دیوالی کی خریداری صرف تلک دھاری اورجئے شرئ رام کا نعرہ لگانے والوں سے کریں : نتیش رانے کی ہندووں سے اپیل

مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما نتیش رانے کے ایک حالیہ بیان نے ریاست میں نیا سیاسی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ممبئی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ہندو برادری سے اپیل کی کہ دیوالی کے تہوار کے موقع پر پٹاخے اور دیگر اشیاء صرف ان دکانداروں سے خریدی جائیں جن کی پیشانی پر تلک لگا ہو، جو مذہبی نعرے لگاتے ہوں اور جنہیں مذہبی دعائیں یاد ہوں۔ اس بیان کے سامنے آتے ہی اپوزیشن جماعتوں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے معاشرے میں منافرت اور فرقہ وارانہ تقسیم پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں نے اس بیان کو بھارت کی آئینی اور سیکولر روایات پر حملہ قرار دیا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے رہنما بھائی وریندر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی آزادی میں تمام مذاہب کے ماننے والوں نے مشترکہ طور پر قربانیاں دی تھیں اور بھارت کا آئین سبھی شہریوں کو برابری کی بنیاد پر معاشی اور سماجی آزادی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار اور سیاست کی خاطر نفرت کا بیانیہ پیش کرنے کے بجائے باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیا جانا چاہیے اور مذکورہ رہنما کو اپنے بیان پر فوری طور پر معافی مانگنی چاہیے۔

مہاراشٹر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور سینیئر کانگریس لیڈر وجے وڈیٹیوار نے کہا کہ کسی بھی عوامی نمائندے کو آئین ہند اور اپنے حلف کی پاسداری کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہواروں کے موقع پر نفرت اور تفریق کو ہوا دینا آئینی اصولوں کے منافی ہے۔ ادھر سابق رکن پارلیمنٹ حسین دلوائی نے اس رجحان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ اور تجارت کا نظام مذہبی شناخت سے بالاتر ہو کر اشیاء کے معیار، قیمت اور باہمی اعتماد پر چلتا ہے، لہٰذا اس قسم کی تفرقہ انگیز اپیلیں عام صارفین کے معاشی رویوں پر منفی اثر ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوں گی۔

سیاسی اور سماجی تجزیہ کاروں کے مطابق دیوالی جیسے روایتی اور معاشی سرگرمیوں سے بھرپور تہوار کے موقع پر اس نوعیت کے بیانات سے نہ صرف چھوٹے تاجروں اور ریڑھی پٹری والوں کا روزگار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی دھچکا پہنچتا ہے۔ مہاراشٹر میں پہلے بھی مختلف میلوں اور تہواروں کے دوران اقلیتی تاجروں کے خلاف اس قسم کی مہم چلانے کی کوششیں سامنے آتی رہی ہیں جن پر سول سوسائٹی اور قانونی حلقے گہری تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

شیئر کریں۔