مغربی بنگال میں چوبیس گھنٹوں کے دوران دو ملزمان پولیس مبینہ انکاؤنٹر میں ہلاک، اپوزیشن نے ماورائے عدالت ہلاکتوں پر اٹھائے سنگین سوالات

مغربی بنگال میں چوبیس گھنٹوں کے اندر دو الگ الگ مجرمانہ مقدمات میں نامزد ملزمان پولیس کے ساتھ مبینہ جھڑپوں کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ دونوں ملزمان نے حراست کے دوران پولیس کا اسلحہ چھین کر فرار ہونے کی کوشش کی، جس کے جواب میں کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں وہ مارے گئے۔ یکے بعد دیگرے پیش آنے والے ان واقعات کے بعد ریاست میں شدید سیاسی اور سماجی تنازع پیدا ہو گیا ہے، جہاں اپوزیشن جماعتوں نے ریاستی پولیس پر ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے سخت تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق مرشد آباد ضلع کے شمشیر گنج علاقے میں بی جے پی کارکن سجیت مونڈل کے قتل کیس کے مرکزی ملزم سمیع الحق عرف سمیع الشیخ کو منگل کے روز سی آئی ڈی کی ٹیم کرائم سین کی تفتیش اور نشاندہی کے لیے پرانے ڈاک بنگلہ علاقے میں لے کر گئی تھی۔ پولیس افسران کا بیان ہے کہ واپسی کے دوران ملزم نے موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی اور پولیس اہلکار سے بندوق چھین کر ٹیم پر گولیاں چلا دیں۔ جوابی کارروائی میں سمیع الحق شدید زخمی ہوا، جسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ سجیت مونڈل اٹھائیس اگست کو لاپتہ ہوئے تھے اور بعد ازاں ان کی لاش ایک ندی سے برآمد ہوئی تھی جس کے بعد سمیع الحق سمیت دیگر افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

اس واقعے سے قبل پیر کی نصف شب کے قریب شمالی چوبیس پرگنہ کے گائے گھاٹا علاقے میں بھی بالکل اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا۔ گیارہویں جماعت کی ایک طالبہ کی آبرو ریزی اور قتل کے سنگین مقدمے میں گرفتار پرہلاد داس نامی ملزم پولیس تحویل کے دوران مارا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے تفتیش کاروں سے اسلحہ چھین کر حملہ آور ہونے کی کوشش کی تھی، جس کے نتیجے میں دفاعی فائرنگ میں اس کی جان چلی گئی۔ مذکورہ ملزم کو اتوار کے روز گرفتار کیا گیا تھا اور پولیس کے دعوے کے مطابق اس نے تفتیش کے دوران جرم کا اعتراف بھی کر لیا تھا۔ جولائی میں بھی باروئی پور میں نابالغ بچی کے قتل کیس میں نامزد ایک ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔

چوبیس گھنٹوں کے دوران پیش آنے والے ان دونوں مقابلوں میں ایک ہی طرز پر اسلحہ چھیننے کے دعووں نے عوامی حلقوں، سول سوسائٹی اور سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کا خطرناک رجحان قرار دیا ہے۔ ترنمول کانگریس کے سینئر رہنما شوبھن دیب چٹوپادھیائے نے اس نوعیت کے انکاؤنٹرز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے اقدامات سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش ہوتے ہیں جبکہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی برقرار رہنی چاہیے۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے ریاستی سکریٹری محمد سلیم نے ان ہلاکتوں کو ’من گھڑت اور جعلی انکاؤنٹرز‘ قرار دیتے ہوئے امن و امان کی صورتحال پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کو بائی پاس کر کے پولیس کا منصف بن بیٹھنا قانون کے لیے تباہ کن ہے۔ دوسری جانب سینئر کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے پولیس کی پیشہ ورانہ کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ملزمان ہر بار اتنی آسانی سے تربیت یافتہ پولیس فورس کا اسلحہ چھین لیتے ہیں تو محکمہ پولیس کی صلاحیت پر سوال اٹھتا ہے کہ آیا پولیس اہلکاروں کو نئی تربیت کی ضرورت ہے یا کہانی کچھ اور ہے۔ اس کے برعکس بی جے پی رہنما دلیپ گھوش نے کہا کہ بعض اوقات عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے پولیس کو سخت اور غیر روایتی فیصلے لینے پڑتے ہیں۔

شیئر کریں۔