بھٹکل (رپورٹ: عبد اللہ آرمار ندوی) جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے قیام کے اولین ایام ہی سے یہ کوشش رہی ہے کہ طلبہ کو علمی و عملی دونوں اعتبار سے مضبوط، پختہ اور باصلاحیت بنایا جائے، تاکہ وہ معاشرے میں ایک مؤثر اور قائدانہ کردار ادا کرسکیں۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر طلبہ کی علمی نشوونما، فکری پختگی اور شخصی تعمیر کے لیے مختلف تعلیمی و تربیتی وسائل اور ذرائع اختیار کیے جاتے رہے ہیں۔
آج سے تقریباً ایک دہائی قبل، جب جامعہ اسلامیہ، جامعہ آباد میں شعبۂ ثانویہ کا قیام عمل میں آیا، تو اسی کے ساتھ اساتذۂ کرام کی فکر و دوراندیشی کے نتیجے میں طلبہ کے لیے مکتبہ بھی قائم کیا گیا۔ اس میں طلبہ کی علمی ضروریات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مختلف فنون اور موضوعات سے متعلق مفید کتابیں جمع کی گئیں اور انہیں باقاعدہ ترتیب کے ساتھ رکھا گیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ جب طلبہ کی علمی ضروریات میں وسعت پیدا ہوئی تو زمانے کے تقاضوں اور طلبہ کی مختلف علمی سطحوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مکتبہ میں بھی جدت اور بہتری لائی گئی۔ کتابوں کو طلبہ کی سطح اور استعداد کے اعتبار سے منظم کیا گیا، مختلف موضوعات اور فنون کے لحاظ سے ان کی درجہ بندی کی گئی اور مکتبہ کو ایک خوب صورت، منظم اور پُرکشش کتب خانے کی صورت دی گئی۔ اسی کے ساتھ عربی و اردو و انگریزی کی متنوع اور مفید کتابوں کا ایک قابلِ ذکر ذخیرہ بھی جمع کیا گیا۔ کتابوں کی ترتیب اس انداز سے کی گئی کہ ہر طالب علم اپنی علمی سطح، ذوق اور ضرورت کے مطابق مطلوبہ کتاب تک آسانی سے رسائی حاصل کرسکے۔
اس ترتیب و تنظیم کا مقصد محض کتابوں کو محفوظ رکھنا نہیں، بلکہ طلبہ اور کتاب کے درمیان ایک ایسا مضبوط رشتہ قائم کرنا ہے جو ان کے علمی سفر کو مسلسل آگے بڑھاتا رہے اور ان کے اندر مطالعے، تحقیق اور جستجو کا ذوق پروان چڑھائے۔
گزرتے وقت کے ساتھ طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد اور مکتبہ میں جگہ کی تنگی کے پیشِ نظر اسے مزید وسعت دی گئی۔ اس توسیع کا مقصد صرف جگہ میں اضافہ کرنا نہیں، بلکہ طلبہ کے لیے ایک ایسا کشادہ، پُرسکون، خوش گوار اور مطالعے کے لیے موزوں ماحول فراہم کرنا ہے، جہاں وہ یکسوئی کے ساتھ کتابوں سے اپنا رشتہ مضبوط کرسکیں اور اپنی علمی و فکری تشنگی بجھا سکیں۔
یہ توسیع و تجدید دراصل جامعہ اسلامیہ بھٹکل کی اسی مسلسل علمی کاوش کا ایک اور روشن باب ہے، جس کا مقصد طلبہ کو صرف نصابی تعلیم تک محدود رکھنا نہیں، بلکہ انہیں وسیع المطالعہ، وسیع النظر، صاحبِ فکر اور معاشرے کی علمی رہنمائی کے اہل بنانا ہے۔
چنانچہ مورخہ 21 جمادی الاولیٰ 1446ھ، مطابق 2 نومبر 2026ء، بروز پیر، صبح 12 بجے جدید مکتبۂ ثانویہ کا افتتاح عمل میں آیا۔ اس موقع پر ایک مختصر مگر پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا آغاز درجہ چہارم عربی کے طالب علم حافظ باسل بن عبد البصیر منیری کی تلاوت سے ہوا، نظامت کے فرائض مکتبہ ثانویہ کے ذمہ دار استاذ جامعہ مولانا فواز منصوری ندوی نے انجام دی۔ تقریب کے ایک اہم اور قابلِ ذکر حصے کے طور پر مکتبہ کے تاریخی ارتقاء، اس کے قیام سے لے کر توسیع و تجدید کے مختلف مراحل اور اس کے علمی سفر کو اجاگر کرتی ہوئی ایک خوب صورت ڈاکیومنٹری بھی پیش کی گئی، جس کی ترتیب و پیشکش مولانا عبد الرشید شہراز شاہ بندری ندوی اور مولانا صہیب کولا ندوی کی نگرانی میں عمل میں آئی۔ اس ڈاکیومنٹری نے مکتبہ کے پس منظر اور اس کے تدریجی ارتقاء کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔اس میں ثانویہ کے طالب علم اسعد بن مولانا عدنان قاضی متعلم (چہارم عربی) کی آواز سامعین کو اپنی طرف متوجہ کررہی تھی ۔
اس افتتاحی تقریب میں نائب صدرِ جامعہ مولانا عبد المتین منیری صاحب، ناظمِ جامعہ مولانا طلحہ رکن الدین ندوی صاحب، مہتممِ جامعہ مولانا مقبول احمد کوبٹے ندوی صاحب، نائب مہتمم مولانا عبد العلیم خطیب ندوی صاحب، رکن شوری مولانا الیاس جاکٹی ندوی صاحب اور دیگر مہمانانِ گرامی و ذمہ داران نے شرکت فرمائی۔
اس موقع پر مہمانان نے مکتبہ کی توسیع و تجدید کو جامعہ کی علمی و تعلیمی ترقی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مکتبہ طلبہ کے لیے علمی استفادے، مطالعے اور فکری نشوونما کا ایک مؤثر مرکز ثابت ہوگا۔
اس علمی و تربیتی سفر میں جن اساتذہ، ذمہ داران اور مخلصین نے اپنا وقت، صلاحیتیں اور وسائل صرف کیے، وہ یقیناً تحسین و تشکر کے مستحق ہیں۔
جامعہ کے تمام ذمہ داران، اساتذہ ودیگر معاونین کی خدمت میں ہدیہ تشکر پیش کیا گیا خصوصی طور پر نائب صدر جامعہ مولانا عبدالمتین منیری صاحب جن کی توجہ، سرپرستی اور تعاون سے یہ علمی کوشش آگے بڑھ رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ اس مکتبہ کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور اسے طلبہ کے لیے نافع و مفید بنائے اور تمام معاونین کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔




