سپریم کورٹ آف انڈیا نے آندھرا پردیش کے بلدیاتی انتخابات میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے امیدواروں کو پرچہ نامزدگی داخل کرنے سے مبینہ طور پر روکے جانے کے الزامات پر وسیع پیمانے پر تحقیقات کا حکم دینے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ یہ متنازعہ حقائق کا معاملہ ہے اور جو امیدوار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہیں غیر قانونی طور پر انتخابی عمل سے باہر رکھا گیا، انہیں انفرادی سطح پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ انہوں نے پرچے داخل کرنے کی ٹھوس کوشش کی تھی اور انہیں زبردستی روکا گیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی والی بینچ نے سماعت کے دوران کہا کہ جاری انتخابی عمل کے بیچ عدالت ہر انفرادی شکایت کی الگ سے چھان بین نہیں کر سکتی۔
وائی ایس آر کانگریس نے ریاست کی حکمراں جماعت تلگو دیشم پارٹی کے کارکنوں پر سنگین الزامات عائد کیے تھے کہ کڈپہ، تروپتی، پنگانور اور رائچوٹی سمیت متعدد حساس علاقوں میں ان کے امیدواروں کو ڈرایا دھمکایا گیا اور سرکاری مراکز پر پرچے جمع کرنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ وائی ایس آر کانگریس نے ابتدا میں آندھرا پردیش ہائی کورٹ سے رجوع کر کے نامزدگی کی تاریخوں میں توسیع اور اضافی مراکز قائم کرنے کی اپیل کی تھی، لیکن ہائی کورٹ کے انکار کے بعد انیس اکتوبر کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔
اس سے قبل اکیس اکتوبر کو ہونے والی سماعت پر سپریم کورٹ نے ریاستی الیکشن کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ وہ متاثرہ امیدواروں کی جانب سے پیش کردہ الیکٹرانک شواہد اور شکایات کا جائزہ لے، اور جہاں امن و امان کی خرابی کے باعث نامزدگیاں متاثر ہوئی ہوں وہاں مدت میں توسیع کی جائے۔ منگل کے روز عدالتی کارروائی کے دوران بنچ نے ریکارڈ پر لیا کہ الیکشن کمیشن نے ان احکامات کی روشنی میں کارروائی کرتے ہوئے بعض مقامات پر پرچے داخل کرنے کی آخری تاریخوں میں توسیع کی تھی۔ وائی ایس آر کانگریس کے وکیل منیندر سنگھ نے موقف اختیار کیا کہ انتخابی کمیشن سے رجوع کے باوجود کئی امیدوار عمل سے محروم رہے، تاہم عدالت نے جاری شیڈول کے دوران ایسی عام شکایات پر تفتیش شروع کرنے سے معذرت کر لی۔
عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ انتخابی جمہوریت میں شفافیت اولین شرط ہے، اور اسی بنیاد پر عدالت مستقبل کے انتخابی عمل کو تحفظ دینے کے لیے جامع رہنمائی یا گائیڈ لائنز جاری کرنے پر غور کرے گی، جس میں پولنگ اور نامزدگی کے تمام اہم مراحل کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو محفوظ رکھنا بھی شامل ہوگا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد انتخابی عمل کے دوران ریاستی مشینری کے ناجائز استعمال اور اپوزیشن کے حقوق کو سلب کرنے کے خدشات کا مستقل حل نکالنا ہے۔
آندھرا پردیش کے ایک سو شہری بلدیاتی اداروں میں پولنگ کا عمل یکم نومبر کو منعقد ہونا طے ہے، جبکہ ووٹوں کی گنتی تین نومبر کو عمل میں لائی جائے گی۔ تلگو دیشم پارٹی مرکز میں برسرِ اقتدار نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کا ایک اہم اتحادی جزو ہے، جس کے باعث ریاست کے ان بلدیاتی انتخابات میں سیاسی کشیدگی اور انتظامی شفافیت کے سوالات شدت اختیار کر چکے ہیں۔




