا سمیلن میں بھٹکل کی نوائطی زبان اور اس کی منفرد شعری و ثقافتی روایت کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے کا موقع ملا۔ اس سمیلن میں بھٹکل کی معروف ادبی و ثقافتی تنظیم نوائط محفل کے فنکاروں نے بغیر کسی ساز و موسیقی کے اپنے مخصوص انداز میں نوائطی کلام پیش کرکے سامعین کی بھرپور داد حاصل کی۔
بھٹکل نوائط محفل کے جنرل سیکریٹری اشتیاق رکن الدین کے مطابق اس عالمی سمیلن میں تقریباً 300 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جن میں بھٹکل کی نوائط محفل کو ابتدائی دس ٹیموں میں ہی اپنی پیشکش کا موقع دیا گیا۔ ہر ٹیم کے لیے ایک گھنٹہ مختص کیا گیا تھا، جبکہ نوائط محفل کے فنکاروں نے دوپہر تین بجے سے چار بجے تک اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
اس موقع پر بھٹکل کے شعراء اور گلوکاروں نے نوائطی زبان کے مختلف کلام مخصوص لے اور آہنگ کے ساتھ پیش کیے۔ خاص بات یہ رہی کہ تمام کلام کسی بھی ساز یا موسیقی کے استعمال کے بغیر پیش کیے گئے، جس نے حاضرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔
نوائطی زبان کی مخصوص ادائیگی، منفرد شعری روایت اور روایتی اندازِ گائیکی نے اس پیشکش کو دوسری ٹیموں سے ممتاز کردیا۔ حاضرین نے نوائطی کلام کو دلچسپی سے سنا اور فنکاروں کی خوب حوصلہ افزائی کی۔
نوائط محفل کے سکریٹری شبیر عجائب نے بتایا کہ اس بین الاقوامی پروگرام میں شرکت کے لیے ٹیم گزشتہ 45 دنوں سے مسلسل تیاری کررہی تھی۔ ان کے مطابق نوفل دامودی، سمیع اللہ برماور اور جیلانی شاہ بندری سمیت مجموعی طور پر 18 شعراء، گلوکاروں اور فنکاروں نے اس پروگرام میں حصہ لیا۔ تمام فنکار روایتی نوائطی اسلامی لباس میں شریک ہوئے اور یکے بعد دیگرے مختلف اسلامی گیت اور نوائطی کلام پیش کیے۔
ان پیشکشوں کے ذریعے نہ صرف نوائطی زبان کی ادبی خصوصیات کو اجاگر کیا گیا بلکہ اس کی تہذیبی شناخت، شعری روایت اور ثقافتی ورثے کو بھی حاضرین کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔
واضح رہے کہ بھٹکل اور اس کے اطراف میں بولی جانے والی نوائطی زبان اپنی ایک منفرد لسانی اور تہذیبی شناخت رکھتی ہے۔ کونکنی برادری کے بعض حلقے نوائطی زبان کو کونکنی لسانی و ثقافتی روایت سے وابستہ تصور کرتے ہیں۔ ایسے میں اس عالمی سمیلن میں نوائطی کلام کی شمولیت کو بھٹکل کی ادبی و ثقافتی روایت کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا جارہا ہے۔
عالمی ریکارڈ قائم کرنے کے لیے 13 روزہ سمیلن
کونکنی ثقافتی تنظیم ’’مندّ سوبھن‘‘ (Mandd Sobhann) کی جانب سے اپنے قیام کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ یہ بین الاقوامی سمیلن 3 سے 15 نومبر تک جاری رہے گا۔ سمیلن کا افتتاح منگل کی صبح پانچ بجے گوا کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر پرمود ساونت نے کیا، جبکہ منگلورو ڈایوسیس کے بشپ ڈاکٹر پیٹر پال سلڈانہ نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔
اس سمیلن کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں آباد کونکنی زبان بولنے والی برادریوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا، کونکنی موسیقی کی مختلف اصناف کو فروغ دینا اور نئی نسل کو اپنی زبان، ادب اور تہذیب سے جوڑنا ہے۔
منتظمین کے مطابق اس بین الاقوامی پروگرام کی سب سے بڑی خصوصیت مسلسل گائیکی کے ذریعے گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش ہے۔ ’’کونکنی نیرنتری، سنسار سورسوری‘‘ کے عنوان سے شروع کی گئی اس مہم میں 12 دن، 12 گھنٹے اور 12 منٹ تک مسلسل گیت پیش کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس عالمی کوشش میں تقریباً 300 ٹیموں کے 6,700 سے زائد گلوکار شریک ہورہے ہیں، جو 250 سے زیادہ موسیقاروں اور نغمہ نگاروں کے ترتیب دیے ہوئے 4,500 سے زائد گیت پیش کریں گے۔ منتظمین کی جانب سے اس بات کا خاص خیال رکھا جارہا ہے کہ کسی گلوکار کو دوبارہ موقع نہ دیا جائے اور نہ ہی کسی گیت کو دہرایا جائے۔ سمیلن میں ہندوستان کے مختلف علاقوں کے علاوہ آسٹریلیا، کویت، عمان اور قطر سے بھی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جبکہ صرف گوا سے 53 ٹیمیں شریک ہیں۔
افتتاح کے موقع پر گوا کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر پرمود ساونت نے روایتی کونکنی ساز ’’گومات‘‘ بجاکر مسلسل گائیکی کے اس عالمی ریکارڈ کی کوشش کا آغاز کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کونکنی زبان اور ثقافت کے فروغ کے لیے منتظمین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کونکنی کے لہجے مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن اس زبان سے وابستہ لوگوں کے دل ایک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوا میں کونکنی کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، جبکہ منگلورو اور ساحلی کرناٹک میں کونکنی بولنے والی برادریوں نے اپنی محنت اور وابستگی کے ذریعے زبان و ثقافت کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ گوا حکومت ریاست سے باہر کونکنی زبان و ثقافت کی نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو بھی سرکاری اعزازات کے لیے زیر غور لائے گی۔
اس موقع پر گوا کے رکن اسمبلی مائیکل لوبو نے آنجہانی ایرک اوزاریو کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کونکنی زبان اور موسیقی کی ترقی کے ساتھ نئی نسل کے فنکاروں کو اپنی صلاحیتیں پیش کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔
سمیلن کی اختتامی تقریب 15 نومبر کو منعقد ہوگی، جس میں کرناٹک کے وزیراعلیٰ کی شرکت متوقع بتائی گئی ہے۔
بھٹکل کی نوائطی زبان کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کا موقع
بھٹکل نوائط محفل کی اس بین الاقوامی پروگرام میں شرکت کو مقامی ادبی و ثقافتی حلقوں کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔ خصوصاً بغیر ساز و موسیقی کے نوائطی کلام کی پیشکش اور سامعین کی جانب سے اس کی پذیرائی نے نوائطی زبان کی منفرد شعری روایت کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایس او نیوز کے شکریہ کے ساتھ




