سربیا میں پارلیمانی انتخابات کے تاریخی نتائج اور صدر الیگزینڈر ووچچ کے حکمران اتحاد کی غیر متوقع شکست کے فوری بعد ملک کے سرکاری نشریاتی ادارے نے براہ راست نشریات کے دوران ناظرین سے معافی مانگ کر میڈیا کی تاریخ میں ایک غیر معمولی مثال قائم کر دی ہے۔ سربیا کے سرکاری براڈکاسٹر ’ریڈیو ٹیلی ویژن آف وئیوودینا‘ (RTV) کے خبروں کے اہم بلیٹن کے دوران سینئر اینکر گوران ایرور نے ناظرین کے سامنے اعتراف کیا کہ ادارہ برسوں سے اپنے بنیادی صحافتی فرائض انجام دینے میں مکمل طور پر ناکام رہا اور عوام تک حقائق پہنچانے کے بجائے یکطرفہ اور حکومتی بیانیے کو فروغ دیتا رہا۔
براہ راست نشریات میں اینکر نے ادارے کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری سروس نے طویل عرصے سے سچائی پر آنکھیں بند کر رکھی تھیں، اہم عوامی مسائل پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی گئی اور اقتدار کے ایوانوں سے کوئی تلخ یا ضروری سوال نہیں پوچھا گیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ادارے کے اندر کچھ ایماندار صحافیوں اور ایڈیٹرز نے آزادانہ اور بااصول صحافت کے دفاع کے لیے طویل مزاحمت کی لیکن وہ وقت پر اس دباؤ کا مقابلہ نہ کر سکے، جس پر ادارہ عوام اور ناظرین سے غیر مشروط معافی کا طلبگار ہے۔
اس آن ایئر معافی کے فوراً بعد ادارے کی اعلیٰ قیادت میں بڑے پیمانے پر ہلچل مچ گئی۔ چینل کے مرکزی پروگرام کے چیف ایڈیٹر اور میزبان نیناد چاچچ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد بلاژو پوپووچ کو ان کی جگہ عبوری ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جبکہ پریدرگ نووکووچ کو نیا پروگرام ڈائریکٹر تعینات کیا گیا ہے۔ صحافیوں کی خود مختار یونین کافی عرصے سے چینل کی حکومت نوازی اور غیر جانبدارانہ ساکھ کی تباہی کے خلاف قیادت کی برطرفی کا مطالبہ کر رہی تھی، جسے انتخابی نتائج کے بعد بالآخر نافذ کرنا پڑا۔
یہ سنسنی خیز اعتراف اس وقت سامنے آیا جب سربیا کے پارلیمانی انتخابات میں انسداد بدعنوانی مہم سے ابھرنے والی نوجوانوں اور طلبہ کی نمائندہ جماعت ’اسٹوڈنٹ لسٹ‘ نے صدر الیگزینڈر ووچچ کے دیرینہ اقتدار کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے زبردست کامیابی حاصل کی۔ عوامی فتح کے بعد دارالحکومت بلغراد سمیت مختلف شہروں میں شہریوں نے حکومت نواز نجی میڈیا اداروں کے خلاف شدید احتجاج شروع کر دیا۔ سابق صدر کے حامی سمجھے جانے والے چینل ’انفارمر ٹی وی‘ کے مرکزی دفتر میں درجنوں مشتعل مظاہرین داخل ہو گئے اور چیف ایڈیٹر ڈریگن ووچیچووچ کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ صورتحال کے پیش نظر پولیس نے ایک اور حکومت نواز چینل ’پنک ٹی وی‘ کے دفاتر کو گھیرے میں لے کر سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔
سربیا کے صحافیوں کی خود مختار انجمن نے انفارمر ٹی وی کا نشریاتی لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ اٹھاتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ چینل نے قانون اور اخلاقیات کی مسلسل دھجیاں اڑائی ہیں۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں سربیا 180 ممالک میں سے 104 ویں نمبر پر آ چکا ہے، جو کہ بلقان اور یورپی خطے میں پریس کی آزادی کی بدترین سطح سمجھی جاتی ہے۔ نئی سیاسی قیادت نے اب ملک میں سخت میڈیا ریگولیشنز متعارف کرانے کا عندیہ دیا ہے تاکہ سرکاری و نجی اداروں کو پروپیگنڈا کے بجائے حقیقی معنوں میں عوامی ترجمان بنایا جا سکے۔
عوامی حقوق اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سربیا میں ابھرنے والی یہ لہر دیگر آمرانہ رجحانات والے خطوں کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ اقتدار کا جھوٹا سہارا بننے والے میڈیا ادارے عوامی بیداری کے سامنے اپنی ساکھ قائم نہیں رکھ سکتے۔ جب تک صحافت میں جانبداری کے بجائے مظلوم طبقات، اقلیتوں اور تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کو یکساں ترجیح نہیں دی جائے گی، تب تک میڈیا عوام کا اعتماد بحال کرنے میں ناکام رہے گا۔




