بنگلورو(فکروخبرنیوز) دودھ اور دہی کی قیمتوں کے اضافہ کے بعد اب عوام پر سرکاری بسوں کے کرایوں میں اضافہ کی مار بہت سخت پڑنے والی ہے۔
حکومتِ کرناٹک نے 5 نومبر سے بسوں کے کرایہ میں اضافہ کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے تحت بنگلورو میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (BMTC) کی بسوں کے کرایوں میں 32 سے 35 فیصد، جبکہ کے ایس آر ٹی سی سمیت دیگر تین سرکاری ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کے کرایوں میں اوسطاً 23 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔اس بات کی تصدیق ٹرانسپورٹ منسٹر بیراتی سریش نے کی ہے۔ وزیر سریش نے یہ بھی کہا کہ حالیہ کابینہ کی میٹنگ میں اس سلسلہ میں غوروخوض ہوا لیکن کرایوں میں اضافہ کا حتمی فیصلہ وزیراعلیٰ شیوا کمار اور ٹرانسپورٹ ڈپاٹمنٹ پر موقوف رکھا گیا۔
وزیر نے اس کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ سفری اخراجات اور محکمہ کو درپیش مالی بحران کی وجہ سے کرایوں میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ اسی طرح مرکزی حکومت نے چار مرتبہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ ان تمام وجوہات کی وجہ سے تقریباً 9 ہزار کروڑ روپیے کے خسارے کا سامنا ہے۔
وزیر ٹرانسپورٹ نے واضح کیا کہ کرایوں میں اضافے کا تعلق ریاستی حکومت کی شکتی اسکیم سے نہیں ہے، جس کے تحت اہل خواتین کو سرکاری بسوں میں مفت سفر کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق اس اسکیم کے تحت سفر کرنے والی خواتین کے ٹکٹوں کی رقم حکومت ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کو ادا کرتی ہے۔
واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے یکم نومبر سے نندنی دودھ کی قیمت میں بھی آٹھ روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔ دودھ اور دیگر دودھ سے بنی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے چند ہی دن بعد بسوں کے کرایے بڑھانے کے فیصلے سے روزانہ سفر کرنے والے مسافروں، ملازمین اور عام شہریوں کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔




